مرے تھے جن کے لیے

یہ اپنے بابا رحمتے بھی بہت عجیب سے ہیں کبھی تو بڑے سیانے معلوم ہوتے ہیں۔۔۔ جیو کی بندش کا مسئلہ انکے سامنے رکھا گیا تو ایک لمبا سا بھاش جھاڑ دیا کہ "اگرقانون نے چینل کو نشریات کا حق دیا ہے تو اللہ کے سوا کوئی اسے بند نہیں کرا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹی وی چینلوں کو آزادی سے کام نہ کرنے دینا آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہے ۔۔ فاضل چیف جسٹس نے مزید یہ بھی کہا کہ پیمرا نے چینل کھولنے کا حکم جاری کردیا ہے ،ہم اس معاملے میں کیا کردارادا کر سکتے ہیں؟ " حالانکہ انکو کرنا تو یہ چاہیئے تھا اور جیسا کہ وہ متعدد کیسیز میں کرتے بھی رہے ہیں کہ فوری طور پہ وزارت داخلہ کے وزیر اور سیکریٹری اور متاثرہ علاقوں کی پولیس کے اعلیٰ افسران کو طلب کرکے فی الفور ٹی وی چینل کھلوانے اور انکار کرنے والوں کو گرفتار کرکے کل عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکمنامہ جاری کردیتے ۔۔۔ ہماری دانست میں پہلے بنتا تو یہ تھا کہ محترم چیف جسٹس میڈیا کا گھلا گھونٹنے اور اسکی آزادی سلب کرنے کے اس اہم معاملے کا عوامی مفاد میں از خود نوٹس لیتے لیکن بجائے سوموٹو لینے کے انہوں نے کہا کے اس ضمن میں پہلے سے دی گئی متفرق مقدمے کی درخواست کی سماعت نہیں کی جائیگی اور انہوں‌ نے جیو کی بندش کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت ایک نئی درخواست دائر کرنے کی ہدایت دی ۔۔۔ فاضل چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے کہا کہ پیمرا پر حکومت کا کنٹرول ختم کردیں، پیمرا کے قیام کا مقصد اسے آزاد اور خود مختار بنانے سے ہی حاصل ہوگا، ضرورت پڑی تو پیمرا ممبران کی تقرری کا جائزہ بھی لیں گے، فی الحال کسی کو ایکسپوز نہیں کرنا چاہتے، بات چلی تو ممبران کی تقرری سے بھی پردہ اٹھے گا۔ ۔۔۔ اسی طرح جیو کی نشریات بحال کروانے کا حکم جاری کرنے کرنے کے اس کیس میں جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ تو بڑا پرانا مسئلہ ہے،یہ معاملہ کیبل آپریٹروں سے متعلق ہے۔ تو گویا اگر کوئی مسئلہ پرانا ہوجائے تو کیا انصاف اور داد رسی کے قابل نہیں رہتا ۔۔؟؟  یقینناً یہ صورتحال بہت تکلیف دہ اور مایوس کن ہے کیونکہ دوسری طرف عدالت عظمیٰ نے چینلوں کو رکی ہوئی تنخواہیں ‌30 اپریل تک ادا کرنے کا حکمنامہ بھی جاری کردیا ہے ۔۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب کسی کسی چینل کو دکھانے ہی نہ دیا جارہا ہو تو اسکی آمدن آئیگی کہاں سے ۔۔۔ کیونکہ چینلوں کی آمدن تو اشتہارات کی دستیابی سے وابستہ رہتی ہے اور جب ناظرین تک کسی چینل کی رسائی کے ساتھ ، یوں کھلم کھلا کھلواڑ کیا جاتا رہے تو تجارتی ادارے اپنے اشتہارات وہاں چلوانے میں مبھلا ستعد کیوں ہونے لگے ۔۔۔۔ اور جہانتک بات ہے آئین کی شق 184 کے تحت الگ مقدمہ دائر کرنے کی ۔۔۔ تو یہ تو نارمل حالات میں کرنے کی باتیں ہیں جبکہ یہاں تو چینل ملازمین میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے کہرام مچا ہوا ہے اور یہ نامل طریقہء کار کا مقدمہ تو بہت وقت لے لے گا- اس وقت تک چینل کے یہ
وابستگان کیا گھاس پھونس کھا کے گزارا کریں ۔۔۔؟؟ ارباب عدلیہ کو عوامی مسائل کے حل کی ضمن میں فوری داد رسی اور اشک شوئی کا انتظام بہرطور کرنا ہوگا کیوں کہ اس معاملے سے جڑے سینکڑوں ‌نہیں ‌بلکہ ہزاروں‌ملازمین کے چولہے ٹھنڈے ہونے کی نوبت آچکی ہے یہااں اس مرحلے پہ میں اپنی اس حیرت کو بھی نہیں چھپا سکتا جو کہ اس کیس کی بابت وکلاء برادری کی بے اعتنائی بلکہ سرد مہری پہ مبنی رویئے پہ ہے ۔۔۔ کیونکہ اہل صحافت اور صاحبان قانون دونوں ہی معاشرے میں ضابطوں ، قوائد اور قانون کی حکمرانی کے بہت سرگرم حامی و پشتیبان ہوا کرتے ہیں اور ریاست کے چوتھے ستون یعنی میڈیا کی آزادی کا تحفظ کرنا وکلاء برادری کے لیئے ازبس ضروری ہے کہ ابلاغ اور آگہی کے رستے پہ گامزن ہو کر ہی اقوام ترقی کیا کرتی
ہیں ۔۔۔ اور یہاں جیو کی بندش تو سراسر ہوئی ہی قانونی برادری کے ایک اہم مسئلے کو نمایاں کرنے کی وجہ سے ہے کیونکہ جسٹس دوست محمد کھوسہ کو الوداعی ریفرینس نہ دینے اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی تقرری کو چیلنج کرنے والی درخواست کے زیرسماعت لائے جانے کے معاملات کو متعدد خطرات کے باوجود، اسی چینل نے ناظرین کے سامنے پیش کیا تھا ۔۔ لیکن بدقسمتی سے جیو پہ شاہان وقت کا غضب ٹوٹ پڑنے کے اندیشے سچ نکلنے کے بعد اس سلسلے میں وکلاء برادری کی جانب سے سوائے چند حمایتی بیانات دیدینے کے ، اور کوئی ایسا عملی و احتجاجی قدم اٹھتا نظر نہیں آیا کہ جس سے میڈیا کا گلا گھونٹنے کی اس سازش کا تدارک کیا جاسکے ۔۔۔ جبکہ یہ وہی وکلاء برادری ہے کہ جواپنے کسی بھی مفاد پہ پڑنے والی کسی
بھی زک پہ طوفان کھڑا کردیتی ہے ۔۔۔ مجھے یہ کہتے ہوئے بہت افسوس ہے کہ وکلاء برادری نے اپنی ہی آزادیء عمل کی راہ میں کام آجانے والے ایک میڈیا چینل کی قربانی پہ ' اپنی اپنی دیکھ' جیسی مصلحت شعاری کی راہ اپنالی ہے ۔۔۔ جبکہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے سوا لاکھ کالے کوٹوں والے اصحاب کی یہ برادری بجائے خود ایک بہت بڑی طاقت ہے جو کئی معروف 'طاقتوروں ' سے کم طاقتور ہرگز نہہیں اور وہ ملک میں‌ جائز طور پہ بروقت انصاف کی فراہمی اور اسکے لیئے آزاد میڈیا کے کام کو یقینی بنانے کے سلسلے میں اپنے سرگرم اور مؤثر احتجاج سے ایک ایسا تاریخی و مؤثر کردار ادا
کرسکتی ہے کہ آئندہ کسی طالع آزما کی ہمت نہ سکے کہ کہ فرد سے جاننے اور میڈیا کو بتانے اور انکا دفاع کرنے والوں سے انکا مقدمہ لڑنے کا حق چھین سکے ،،، لیکن اس وقت تک تو قانون کی راہداریوں میں بے نیازی بال کھولے سو رہی ہے اور عملی صورتحال یہی ہے کہ بقول شاعر۔۔۔ مرے تھے جنکے لیئے وہ رہے وضو کرتے۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *