خواتین پولیس اہلکاروں سے جنسی زیادتی

شکیل انجم

اسلام آباد: اسلام آباد کی پولیس کو ایک بے مثال سیکس سکینڈل نے لرزا دیا اور پورے ملک میں ایک حیرانی کی لہر دوڑ گئی۔ اسلام آباد کی خواتین پولیس
حکام نے اپنے ایک مرد ساتھی جن میں انسپیکٹر اور DSPs شامل ہیں ان پر جنسی حراساں کرنے کا الزام لگایا۔ اس سے بھی ذیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ انہوں نے 27 مارچ 2018 میں اس کی شکایت درج کروائی تھی اور تین ہفتوں تک یہ کیس دبانے کی کوشش کی گئی، اور اوپر کے اہلکاروں نے کوئی ردعمل نہیں کیا۔ ان کی خاموشی سے تنگ آ کر ان خواتین پولیس نے میڈیا میں خبر پھیلا دی اور عدلیہ سے رجوع کیا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ، اسلام آباد کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انٹرئیر منسٹر، اسلام آبااد کے چیف کمیشنر اور اسلام اباد پولیس کے جنرل انسپکٹر کو شکایت کی۔ اس شکایت کے مطابق خواتین حکام کو سیدھا ASP or SP کے سامنے حاضر ہونا تھا تاکہ وہ اس بے ضابطگی اور ڈیوٹی کو نظر انداز کرنے کی وجہ ٹھیک سے بتا سکیں۔ خواتین حکام کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا بلکہ مخالف افسران نے اس معاملے کو ایک کمرے میں کچھ وقت اکیلے گزار کر رفع دفع کرنے کی پیش کش کی۔شکایت کرنے والوں نے اس خاص کمرے کی بھی تصویر کشی کی جس میں تفتیش ہوتی ہے۔ زیادہ تر مرد پولیس اہلکار ان کا استحصال کرنے میں کامیاب ہو جاتے ۔ اسلام آباد کی پولیس نے جب یہ سکینڈل میڈیا پر دیکھا تو ہکہ بکہ رہ گئے۔ ان کے پاس اس کاکوئی جواب نہیں تھا اور انہوں نے چپ رہنے کا فیصلہ کیا۔ ایکواحد پولیس آفسر سامنے آئے اور بیان دیا کہ کوئی متاثر شکایت لے کر نہیں آیا تھا اور ابھی تک فارمل کمپلینٹ نہیں لکھوائی گئی۔ اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل ڈاکٹر سلطان عظیم نے کچھ سینئیر افسروں کے ساتھ میٹنگ کی اور خاموش تفتیش شروع ہوئی اور خبر ملی کہ یہ الزام درست تھا۔ پولیس نے اس طرح کے سات اور کیسسز کھوج نکالے۔ لیکن ایک بہت ہی سنجیدہ مسلہ درپیش تھا کہ متاثرہ حضرات سامنے آنے سے کترا رہے تھے اور اس تفتیش کا حصہ نہیں بننا چاہ رہے تھے۔ عظیم تیمور نے کہا " ہم اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتے کہ اس طرح کا کچھ بھی
اسلام آباد پولیس کی حدود میں نہیں ہو رہا۔ زندگی میں ایسے کئی واقعات در پیش آتے ہیں جن کی امید نہیں کی جا رہی ہوتی اور اسلام آباد پولیس بھی بد قسمتی سے اسی بھنور کا حصہ ہے۔ لیکن یہ سچ ہے کہ یہ بلکل منظور نہیں اور قابل معافی بھی نہیں۔ اس معاملے کی تفتیش تو شروع ہو ہی گئی ہے اور کافی پیش رفت کی جا رہی ہے۔ لیکن اس طرح کے کیس بہت چیلنجنگ ہوتے ہیں۔ اس طرح کے کیس میں دوسرے اور کئی جرم سامنے آتے ہیں لیکن اس مخصوس کیس میں متاثرین نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور وہ اس تفتیش کا حصہ بھی نہیں بننا چاہتے۔ اس لیے تفتیش کنندوں کے لیے اس کیس کو حل کرنا مشکل ہو رہاہے۔ " اسلام آباد کے IGP نے کہا:" ۔ لیکن ہم پھر بھی کوشاں ہیں ۔ میں ایک بات کا وعدہ کرتا ہوں کہ اس معاملے میں انتہائی سختی سے کام لیا جائے گا اور مجرموں کو جیل کی ہوا کھلائی جائے گی۔ چاہے وہ وہ ایک فوٹ کانسٹیبل ہو یا IGP" دوسری طرف خواتین اہلکار تذبذب اور پریشانی کا شکار لگتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس شکایت میں اتنا دم نہیں کیوں کہ اگر واقعی ان کے ساتھ ہوا ظلم ان کے لیے بہت اہم ہوتا تو وہ پبلک میں نکل آتیں اور معاشرے کے غصے کا سامنا کرتیں۔ ان کے اس رویے سے اس بات پر یقین کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی ثبوت اسلام آباد ہائی کوٹ یا سپریم کوٹ یا چیف جسٹس یا کسی بھی وکیل کو نہیں دیا۔ اس دوران تحفظ حقوق خواتین کے کارکنان نے بھی اس معاملے میں دخل دیا۔ انہیں لگتا ہے کہ اس کیس کو حل کرنے کے لیے کسی اور قسم کے پینترے استعمال کرنا ہوں گے کیوں کہ متاثرین کو تحفظ کی ضرورت ہے اور تفتیش اس طرح کی جانی چاہئے کہ ان کی عزت نفس پر آنچ نہ آئے:۔

source : https://www.thenews.com.pk/amp/307509-female-cops-facing-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *