نازیہ اقبال! تمہاری جرأت و ہمت کو سلام

دینِ اسلام میں کہا جاتا ہے کہ خدا نے ماں کے قدموں تلے جنت رکھی ہے۔ ماں کے حقوق کو باپ سے بہت بلند گردانا گیا ہے۔ دیگر مذاہب میں بھی ماں کی عظمت کو اولین کہا گیا ہے۔ مذاہب کے علاوہ مختلف ثقافتوں کے ادب میں بھی ماں کو دیوی کہا جاتا ہے۔ خدا کی اپنے بندوں سے محبت کی بات ہو تو بھی مثال ماں کی ہی دی گئی کہ وہ اپنی مخلوق کو ستر ماؤں سے زیادہ چاہتا ہے۔ باپ جنت کا دروازہ ضرور ہے لیکن اسی جنت کا جو ماں اپنے قدموں تلے رکھتی ہے۔ ماں قربانی اور ایثار کی وہ مثال ہے جو جتنی بیان کی جائے کم ہے۔

لیکن انہی حقوق کے ساتھ اس کے فرائض اور ذمے داریوں کی فہرست بھی طویل ہے۔ بیچاری اپنا آپ مار بھی دے تو بھی زمانے کی نظروں میں کوئی نہ کوئی کسر رہ ہی جاتی ہے۔ کیا کیجئے؟ ورکنگ وومن کی زندگی اس لحاظ سے مزید مشکل ہے کہ اسے گھر سے باہر بھی اپنی ڈیوٹی پوری کرنی ہے اور گھر آ کر بھی ایک ماں اور بیوی کی حیثیت سے اپنے فرائض کی بجا آوری کرنی ہے۔ اس طرح ذمہ داری دوگنی ہو جاتی ہے۔ یہ خواتین بھاری دل سے بچوں کو گھر چھوڑ کر جاتی ہیں لیکن پھر بھی لوگوں کے نزدیک ان کی ممتا پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں۔

یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ بہترین ماں کون ہے۔ وہ کون ہے جو اپنی اولاد کی خاطر کسی بھی حد سے گزرنے کو تیار ہے؟ ہم کبھی ایسا نہ کرتے لیکن آج ایک ماں نے ہمیں مجبور کر دیا ہے کہ ہم اس کے قدموں میں گر جائیں اور دعا کریں کہ خدا اس ملک کی سب ماؤں کو یہی جرأت دے۔

یہ ماں مشہور پشتو سنگر نازیہ اقبال ہے جس نے اپنی بیٹیوں کو بچانے کے لیے اپنے بھائی کو بھی بےنقاب کرنے سے گریز نہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق نازیہ کی دو بیٹیاں (عمریں بالترتیب 8 اور 12 سال) ہیں۔ اپنے کام کے سلسلے میں انہیں اکثر گھر سے باہر جانا پڑتا تھا۔ زیادہ تر مائیں یہی کوشش کرتی ہیں کہ بچوں کو کسی اپنے کے ساتھ ہی چھوڑا جائے۔ زمانہ خراب ہے اور کسی پرائے پر اعتبار کرنا مشکل ہے۔ نازیہ نے بھی یہی مناسب جانا کہ سوات میں مقیم اپنے بیروزگار بھائی افتخار کو اپنے پاس بلوا لیا۔ 19 سالہ افتخار کوئی کام کاج تو کرتا نہیں تھا، سو نازیہ کو تسلی رہتی تھی کہ بیٹیاں ماموں کے پاس ہی ہیں اور وہ سکون سے کام کر سکتی تھی۔

زندگی تلخ بھی ہے اور عجیب بھی۔ کچھ عرصے بعد نازیہ پر انکشاف ہوا کہ افتخار بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی میں ملوث تھا۔ انہیں قتل اور خونریزی پر مبنی ویڈیوز دکھا کر ڈراتا تھا کہ مبادا بچیاں اس کا پول نہ کھول دیں۔ ایک دن نازیہ گھر پر ہی تھی کہ اسے اپنی چھوٹی بیٹی کی چیخوں کی آواز سنائی دی۔ وہ فورا بھاگی اور دیکھا کہ اس کا وحشی بھائی اس کی بیٹی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا رہا تھا۔ ہمارے معاشرے کی بہت سی ماؤں کے برعکس نازیہ نے چپ نہیں سادھی۔ نام نہاد عزت کو بچانے کی کوشش نہیں کی بلکہ شور مچایا اور ملزم کا نام پولیس میں لکھوایا۔

کمسن بچوں کے ساتھ زیادتی ایک شرمناک حقیقت ہے۔ ہم اس سے لاکھ نظریں چرائیں لیکن اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ اس میں اکثر گھر کے لوگ ہی ملوث نکلتے ہیں اور وہ لوگ کہ جن پر آپ کا شک بھی نہیں جا سکتا اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ماؤں کو پتہ چل بھی جائے تو عزت بچانے کی غرض سے بچوں کو چپ رہنے کا کہا جاتا ہے۔

ہمیں نازیہ اقبال پر فخر ہے کہ انہوں نے اس قبیح فعل پر آواز اٹھا کر جرأت کی عظیم مثال قائم کی ہے۔ ان کا یہ قدم بہت سی ڈری سہمی ماؤں کو بھی ہمت دے گا کہ اپنی اولاد سے بڑھ کر کوئی رشتہ نہیں۔

جیو نازیہ اقبال! خدا تمہاری ہمت کو رہتی دنیا کے لیے مشعل راہ بنائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *