بھارتی ایکریڈٹیڈ اور ہمارے ”بندے کے پُتر“ صحافی

میں نے تو عرصہ ہوا یہ کارڈ بنوایا نہیں۔ برطانوی راج کے دنوں میں لیکن برصغیر پاک وہند میں ایکریڈیشن کارڈ متعارف ہوا تھا۔ آزاد ہو جانے کے بعد بھی بھارت اور پاکستان کی ”اطلاعات“ کے نام پر بنائی وزارتوں نے اس کارڈ کو برقرار رکھا۔ اس کارڈ کے اجراءکے ذریعے ریاست کسی شخص کی پیشہ ور صحافی والی حیثیت کو سرکاری سطح پر تسلیم کرلیتی ہے۔ اس کا نام اس فہرست میں ڈال دیا جاتا ہے جو ان ”سینئر صحافیوں“ پر مشتمل ہوتی ہے جنہیں اعلی سطحی بریفنگوں میں (جو کسی زمانے میں زیادہ تر Off the Recordہوا کرتی تھیں) مدعو کئے جانے کا حق مل جاتا ہے۔
تن خواہوںکے محتاج صحافیوں کے لئے بریفنگوں میں مدعو کئے جانے سے کہیں زیادہ اہم مگر وہ سہولتیں تھیں جو اس کارڈ کی بدولت نصیب ہوتیں۔ مثال کے طور پر ریل یا جہاز میں سفر کے لئے ترجیحی بنیادوں پر نشست کی فراہمی اور کرایوں میں رعایت ۔آج سے 20برس قبل تک میں اس کارڈ کے طفیل اسلام آباد سے کراچی یک طرفہ کرایہ دے کر PIAسے دو طرفہ سفر کا ٹکٹ حاصل کرتا تھا۔
موبائل فونز متعارف ہونے سے قبل پاکستان میں عام شہریوں کے لئے اپنے گھروں میں ٹیلی فون لگوانا ایک بہت ہی اذیت دہ عمل ہوا کرتا تھا۔ ایکریڈیشن کارڈ کا حامل صحافی مگر اسے انتہائی سرعت سے بطور حق حاصل کرلیتا۔ اس حق کو میں نے بھی اپنی شادی سے ایک ہفتے قبل استعمال کیا تھا۔ کرائے کے جن مکانوں میں اس واقعے سے قبل رہا وہاں فون کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔ ویسے بھی صبح اُٹھ کر دفتر چلاجاتا تھا اور رات دو بجے سے قبل گھر لوٹنے کی عادت نہیں تھی اور دفتر کے فون کو بے دریغ انداز میں استعمال کیا جاتا تھا۔
پاکستانی صحافی اب ایکریڈیشن کارڈ کے محتاج نہیں رہے۔ جنرل ضیاءکے زمانے میں حکمران اور ادارے اپنی پسند کے صحافیوں کو بریفنگ کے لئے مدعو کرتے تھے۔ ویسے بھی اب Whatsappکا زمانہ ہے۔ اس کے ذریعے کسی خبر کو اچھالنے کا حکم صادر ہوجاتا ہے اور ہمارے رپورٹرز دل وجان سے اس کی تعمیل کرتے ہوئے اپنا ”قومی فرض“ نبھادیتے ہیں۔
بھارت آبادی کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی ”جمہوریت“ ہوتے ہوئے بھی ریاستی معاملات برطانوی دور کی متعارف کردہ دفتری روایات کے مطابق چلاتا ہے۔ ایکریڈیشن کارڈ وہاں کے صحافیوں کے لئے ان دنوں بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ کسی صحافی کے پاس یہ کارڈ ہو تو معلومات تک رسائی کے لئے وہ قانونی اعتبار سے بہت طاقت ور ہو جاتا ہے۔ کسی وزیر یا افسر کے لئے اس کے سوالات کے جواب فراہم نہ کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔مودی سرکار نے اپنے صحافیوں کا مکو ٹھپنے کے لئے لہذا اس کارڈ کو فسطائی انداز میں استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
صحافت کے معیارپر نگاہ رکھنے کے لئے بھارت میں دو ادارے کام کررہے ہیں۔ پریس کونسل اور نیوزبراڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن۔ یہ ادارے ”خودمختار“ تصور کئے جاتے ہیں اگرچہ مودی سرکار کی ”نظریاتی“ ترجیحات نے اس خودمختاری کی حدود طے کردی ہیں۔ فیصلہ یہ ہوا کہ اگر حکومت یا کوئی عام شہری ان دو اداروں میں سے کسی ایک کے پاس یہ شکایت لے کر جائے کہ فلاں صحافی نے فلاں Fake News دی ہے تو مذکورہ ادارے فی الفور اس صحافی کا ایکریڈیشن کارڈ معطل کردیں گے۔ اس معطلی کے 15دنوں کے اندر یہ طے کیا جائے گا کہ رپورٹ ہوئی خبرFakeتھی یا نہیں۔ اگر اس کی دی ہوئی Newsکا Fakeہونا ثابت ہوجائے تو رپورٹ ہوئے صحافی کا ایکریڈیشن کارڈ منسوخ کردیا جائے گا۔
مودی سرکارکی جانب سے اچانک ہوئے اس اعلان کے بعد بھارتی صحافی بہت چراغ پا ہیں۔ دہائی مچائی جارہی ہے کہ صحافت کو کنٹرول کرنے کے لئے نریندرمودی ویسے ہی ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع ہوگیا ہے جو اندرا گاندھی نے ایمرجنسی کے دنوں میں اختیار کئے تھے۔ نامنظور نامنظور کے نعروں کے ساتھ آزادی صحافت کے لئے جدوجہد کو تیز کرنے کے دعوے ہورہے ہیں۔ ایک پیشہ ور صحافی ہوتے ہوئے میری نیک تمنائیں یقیناً اپنے بھارتی ہم عصروں کے لئے۔ اگرچہ اس یا ددہانی کے بعد کہ اندراگاندھی کی لگائی ایمرجنسی کے سامنے بھی بھارتی صحافیوں کی بے پناہ اکثریت ڈھیر ہوگئی تھی۔
1984ءکے بعد میری ان سے ملاقاتیں ہوتیں تو بہت فخر سے میں پاکستانی صحافیوں کا ذکر کرتا جنہیں ضیاءدور میں برسرِ عام لگائے کوڑے بھی پوری طرح قابو نہ کر پائے۔ مزاحمت کے ایک نہیں بے شمار دئے مسلسل جلتے رہے۔ آج کے ”جمہوری دور“ میں اگرچہ ہم صحافی بے بس ولاچار ہوئے محسوس کررہے ہیں۔ کیوں؟ اس سوال کا تفصیلی جواب میرے پاس موجود ہے۔ اسے بیان کرنے کی مگر ہمت نہیں۔ لکھنے اور بولنے کے سوا مجھے رزق کمانے کا کوئی اور طریقہ آتا ہی نہیں۔کونے میں بیٹھ کر دہی کھانے ہی میں عافیت ہے۔
معاملہ مگر پاکستان اور بھارت کی صحافت تک ہی محدود نہیں۔ امریکہ ان دنوں دنیا کی واحد سپرطاقت تصور کی جاتی ہے۔یہ جمہوری نظام کی سب سے توانا علامت بھی ہے۔ وہاں کے آئین کی پہلی ترمیم آزادی¿ صحافت کو یقینی بناتی ہے۔ اس ملک کاحال ہی میں حیران کن انتخابی مہم کے بعد منتخب ہوا صدر مگر دن میں کئی بار Fake Newsکا حقارت سے ذکر کرتا ہے۔ صرف اخبارات اور ٹی وی نیٹ ورکس ہی نہیں ان کے لئے کام کرنے والے چند نمایاں رپورٹروں،کالم نگاروں اور اینکر خواتین وحضرات کے نام لے کر ان کی لعن طعن کرتا ہے۔ امریکی صحافت کو قابو میں لانے کے لئے وہاں کی ریاست کے پاس مناسب Toolsمگر موجود نہیں ہیں۔ صحافی اپنا کام جاری رکھے ہوئے اور امریکی صدر ان کے خلاف محض واویلا مچانے میں مصروف رہتا ہے۔کئی ٹی وی اینکرز جو گزشتہ کئی برسوں سے Ratingsکی دوڑ میں بہت پیچھے جاچکے تھے ٹرمپ کی جانب سے مسلسل ہوئی مذمت کی وجہ سے اب اپنے شوز کے لئے کھڑکی توڑ رش لے رہے ہیں۔ ان میں سے چند ایک کو بلکہ کچھ ٹی وی نیٹ ورکس نے پرکشش تن خواہوں کے ذریعے اپنے لئے ”توڑ“ لیا ہے۔
بھارت جیسی ریاستوں کو لیکن سماجی وسیاسی علوم کے ماہر Over Developed Statesکہتے ہیں۔ ایسی ریاستوں کے حکمرانوں اور اداروں کے پاس ”تخریب کار“ صحافیوں کا منہ بند کرنے کو ہزار ہا Toolsموجود ہوتے ہیں۔ سیدھی اُنگلیوں سے گھی نہ نکلے تو ترکی کے ”سلطان اردوان“ کے متعارف کردہ ماڈل کی پیروی بھی کی جاسکتی ہے۔
مودی سرکار بھی ایک ”نظریاتی حکومت“ ہے۔ ابھی تک وہ ”اردوان ماڈل“ کو محض سیٹھوں پر اثرانداز ہوتے ہوئے بہت مو¿ثر طریقے سے استعمال کررہی تھی۔ بات مگر بنی نہیں۔ بھارت کے انتخابات میں صرف ایک سال باقی رہ گیا ہے۔ ان میں اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لئے بھارتی صحافت کی ”صفائی“ کے لئے مودی سرکار کو شدید کانٹ چھانٹ کرنا ہوگی۔
نئے انتخابات کے لئے ہمارے ہاں بھی چند ہی ماہ باقی رہ گئے ہیں۔ رب کا مگر سوبار شکر کہ ہماری صحافت کا بیشتر حصہ سرجھکائے بندے کا پتر بن چکا ہے۔شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی ایک ”فریادی“ ہے۔ مجھے گھبرانے کی لہٰذا کوئی ضرورت نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *