نواز شریف کو کیسے ہٹایا گیا

نواز کوہٹانے کے لیے یہ جھوٹ بولا گیا کہ ملک بہت مشکلات میں ہے۔ اگر نواز کو حکومت سے دور نہ کیا گیا تو یہ مشکلات ملک کوڈبو دیں گی۔ لیکن اس وقت کرائسس کا وجود نہیں تھا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان بہتر کارکردگی کی طرف گامزن ہوسکتا تھا۔ معیشت کو اچھے طریقے سے نہیں چلایا جا رہا تھا۔ سویلین حکومت ملک کی سکیورٹی کے لیے بھی خاطر خواہ کردار ادا نہیں کر رہیی تھی۔ کیا گورننس اچھی تھی؟ بلکل نہیں۔ کیا کوئی ویژن اور پلان تھا؟ موٹر وے اور میگاواٹ کے علاوہ کوئی اہم پلان نہیں تھا۔ لیکن یہ کوئی کرائسز بھی نہیں تھا۔ لیکن اب کرائسز موجود ہے۔ نواز کو ہٹانے کے لیے جعلی کرائسز پیدا کیا گیا لیکن اب یہ حقیقی کرائسز بن چکا ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ نواز کو باہر کرنے کے لیے سسٹم میں جو خرابیاں پیدا کی گئیں ان کا نتیجہ بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔ نواز شریف کے خلاف عدلیہ کے فیصلے نظام کو عدم استحکام کی طرف لے جا رہے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ فیصلوں کا ٹارگٹ نواز ہیں بلکہ اس وجہ سے کہ ان فیصلوں کے طریقے بہت نا مناسب ہیں۔ نیب کےذریعے نواز پر کریک ڈاون اور پھر ان کی نا اہلی سیاسی نتائج پر بہت اثر انداز ہونے والی چیز ہے لیکن اس سے نظام پر اثرات کی توقع اس قدر نہیں تھی۔ جن حقائق اور معاملات کو بنیاد بنا کر نواز کو نا اہل کیا گیا انہیں کی بنیاد پر دوسرے سیاستدانوں کو نا اہل کرنا مشکل ہو گیا۔ دوسرے سیاستدانوں کو نا اہل قرار دینے کےلیے دوسرے معیارات کی ضرورت محسوس کی گئی۔ نواز کو باہر نکالنے کے لیے سسٹم خود مشکلات میں گھر چکا ہے۔ یہان سے کوئی بھی بات ممکن ہے اور کسی کو بھی ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ عدلیہ کو تھمایا گیا ہتھیار ان سے واپس کیسے لیا جائے۔ کچھ لوگ کہیں گے کہ آئین میں ترمیم کر کے 62 ایف 1 کو نکال دیا جائے لیکن کوئی یہ کہنے کو تیار نہیں کہ عدالت اس اقدام کو غیر آئینی قرار دے کر مسترد نہیں کرے گی۔ سیاست کی جوڈیشلائزیشن سے قبل آئین کی جوڈیشلائزیشن کی گئی ۔ عدلیہ نے دکھا دیا ہے کہ یہ کسی بھی آئینی ترمیم کو معطل کر سکتی ہے۔ اب جب عدلیہ نے 62 ایف 1 کو ہتھیار بنا لیا ہے تو یہ کیونکہ اس ہتھیار پر اپنی گرفت کمزور ہونے دے گی۔ اس کا جواب حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔ ایک بہت بڑی مشکل سامنے نظر آ رہیی ہے۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ نواز نے اپنی نا اہلی کے بعد کیا رد عمل اختیار کیا ہے۔ انہون نے اس با ر عدالت پر حملہ نہیں کیا اور نہ ہی پارلیمنٹ کو حرکت میں لائے۔ انہوں نے عوام سے رابطہ کرنے کا طریقہ اختیار کیا۔ اور عوام نے ان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ نواز ایک انقلابی اور کرشماتی لیڈر نہیں ہیں لیکن انہوں نے جو طریقہ اختیار کیا ہے اس کی اپنی اہمیت ہے۔ اس کے بعد دو طرح کے منظر نامے سامنے آتے ہیں۔ ایک یہ کہ نواز کا ساتھ دینے والے عوام سے فوج سختی سے نمٹے اور اپنے غصے اور اشتعال کا اظہار کرے۔ یا پھر عوام یہ کہیں کہ کوئی کرائسز تھا ہی نہیں جیسا کہ روز اول سے ظاہر تھا۔ اور عوام یہ بھی کہہ رہے ہین کہ وہ نواز کی حکومت سے خوش ہیں اورا اسے واپس ملک کا وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں۔ یا یہ دونوں چیزیں مشترک بھی ہو سکتی ہیں ۔ وجہ جو بھی ہو یہ خلاف توقع ثابت ہوئی ہے اور اس وجہ سے مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے۔ اب اسے واپس بوتل میں ڈالنا ہو گا۔ لیکن کیسے؟ ایک طریقہ الیکشن پر اثر انداز ہونے کا ہے لیکن ن لیگ کی سیٹیں کم کرنے کےلیے بہت محنت کرنا ہو گی اور پھر نواز شریف دھاندلی کے خلاف بھی ریلیاں جاری رکھنے کا اعلان کر سکتے ہیں ۔ عمران خان کے دھرنا کے بعد یہ سوچنابھی محال ہو گیا ہے کہ ملک میں
کوئی سیاسی احتجاج فوج کی مرضی کے بغیر ممکن ہے۔ پنجاب حکومت کو کنٹرول کرنا بھی لازمی ہو گا۔ قومی اسمبلی میں ن لیگ کی سیٹیں کم کرنا آسان ہے لیکن پنجاب میں ن لیگ کو نیچا دکھانا جان جوکھوں کا کام ہے۔ ن لیگ کی طرف سے احتجاجی سیاست کو روکنا ناممکن جیسا ہے۔ دوسری آپشن نواز کو جیل میں ڈالنا ہے۔ اس سے بڑی بڑی ریلیاں بند ہو جائیں گی لیکن پھر ملک کا سب سے بڑا سیاستدان جیل میں بیٹھا ہو گا جو مشکلات کا باعث ہی
بن سکتا ہے۔ یہ چیز بھی ملک کے استحکام کے لیے بہترین نہیں ہے۔ یہی چیز ہے جو حقیقی کرائسز بن کر جعلی کرائسز کا جڑواں ہونے کا ثبوت دے رہی ہے۔ سیاست کے رولز بدل کر عوامی مزاحمت کو چھیڑا گیا ہے۔ اب سول ملٹری اور عدالتی پارلیمانی تعلقات پر دوبارہ سے کام کرنا ہو گا۔ یہ کب اور کیسے ہو گا یہ کسی کو معلوم نہیں ہے لیکن اس میں توازن رکھنے کےلیے کچھ نیا کرنا لازمی ہو گیا ہے۔ جس سسٹم میں سب سے بڑے سیاستدان کو کمزور کر کے عوامی مزاحمت سے نمٹنے کا راستہ نہ رکھا گیا ہو اس صورتحال میں ملک میں استحکام نہیں لایا جا سکتا۔ جب 58 (2)بی بنائی گئی تبھی سے معلوم تھا کہ اس ترمیم کو ختم کرنا ہو گا۔ اب 62 ایف 1 کو استعمال کیا جا رہا ہے اس لیے ظاہر ہے کہ اس ترمیم سے بھی نجات حاصل کرنا ہو گی۔ اور یہی سب سے بڑا تجسس کا معاملہ ہے۔ نواز کی نا اہلی کو جواز دینے کے لیے جعلی کرائسز کا ڈھونگ کیا گیا اور سچ یہ ہے کہ سسٹم ایسے ہی کام
کرتا ہے۔ لیکن جعلی کرائسز حقیقی کرائسز میں بدل چکا ہے۔ سول ملٹری تعلقات میں توا زن پیدا کررنے کے لیے اور سیاسی اور عدالتی تعلقات میں توازن رکھنے کے لیے ملٹری اور عدلیہ کو نرمی دکھانی پڑ رہی ہے۔ کیا نواز کو باہر نکالنے سے عدلیہ اور سیاستدانوں اور سول اور ملٹری اداروں کے بیچ تعلقات بہتر ہو سکتے تھے؟ یا پھر فوجی قیادت اور عدالت نے اپنے پاوں پر کلہاڑی ماری ہے؟ شاید انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔

source : https://www.dawn.com/news/1401702

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *