ن لیگ کے منحرف اراکین نے چار سال کے دوران نئے صوبے کا ایشو کیوں نہ اٹھایا؟

اسلام آباد( رپورٹ: وسیم عباسی) مسلم لیگ (ن) کے گو کہ 8ارکان پارلیمنٹ یک نکاتی ایجنڈے کے دعوے کے ساتھ استعفے دے دیئے۔ ان کا مطالبہ جنوبی پنجاب میں نیا صوبہ بنانے کا ہے۔ قومی اورپنجاب اسمبلیوں سے مستعفی ہونے والے ان ارکان کا ریکارڈ یہ ظاہر کرتاہے کہ انہوں نے گزشتہ 5برسوں کے دوران اپنے اس نئے مطالبے کاایک بار بھی کہیں ذکرنہیں کیا جسے اب وفاق کیلئے زندگی اورموت کا مسئلہ بنا کر پیش کیا جا رہاہےان منحرفین جنہوں نے اب ’’جنوبی پنجاب صوبہ محاذ‘‘ تشکیل دیاہے، اپنے رواںپارلیمانی دورمیں بھی ایسی کوئی ایک بھی قرارداد نہیں لاسکے جو علیحدہ صوبے کی خواہش کو ظاہرکرتی ہو۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس طرح کی جنوبی پنجاب صوبہ تحریک گزشتہ حکومت نے اپنے دور اقتدار کے آخری چند ماہ شروع کی تھی جو 2013کے انتخابات کے بعد ترک کردی گئی اسمبلی ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ نئے دھڑے کے لیڈر مخدوم خسرو بختیار نے دستور نے دستورسازی میں صرف 6بار شرکت کی۔ ایک تحریک پیش کرنے کے علاوہ دو بل لے کرآئے لیکن کوئی ایک بھی جنوبی پنجاب صوبہ کے ایشو پر نہ تھا۔ بہاولنگر سے سید اصغر شاہ قومی ا سمبلی میں ایک بل لائے اورنہ ہی قرارداد پیش کی۔ کوئی توجہ دلائو نوٹس بھی نہیں دیا۔ 5سال کے دوران صرف ایک ہی سوال کیا اور وہ بھی جنوبی پنجاب ایشو سے متعلق نہ تھا۔ اس طرح کی کارکردگی منحرف ارکان اسمبلی باسط بخاری، طاہر بشیر، رانا محمد قاسم اور وہاڑی سے طاہراقبال کی رہی۔ طاہر اقبال نے اعتراف کیا کہ ان کے گروپ نے 5برسوں میں جنوبی پنجاب صوبے کا ایشو کبھی نہیں اٹھایا۔ا ب دانستہ طور پر یہ ایشو اس لئے اٹھایا گیا ہے کہ یہ ایشو بن سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *