وزیراعظم نے ایمنسٹی سکیم کا اعلان کر دیا

اسلام آباد ۔ وزیراعظم نے کالا دھن سفید کرنے اور ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لئے نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں ٹیکس نیٹ ورک کو بڑھانے لیے ڈرافٹ تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،شہریوں کا شناختی کارڈ نمبر ہی ان انکم ٹیکس نمبر ہو گا جبکہ صرف 2فیصد ٹیکس اد ا کرکے بیرونی ممالک سے رقوم لائی جاسکتی ہیں،مثال کے طور پر 100ڈالرزلانے پر 2ڈالر ادا کرنے ہوں گے ۔ تفصیلات کے مطابق شاہد خاقان عباسی کا اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہناتھا کہملک بھر میں صرف 7 لاکھ لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں،حکومت نے انکم ٹیکس کی شرح کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے،ٹیکس ایمنسٹی کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے،جن لوگوں کے اثاثے بیرون ملک ہیں وہ 2 فیصد جرمانہ ادا کر کے ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ،لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لئےانکم ٹیکس کے حوالے سے پیکج جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ٹیکس ادا کرنا پوری دنیا میں شہری کا سب سے بڑا ذمہ ہوتا ہے، جن افراد کی تنخواہ زیادہ ہوتی ہے وہ ٹیکس زیادہ اور جن کی کم ہو ان سے کم ٹیکس لیا جا تا ہے لیکن بدقسمتی سے 12سے کم لوگوں سے انکم ٹیکس ریٹرن فائل کیے جبکہ انکم ٹیکس ادا نہ کرنا جرم ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس وصولیوں کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال ہوگااورہر شہری کے شناختی کا نمبر ہی اس کا آئندہ ٹیکس نمبر ہوگا،جو لوگ ٹیکس ادا نہیں کرتے ان کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں ،جوبھی ایمنسٹی سکیم حاصل کرے گا وہ ٹیکس دہندہ ہوگا جبکہ ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا،تواتر سے بیرون ملک سفر کرنے والے افراد ٹیکس ادا نہیں کرتے حالانکہ ہر شہری کو اپنی استطاعت کے مطابق ٹیکس لازمی ادا کرنا چاہئے۔ وزیراعظم کا مزید کہناتھا کہ ٹیکس ادا کرنے سے ملک آگے بڑھتا ہے،ایمنسٹی سکیم کامقصدریونیوحاصل کرنانہیں،ایمنسٹی سکیم کے ذریعے پاکستان میں رہنے والے5فیصدپینلٹی اداکرنی ہوگی جبکہ ٹیکس گزاروں کی محدودتعدادمسائل پیداکررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص مدت میں5 لاکھ کی پراپرٹی حکومت10لاکھ میں خریدسکتی ہے اور ملک سے باہرغیرملکی کرنسی اکاؤنٹ رکھنے پر5فیصدٹیکس دینا ہوگا۔ سب پاکستانی ہیں اور یہ سکیم پانامہ والوں کیلئے بھی ہے لیکن اگر آپ جائیداد کی درست قیمت نہیں بتا رہے تو حکومت پاکستان کا نقصا ن کررہے ہیں جبکہ آف شور کمپنیاں بھی اثاثہ ہی ہیں۔ دھرنوں سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہناتھا کہ دھرنے نے پاکستان کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا ،سڑکوں پر جو عدالتیں لگیں انہو ں نے ملک کو غیر مستحکم کیااگر ایسا نہ ہوتا تو آج ملک بہت آگے جاچکا ہوتاجبکہ ملک میں انتشار سے ملکی معیشت پر برا اثر پڑتا ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں کسی کی بھی بات سننے والا آدمی نہیں ہوں ، نوازشریف آج بھی میرے وزیرواعظم ہیں جبکیہ اس بات سے بہت سے لوگوں کو تکلیف ہے اور میں جب سے وزیراعظم بنا ہوں مجھے نوازشریف نے کوئی بھی ہدایت نہیں دی ہے۔لوڈشیڈنگ سے متعلق کہا کہ تکنیکی خرابی کی وجہ ہمیشہ لوڈشیڈنگ ہوتی اور لوڈشیڈنگ وہاں کی جاتی ہے جہاں بجلی چوری ہوتی ہے :۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *