غیر ریاستی عناصر اور سیاسی کنٹرول

جن قومی معاملات میں مقتدر حلقوں نے بلنڈرز کیے ھوں۔ اور ملک ان بلنڈرز کو بھگت رھا ھو۔ کیا انہیں قومی راز کہہ کر چھپا لینا چاھیے؟ اور جو ان بلنڈرز کو افشاء کرے۔ کیا وہ غدار ھے ؟ ھونا تو یہ چاھیے کہ بلنڈرز کرنے والوں کی پکڑ ھونی چاھیے۔ ان پر بحث ھونی چاھیے۔ تاکہ آئیندہ ان بلنڈرز / غلطیوں سے بچا جا سکے۔ یا کم از کم نئی غلطیوں کی گنجائش نکل سکے۔ یہاں تو یہ ھو رھا ھے۔ وھی ستر سال کی غلطیوں کو بار بار دہرایا جا رہا ھے۔ پلاننگ بھی وھی ھوتی ھے۔ طریقہ کار بھی وھی ھے۔ اور نتائج بھی ویسے ھی برآمد ھوتے ھیں۔ اور ھر دور کی اسٹیبلشمنٹ بھی پچھلی کا چربہ ھوتی ھے۔ ھمارے خیال میں چند اداروں کو سیاسی معاملات اور فیصلوں میں اپ ڈیٹ کرنے کی بہت سخت ضرورت ھے۔
اب دیکھیں۔ اکتوبر 1947 میں پہلی بار آپریشن گلمرگ یعنی کشمیر کی آزادی کی جنگ میں نان اسٹیٹ ایکٹرز یعنی غیر ریاستی عناصر استعمال کیے گئے۔ جبکہ باقاعدہ فوج کو لاعلم رکھا گیا۔ فاٹا کے تقریبا بیس قبائل مثلا افریدی ، محسود ، وزیر ، دورز ، بھٹانی ، خٹک ، طوری ، سواتی اور دیر وغیرہ کو خورشید انور کی سربراہی میں کشمیر میں لڑوایا گیا۔ کشمیر مکمل آزاد نہ کروایا جا سکا۔ گلگت ، سکردو اور موجودہ آزاد کشمیر ھمیں مل گیا۔ جبکہ تین چوتھائی کشمیر پر بھارت نے راجہ ھری سنگھ کے ذریعے الحاق کرکے قبضہ کر لیا۔
اچھا پھر جنرل ایوب نے یہی غلطی اگست 1965 میں آپریشن جبرالٹر کا کشمیر میں آغاز کرکے دھرائی ۔ اس بار پھر ائیر فورس اور بحریہ کو لاعلم رکھا گیا۔ ائیر چیف اصغر خان نے احتجاجا استعفیٰ دے دیا۔ جنرل ایوب کو غلط فہمی تھی۔ آپریشن جبرالٹر کے نتیجے میں کشمیر آزاد ھو جائے گا۔ اور پاک بھارت جنگ نہیں ھو گی۔ تاریخ آپ کو معلوم ھے۔
مشرقی پاکستان میں عوامی مسلم لیگ کو اقتدار سونپنے کی بجائے 25 مارچ 1971 میں آپریشن سرچ لائیٹ شروع کر دیا گیا۔ اور الشمس اور البدر تنظیمیں بنائ گئیں۔ نتیجے میں پاکستان دولخت ھو گیا۔
اچھا جنرل مشرف نے پھر یہی غلطی مئی 1999 میں آپریشن کارگل شروع کرکے کی۔ ایک بار پھر یہ فیصلہ صرف چار جرنیلوں نے کیا۔ ائیر فورس اور بحریہ کو لاعلم رکھا گیا۔ جب بھارت نے فل سکیل جنگ کی دھمکی دی۔ تو وزیراعظم نواز شریف کو امریکہ بجھوا کر فیس سیونگ ایگزٹ حاصل کیا گیا۔ جنرل درانی نے اپنی حالیہ کتاب میں کارگل کی حقیقت بھی بیان کر دی ھے۔
جنرل ضیا الحق نے غیر ریاستی عناصر کے استعمال میں اخیر کر دی۔ کشمیر میں جہاد کے لیے لشکر طیبہ 1985 اور حرکت المجاہدین اسلامی 1984 میں کھڑی کی گئیں۔ اینٹی شعیہ سپاہ صحابہ 1985 اور اس کے ساتھ مقابلے کے لیے سپاہ محمد وجود میں آئیں۔ افغانستان میں آپریشن سائیکلون کے لیے مجاہدین کے سات گروپس تیار کیے گئے۔ اور خالصتان کے سکھوں کو سپورٹ کیا گیا۔ اور کراچی کی سیاست کنٹرول کرنے کے لیے مہاجر قومی موومنٹ تخلیق کی گئی۔
نبے کی دھائ میں جنرل بیگ نے چھ ملکوں کو ایٹمی ٹیکنالوجی دینے کی پالیسی بنا لی۔ تاکہ امریکہ کا مقابلہ کیا جا سکے۔ جب افغانستان میں مجاہدین گروپ آپس میں لڑ پڑے تو طالبان پیدا کرکے وھاں ان کی حکومت قائم کروا دی۔ جب امریکہ نے نائن الیون کے بعد دباؤ ڈالا۔ تو جنرل مشرف نے اچھے طالبان اور برے طالبان کا نظریہ پیش کر دیا۔ فیس سیونگ کے لیے ڈاکٹر قدیر سے معافی منگوائی۔ لشکر طیبہ پر پابندی لگائی تو لشکر جھنگوی سرگرم ھو گیا۔ جیش محمد شروع ھو گئ۔ جماعت الدعوہ بن گئ۔ اور اب جماعت دعوہ سے ملی مسلم لیگ کی پیدائش ھو چکی ھے۔ لبیک والے جڑ پکڑ رھے ھیں۔ طالبان میں سے تحریک طالبان پاکستان کا ظہور ھو گیا۔ اور پاکستان کے ستر ھزار شہری مارے گئے۔ ھم نے 1947 میں جن غیر ریاستی عناصر کا استعمال شروع کیا۔ آج ھم ان کی تیسری نسل سے فاٹا میں لڑ رھے ھیں۔ ٹی ٹی پی ، لشکر جھنگوی ، جنداللہ ، حقانی نیٹ ورک ، جیش محمد ، جماعت دعوہ ، جماعت الحرار کے خلاف کبھی آپریشن انڈیورنگ فریڈم ، کبھی آپریشن ضرب غضب ، کبھی آپریشن رد الفساد شروع کرتے ہیں۔ اور لبیک اور ملی مسلم لیگ کے نام سے نئے گروپ تشکیل دیتے ہیں۔ چالیس سال پرانی پالیسیوں کو کوستے ھیں ۔ اور وھی پالیسیاں جاری رکھتے ھیں۔
اچھا امریکہ کے ساتھ ھمارے فوجی آمروں کا معاملہ بھی ایک جیسا ھے۔ جنرل ایوب نے کولڈ وار میں امریکہ کے اتحادی بنے۔ اور امریکہ نے 1965 کی جنگ میں ھماری امداد بند کر دی۔ اور ایوب کو فرینڈز ناٹ ماسٹرز جیسی کتاب لکھنی پڑ گئ۔ جنرل یحیی نے امریکہ کے چین کے ساتھ تعلقات استوار کروانے لیکن ساتواں بحری بیڑہ کبھی نہ پہنچ پایا۔ جنرل ضیا الحق نے پہلے افغان وار میں امریکہ کا ساتھ دیا۔ لیکن کشمیر پر امریکی سپورٹ حاصل نہ کر سکے۔ جنرل مشرف نے امریکی دباؤ میں پوری پالیسی تبدیل کر دی۔ لیکن پاکستان پر سٹیٹ سپانسرڈ دھشتگردی کا الزام نہ دھلوا سکے۔ اور اب سی پیک کا معاملہ تنازعے کی وجہ بنا ھوا ھے۔
اور مزے کی بات یہ ھے۔ غیر ریاستی عناصر اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کی میں نے مختصر تاریخ بیان کر دی۔ لیکن سیاسی معاملات میں بھی ھماری غلطیوں کا تسلسل جاری ھے۔ جنوری 1965 کے صدارتی انتخاب میں جنرل ایوب نے جس دھاندلی اور جوڑ توڑ کا آغاز کیا تھا۔ 1971کے انتخابات میں جنرل یحیی نے وھی غلطی کی۔ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں جنرل ضیاءالحق نے ایلیکٹ ایبلز کا تحفہ اس ملک کو دیا۔ یہ ایلیکٹ ایبلز تبدیلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن کر اسٹیبلشمنٹ کا ھتیار بنے ھوے ھیں۔ 2002 میں مسلم لیگ ق ، 2007 میں پیپلز پارٹی ، 2013 میں مسلم لیگ ن اور اب تحریک انصاف۔
اس مختصر سی تاریخ بیان کرنے کا مقصد یہ ھے۔ ھم جان سکیں۔ یہ غیر ریاستی عناصر کا معاملہ ھو۔ سیاسی جوڑ توڑ ھو۔ یا امن اور جنگ کی صورتحال ھو۔ ھم انہی پرانی ٹیکٹس پر عمل جاری رکھے ھوے ھیں ۔ اس طریقہ کار اور پالیسیوں نے اگر ھمیں پہلے فائدہ نہیں پہنچایا۔ تو آئندہ کیسے فائدہ ھو گا۔ اگر ھم اپنا ملک دولخت کروا چکے ہیں۔ اپنے ھی لیڈر بھٹو کو پھانسی لگا چکے ھیں۔ بے نظیر بھٹو اور بگٹی کو قتل کروا بیٹھے ھیں ۔ دھشتگردی کے ھاتھوں یرغمال بنے ھیں ۔ معاشیات اور معاشرہ تباہ اور تقسیم در ھے۔ تو کم از کم اب ھی اپنے طور طریقے ٹھیک کر لیں۔ اور کچھ نہیں تو کچھ غلطیوں میں ھی جدت پیدا کر لیں ۔ وھی پرانے بلنڈرز دہراتے جا رھے ھیں۔ اب نوازشریف کا خاتمہ نظر میں ھے۔ تو ایلیکٹ ایبلز کے ذریعے پھر سے سیاست پر قبضہ کرنے کے پلان بن رھے ھیں۔ آخر کب تک ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *