سر تبدیل کروانے والا رضاکار کسی موت سے بھی بڑی کیفیت کا سامنا کر سکتا ہے: امریکی چیف نیوروسرجن

head transplant سر کی تبدیلی کے ممکنہ آپریشن کے معاملے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے، امریکہ کے چیف نیورو سرجن کا کہنا ہے کہ’’میں نہیں چاہوں گا کہ کسی کے ساتھ بھی ایسا ہو!کم از کم میں کسی بھی فرد کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ کچھ ایسا کروائے کہ جس کا نتیجہ موت سے بھی بڑھ کر نکل سکتا ہو۔‘‘
رواں ہفتے، 30سالہ روسی ، والری سپائری ڈونوونے اعلان کیا ہے کہ وہ سر تبدیل کروانے والے تاریخ کے پہلے فرد بننے جا رہے ہیں۔ والری رضاکارانہ طور پر اپنا سر تبدیل کروانے والے ہیں۔ان کا سر کسی اور شخص کے جسم پر لگایا جانے والا ہے۔
جی ہاں،ڈاکٹر کاناویرواور ان کی ٹیم کو حقیقتاًایک ایسا زندہ سلامت، سانس لیتا رضاکار مل گیا ہے جو خود کو تجرباتی چوہے کے طور پر پیش کرنے پر تیار ہے۔ والری کی اس خواہش کے متعلق صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مجوزہ ٹیم کے ایک اور ڈاکٹر، کرسٹوفر ہوٹن نے کہاکہ امکان ہے کہ یہ 36گھنٹے طویل آپریشن ہو گاجس میں انہیں150ڈاکٹروں اور نرسوں کی خدمات درکار ہوں گی۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سردست ہم اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے کہ اس آپریشن کے نتیجے میں والری کے ذہن کے ساتھ کیا ہو گا۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *