ملالہ کیوں سب سے ممتاز ہے؟

راشد حمزہ

ملالہ فکر کے مخالفین عمومی طور پر ایک سوال تکرار کے ساتھ پوچھتے ہیں کہ ملالہ کی پاکستان کے لئے خدمات کیا ہیں جو اسے انھیں نوبل انعام دیا گیا ہے، اسی طرح یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ملالہ کے ساتھ دوسری لڑکیوں کو بھی گولیاں لگی تھیں انکا کس نے پوچھا، وہ کیوں مشہور نہیں ہوگئیں، جس طرح یہ سوالات بے بنیاد اور معاملے کو بنیاد سے نہ سمجھنے سے پیدا ہوئے ہیں اسی طرح ملالہ پر بہت سارے الزامات محض اس وجہ سے لگائے جاتے ہیں کہ مغرب میں اسے پذیرائی مل رہی ہے وہ دنیا کے بااثر ترین شخصیات میں شامل ہوچکی ہیں، بڑے بڑے ترقی یافتہ ملکوں کے حکمران ان سے ملنے سعادت سمجھتے ہیں،،ــــ

اس سوال کا کہ ملالہ نے پاکستان کی کونسی خدمت کی ہے جواب یہ ہے کہ ملالہ عالمگیر حیثیت کی حامل ہوگئی ہے اس نے ایسے حالات میں طالبان کے خلاف آواز اٹھائی تھی جب وادئ سوات پر جبر و جہالت قابض تھی، جہل و ظلمت کے تاریک اور بد رنگ سائے پوری وادی کو لپیٹ میں لئیے ہوئے تھے، لوگ اپنی عام سی باتیں بھی اس وجہ سے چھپ چھپ کر کرتے تھے کہ کہیں جبر کے خون آشام درندوں کے کانوں میں نہ پڑجائے ان کی طبعیت پر گراں نہ گزرے،ــــ

بے حد معمولی باتوں پر لوگوں کے گلے کاٹے جاتے تھے، مجھے سہراب چوک میں حلال کئے گئے وہ دکاندار یاد آرہے ہیں جو سی ڈیز کے کاروبار سے وابستہ تھے، لڑکیوں کا گھر سے باہر نکلنے پر پابندی تھی، لڑکیوں کے سکول روئے زمین پر سب سے بدترین جگہیں قرار دئیے گئے تھے، سکولوں کو بموں سے اڑایا جاتا تھا، ایسے حالات میں بارہ سال کی چھوٹی سی بچی ملالہ یوسفزئی نے عظیم بہادری اور بڑی جراءت و ہمت کا مظاہرہ کیا، علم دشمنوں کے خلاف آواز اٹھائی، لڑکیوں کی تعلیم کی بات کی، اپنی درسگاہوں کی تقدس و حفاظت کی بات کی، ان کی آواز کو عالمگیر حیثیت مل گئی کیوں کہ علم دشمن دنیا کے ہر گوشے میں موجود ہے لیکن ملالہ جتنے بہادری سے بات کرنے والے موجود نہیں..ملالہ یوسفزئی کے ساتھ جو دوسری لڑکیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، ان کو پذیرائی اس لئے نہیں ملی کہ اس واقعے سے پہلے ان کا کوئی کارنامہ نہیں تھا، محض طالبان کی گولی کا شکار ہوجانا کارنامہ تو نہیں کہلایا جاسکتا، ملالہ یوسفزئی پر گولیاں اس لئے چلائی گئی تھیں کہ وہ اس وقت طالبان کے خلاف موثر اور عالمگیر آواز کی صورت میں ڈھل چکی تھی،..

عموما یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ ملالہ یوسفزئی نے 14 سال کی عمر میں ڈائری کیسے لکھی، ملالہ نے ڈائری لکھی ہے یا اس کے باپ نے لکھی ہے جس نے بھی لکھی ہے نام ملالہ کا استعمال ہوا ہے، اگر اس کے باپ نے بھی لکھی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ بہادر ہونے کے ساتھ ساتھ ہوشیار بھی ہیں، اُس نے حالات کے جبر سے اپنی بیٹی کی شخصیت اور حیثیت کی تعمیر کی اور اسے دنیا کے سامنے ہیرو بناکر پیش کیا دنیا نے تسلیم بھی کرلیا، پھر بھی اگر کسی کو یقین نہیں کہ ملالہ چودہ سال کی عمر میں ڈائری کیسے لکھ سکتی ہے تو وہ اس میں یقین رکھے کہ محمد بن قاسم نے سترہ سال کی عمر میں سندھ فتح کیا تھا، مولانا آزاد نے تیرہ سال کی عمر میں الہلال رسالہ جاری کیا تھا اور عبدالماجد دریا آبادی تیرہ سال کی عمر میں نامور اخباروں کے لئے مضامین لکھتے تھے...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *