تماشا

محمد طاہرM tahir

میاں نواز شریف اور اُن کے عزیز واقارب کی حکومت اپنے لئے خود ایک مصیبت بنتی جارہی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اس کی سیاسی بصیرت کا سارابیانیہ مصنوعی اور مکمل جعلسازی پر مبنی تھا۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے نواز حکومت کا پورا بھرم ہی ختم کر دیا ہے۔ اس اجلاس میں جو تماشا ہوا وہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ اپنے منفی اثرات میں یہ اس حکومت کے دوش پر ایک بہت بڑے بوجھ کی صورت میں دھرا رہے گا۔سوال یہ ہے کہ طویل ترین پارلیمانی تجربے کی حامل اور بوڑھے اراکینِ پارلیمنٹ کی بڑی تعداد رکھنے والی نواز حکومت یمن بحران پر سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیوں نہیں کر سکی؟ سعودی عرب سے پاکستان کے تعلقات کی نوعیت غیر معمولی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان تعلقات کی جن نزاکتوں کا احساس ہم ہردور میں کرتے آئے ہیں ، یمن بحران کے غیر معمولی ایّام میں کیوں نہیں کر سکے؟
پہلی غلطی تو یہ کی گئی کہ اس مسئلے کو پارلیمنٹ کا راستا دکھا یا گیا۔ جس میں پیپلز پارٹی موجود تھی۔ جو آصف علی زرداری کی قیادت میں ایک بالکل مختلف جماعت بن چکی ہے۔ پھر اُسی پارلیمنٹ میں سات ماہ کے طویل عرصے کے بعد تحریکِ انصاف کو باقاعدہ سِدھا کر لایا گیا۔جن کی آمدِ شریف پرمے کشوں نے توازن کھو کر ایک ایسا ہنگامہ اُ ٹھا یا کہ جمہوریت کے بھرم نما خطِ سبو پر ایوان کے کون ومکاں ڈولنے لگے۔کیا میاں صاحب اور اُن کے عزیز واقارب سعودی پیشکش اور تحریک انصاف کی پارلیمنٹ پیشی کو الگ الگ طور پر سنبھال نہیں سکتے تھے۔ پارلیمنٹ کے کسی اور اجلاس میں اُن کی تقریبِ رونمائی کرکے ’’شوقِ دُھلائی‘‘ پہلے پورا کر لیا جاتا اور پھر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بُلا لیا جاتا۔ اس طرح ہم سعودی عرب کو ایک بہتر پیغام بھی دے سکتے۔
نواز حکومت جس طرح یہ ادراک نہیں کر سکی کہ پیپلز پارٹی اس مسئلے کے کن نفسیاتی ، مسلکی اور سیاسی پہلوؤں کی قیدی ہے۔ ٹھیک اُسی طرح وہ یہ بھی نہیں جان سکی کہ تحریکِ انصاف سعودی عرب کے باب میں کسی ایسی مجبوری کی شکار نہیں جس میں ذاتی طور پر زرداری اور شریف خاندان اپنے اپنے کاروباری مفادات کی بنا پرمبتلا ہیں۔ آصف علی زرداری کی لاچاری یہ ہے کہ وہ قلبی طور پر مشرقِ وسطی کے دوقطبی بندوبست میں خود کو ایران کے ساتھ پاتے ہیں مگراُن کے تمام کاروباری مفادات سعودی محوری ممالک سے وابستہ ہیں۔ چنانچہ وہ دونوں تقاضوں سے عہدہ برآں ہونے کی صلاحیت کا مظاہرہ نہایت کامیابی سے کر رہے ہیں مگر تحریکِ انصاف کا معاملہ تو بالکل مختلف ہے۔ عمران خان ذاتی طور پر مشرقِ وسطی کے کسی بھی ملک میں اپنا کوئی کاروباری مفاد نہیں رکھتے۔ اُنہیں پاکستان سے بھاگ کر کسی سرور پیلس کی بھی ضرورت فی الحال تو بالکل نہیں۔ وہ دوسروں کے لئے خطرہ بننے کی تو صلاحیت رکھتے ہیں مگر خود اُن کے لئے ابھی تک کوئی بات خطرناک نہیں ہے۔ میاں نواز شریف اور اُن کے عزیز و اقارب اس بنیادی فرق کو سمجھ کیوں نہیں سکے؟ چنانچہ اعتزاز احسن کی جنابِ شیخ کی درمیاں داری والی گفتگو اور پی ٹی آئی کی یمن فوج نہ بھیجنے والی واضح لکیر نے پارلیمنٹ کو ایک دوسرے راستے پر ڈال دیا۔ بدقسمتی سے اس پورے ماحول کو سب سے زیادہ پراگندہ خود نون حکومت نے کیا۔
پارلیمنٹ میں سرکاری موقف کا اظہار خواجہ آصف نے ایک تحریری بیان پڑھ کر کیا۔ اگر کاغذ کا یہ ٹکرا وزیرِ دفاع کے ہاتھ میں تھمانا ہی تھا تو پھر تحریک انصاف کوجھٹکا لگانے کا کام کسی اور کے سپرد کر دیا جاتا۔چنانچہ جب پارلیمنٹ میں متفقہ قراردار پیش کرنے کا لمحہ آیا تو پی ٹی آئی نے خواجہ آصف کی طرف سے متفقہ قرارداد پیش کرنے پر اعتراض کردیا اور یوں یہ کام ’’بھی‘‘ دم درود کی شہرت رکھنے والے مگر اپنی وزارت میں زرداری والے دور کی عادتوں کے ہی شکار اسحاق ڈار نے کیا۔ خواجہ آصف نے توعمران خان کی بے عزتی چیختے چنگھاڑتے ہوئے کی تھی مگر تحریک انصاف نے نہایت خاموشی سے اِس بے عزتی کا بدلہ نہایت عزت سے لیا۔میاں صاحب اور اُن کے عزیز واقارب کو انگریزی کے مشہور محاورے کو یاد رکھنا چاہئے تھا کہ ’’وہی ہنسی شاندار ہوتی ہے جو آخر میں ہنسی جائے۔‘‘ نون لیگ اپنے دانتوں کو پانچ سال بعد اپنی کامیابیوں کے ساتھ دکھائے تو وہ ایک شاندار زیارت ہوگی۔
نون لیگ نے اپنی غلطیوں کے اس زنجیری سلسلے کو کسی بھی موقع پر ٹوٹنے ہی نہیں دیا۔ خواجہ آصف نے جو تحریری بیان پڑھ کر سنا یا اور اُس میں اپنی وضاحتوں کی فی البدیہہ جو گوٹاکناری کی وہ میاں صاحب کی پوری حکومت کی ذہنی، عملی اور سیاسی بصیرت کو بے نقاب کرنے کے لئے کافی ہے۔ اس بیان نے ثابت کیا کہ سعودی مطالبات حکومت کے سامنے آئے کافی دیر ہو چکی تھی مگر اُسے سامنے لانے میں تاخیر کی گئی۔ اگر یہ تاخیر درست تھی تو پھر اُسے بعد میں بھی پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی ضرور ت کیوں پیش آئی؟ میاں صاحب اور اُن کی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ سے رہنمائی لینے کے اِس عمل کو جمہوری اور جذباتی مگر بے مقصد اور بے مصرف سیاسی موقف میں لپیٹنے کی کوشش بعد میں اُن کے اقدامات سے خود اُن کے خلاف ایک مقدمہ کھڑا کرنے کا باعث بنے گی۔ یہ زیادہ دیر کا نہیں بالکل سامنے کا تماشا ہے۔ بس کچھ دن انتظار کیجئے۔
اسی معاملے کا دوسرا رخ تو اور بھی اندوہناک اور شرمناک ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر یہی قرارداد سامنے لانی تھی تو پھر سعودی عرب کے مطالبات کو اس طرح شاہراہِ عام پر نہ رکھا جاتا۔ اُن کے مطالبات کو سامنے لاکر اُسے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے نیچے پٹخنا (چاہے اس کے لئے کتنے ہی شاندار الفاظ استعمال کئے گئے ہو) عربوں کی نفسیات میں ایک رسواکن عمل سے زیادہ کچھ نہیں۔ خواجہ آصف نے تو پھر اس سے بھی زیادہ شاندار کارنامہ انجام دیا۔ اُنہوں نے سعودی مطالبات کو پیش کرنے کے بعد یہ انکشاف بھی ساتھ کردیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی بھی ہماری مدد کو نہیں آیا۔ خواجہ آصف کی اس سے مراد آخر کیا تھی؟ خواجہ آصف کے اِن الفاظ سے یہ اندازا کرنا نہایت دشوار ہے کہ ان کا یہ کارنامہ زیادہ بڑا تھا یا تحریکِ انصاف کے ساتھ اُن کے سلوک کو زیادہ قابلِ داد کارنامہ سمجھنا چاہئے۔
نون حکومت کے بوڑھے اراکین کا طویل ترین پارلیمانی اور حکومتی تجربہ کسی کام نہیں آیا۔ اس معاملے میں وہ تحریکِ انصاف کے نوآموزوں اور مبتدیوں سے بھی نچلی سطح پر دکھائی دیئے۔ تب حضرتِ علامہ اقبالؒ کے الفاظ کی قدروقیمت پوری گونج گُمک کے ساتھ محسوس ہوئی۔
خر د کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر
نواز حکومت روایتی الفاظ کے ساتھ اس غیر روایتی بحران کو ٹالنا چاہتی تھی ۔ اس کے لئے حکومت نے عجیب وغریب نوع کی پھلجڑیاں چھوڑیں۔ سعودی عرب کے اقتدارِ اعلیٰ کو خطرہ ہوا تو اُس کی مضبوط مدد کی جائیگی۔ اُس کی زمینی سا لمیت کو خطرہ ہوا تو اُس کی ہرطرح کی مدد کی جائیگی۔ یاپھر حرمین شریفین کی حفاظت کے لئے ہر طرح کی مدد دی جائیگی۔ اِس سے زیادہ تحقیر آمیز بیانات کسی دوست ملک کے لئے دیئے نہیں جاسکتے تھے۔یوں لگتا ہے کہ سعودی عرب کسی افریقی ملک کا ایک ایسا روکھا پھیکااور بے دست وپا قسم کا جزیرہ ہے جہاں چڑیائیں بھی دخل درمعقولات میں آزاد ہوتی ہیں۔ بھئی امریکا جیسی سپر پاؤر ریاست نے بھی افغانستان جیسے ملک کے لئے بیالیس ملکی اتحاد تشکیل دیا۔عراق میں وہ اتحادی افواج کے ساتھ ہی کیوں بروئے کار آیا؟ اور اب داعش کے خلاف بھی وہ عسکری اتحاد کے ساتھ ہی بروئے کار کیوں ہے؟ ممالک کا عسکری اتحاداقدام کی عالمی تنہائی کو دور کرنے کے تناظر میں ہوتا ہے خواہ اُس کا فائدہ عسکری طور پر ہی کیوں نہ اُٹھایاجائے۔ مگر اس کا بیانیہ مکمل سیاسی ہوتا ہے۔ یہ عالمی سیاست کا بنیادی نمونۂ اظہار (پیراڈائم) ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان نے اِسے سعودی مملکت کی کسی کمزور عسکری صلاحیت کے ذیل میں رکھ کر اپنے بیانئے کو ترتیب دیا۔جس نے خود سعودی عرب کے اندر لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔ ممالک کے درمیان گفتگو کی ایک سفارتی زبان ہوتی ہے مگر ہم نے بس ایسے ہی الفاظ رٹے ہوئے ہیں جس کا حقیقی کوئی مطلب ہی نہیں ہوتا ۔ مثلاً حرمین شریفین کی حفاظت کامطلب کیا ہے؟ اور وہ کیا چیز ہوگی جسے حرمین شریفین کو لاحق خطرے پر محمول کیا جائے گا؟ اس کا کوئی جواب نہیں۔ پھر حرمین شریفین کی حفاظت کے لئے بس دنیا کی ایک ہم ہی برگزیدہ قوم رہ گئے ہیں۔ اگر ہم اپنے قومی اعمال کی سیاہ کاریوں کو دیکھیں اور پھر اِن دعووں پر غور کریں تو حیرت ہوتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ حرمین شریفین کی حفاظت کا کوئی بندوبست سعودیوں کے لئے ممکن نہیں۔ وہ قوم جو خود بھی چنیدہ ہے اور وہ مقام جس کی حفاظت کائنات کا رب اپنے نادیدہ لشکروں سے کرتا ہے اُس پر ہماری گفتگو ایسے جاری ہے جیسے ہم کائنات کے خدائی بندوبست میں فرشتوں کی قیادت فرماتے ہیں۔جب کہ ہمار ااپناعالم یہ ہے کہ اس مملکت کے تین صوبوں کے بیشتر حصوں پر ہم ریاست کی گرفت قائم کرنے کی ایسی کوششیں کر رہے ہیں جس کی ناکامیوں پر گفتگو کرنا بھی ایک طرح کاقومی جرم بنادیا گیا ہے ۔اب اس تماشے کو کیا کہا جائے۔
نون حکومت نے پارلیمنٹ میں اس مسئلے کو رکھ تو دیا مگر اُن کے پاس کسی بھی سوال کا کوئی جواب ہی نہیں تھا۔ مثلاً سعودی عرب کی زمینی سا لمیت کو لاحق خطرے سے کیا مراد ہوگی؟ پاکستان فوری ردِعمل دے گا، اس سے پاکستان کی مراد کیا ہے؟ ردِعمل کے حدود وقیود کی جامع تشریح کیا ہے؟پاک فوج کو حرکت دینے کا ڈھانچہ کیا ہے؟ اور کیا ہوگا؟ نواز حکومت سعودی ریاست، سعودی حکومت اور حرمین شریفین کے حوالے سے خطرات کوالگ الگ درجے میں یا پھر ایک ہی درجے میں رکھ کر دیکھتی ہے؟ اس پوری بحث میں سب سے زیادہ یہ پہلو نظر انداز ہوا کہ خود سعودی عرب کے لئے یمن جنگ کیا حیثیت رکھتی ہے؟ اور وہ اِسے کیسے دیکھتاہے؟ اگر اس پہلو کو پیشِ نظر رکھ کر پاکستان میں یمن بحران کو زیرِ بحث لایا جاتا تو یہ ایک اور طرح کے نقطۂ نظر کو پیدا کرتا۔ مگر پاکستان میں اس کی پرواہ کسی کو کہاں ہے؟ ہمارے لئے زیادہ اہم بات تو یہ تھی کہ عمران خان کو زیادہ سے زیادہ رسوائی کا مزہ کیسے چکھایا جائے؟ اب شریف برادران کو سعودی عرب سے اپنی’’ عزت سنبھالنے‘‘ کا مسئلہ درپیش ہے۔ رسوائیوں کے کاروبار کا منافع عزت کی صورت میں نہیں زیادہ بڑی ذلت کی صورت میں اُٹھا نا پڑتا ہے۔۔یہ تماشا ابھی ختم نہیں ہوا، جاری ہے۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *