نئے صدر کےاختیارات اپنے پیشرو کے مقابلے میں محدود ہونگے

Mamnooصدر آصف علی زرداری کی مدت صدارت ختم ہونے کو ہے اور ان کے اعزاز میں دی جانے والی الوداعی تقاریب، ظہرانوں اور عشائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان تمام تر تقاریب کا مرکزی موضوع اور مقصد آصف علی زرداری کی ذات اور ان کی مدت صدارت کے دوران پیش آنے والے مختلف واقعات اور اس حوالے سے ان کا کردار رہا ہے۔

گو کہ صدر زرداری کے لیے صدارت کے عہدے پر گزارے ہوئے گزشتہ پانچ سال خاصے سخت اور مشکل ثابت ہوئے تاہم بحیثیت صدر مملکت، عملی سیاست حصہ لینے پر اپنے اوپر کی جانے والی تمام تر تنقید اور استعفیٰ دینے کے بہت سے مطالبات کے باوجود وہ پاکستان کے پہلے منتخب صدر ہیں جنہوں نے باقاعدہ طور پر اپنی مدت صدارت مکمل کی۔

تاہم یہ بات یقینی نظر آتی ہے کہ ان کے جانشین، نومنتخب صدر ممنون حسین ان کی طرح بااختیار نہیں ہوں گے۔ بہرحال، سابق صدر رفیق تارڑ کی طرح ممنون حسین کے انتخاب کی وجہ بھی یہی نظر آتی ہے کہ وہ ایوان صدر میں اپنا وقت خاموشی کے ساتھ گزاریں گے اور وزیراعظم نواز شریف ہی کو مرکزِ نگاہ بنے رہنے کا موقع فراہم کرتے رہیں گے۔

لیکن یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ نومنتخب صدر میڈیا پر نظر آنے کے شوقین معلوم ہوتے ہیں۔ صدارتی انتخاب میں کامیابی کے بعد وہ میڈیا میں خاصا “اِن” بھی رہے اور مختلف سیاسی معاملات پر تبصرے بھی کرتے رہے ہیں۔

صدر منتخب ہونے کے بعد، ایوان صدر منتقل ہونے سے پہلے ہی، ایک ماہ کے مختصر عرصے کے دوران انہوں نے تقریباً تمام معروف نیوز چینلز کو انٹرویوز بھی دیے اور اب تک وہ اپنے مہمانوں سے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس ہی میں ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔

اور ساتھ ہی ساتھ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ وہ کتنے مصروف اور عوام میں کتنے مقبول ہیں اس بات کا بھی اہتمام جاری رکھے ہوئے ہیں کہ یومیہ بنیاد پر ان کی یومیہ اجلاسوں اور کارروائیوں کے بارے میں پریس ریلیز جاری ہو۔

اگر یہ سوال جناب زرداری کے بارے میں اٹھایا جاتا ہے تو یہی سوال ممنون حسین کے لیے بھی اُٹھنا چاہئے کہ کیا صدرِمملکت کے لیے، جو کہ آئین کی رو سے وفاق کی علامت ہوتا ہے، یہ مناسب ہے کہ وہ متنازعہ سیاسی موضوعات، مثلاً طالبان کے ساتھ مجوزہ مذاکرات جیسے معاملات میں خود کو اُلجھائے؟

اگست کی پانچ تاریخ کو ایک ٹی وی ٹاک شو کے دوران منون حسین نے عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کی تجویز کی حمایت میں بہت سے دوسرے حلقوں کی طرح دلائل دیتے ہوئے کہا تھا اگر امریکہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ بات چیت کے عمل میں مصروف ہو سکتا ہے تو ہم پاکستان میں ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔

پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے ایک رکن ہونے کے ناطے سے یہ نقطہ نظر غیر متنازع ہو سکتا ہے کیونکہ پارٹی کا اپنا موقف بھی یہی ہے، تاہم ایک نومنتخب صدر کی حیثیت سے کیا انہیں ان خیالات کا اظہار کرنا چاہئے تھا کیونکہ اب بھی اس ملک میں بہت سے لوگ اس موقف کی سختی کے ساتھ مخالفت کرتے ہیں۔

اگست کے دوسرے ہفتے میں ایک اخباری انٹرویو کے دوران منون حسین نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے کھل کر اظہار خیال کیا اور کہا کہ ملک کا مفاد اسی میں ہے کہ وہ ہندوستان، ایران اور چین کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم کرے۔

پچھلے ہفتے منون حسین نے کراچی میں تاجروں کے ایک وفد کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے زور دیا کہ وہ اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، دہشت گردی اور دیگر جرائم میں ملوث جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے سندھ حکومت پر دباؤ ڈالیں۔ وفاق کے غیر جانبدار نمائندے کے بجائے اس عمل اور مشورے کے محرکات بھی بظاہر سیاسی محسوس ہوتے ہیں۔

ممنون حسین کے لیے کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ وہ یہ یاد رکھیں کہ آئین کے تحت ان کا کردار محدود ہے۔

آئین میں ہونے والی اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے بعد، وہ تمام صدارتی اختیارات جو سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے لیے مختص کر رکھے تھے، اب پارلیمنٹ کو منتقل ہو چکے ہیں۔ اب یہ اختیارات پارلیمنٹ کے سربراہ، یعنی وزیراعظم کے پاس ہیں۔

بہرحال یہ جمہوریت کے مغربی ماڈل کے مطابق ہے جو کہ پاکستان کے سیاسی نظام کی بنیاد بھی ہے۔ ماضی میں اکثر مواقع پر فوج کے اقتدار پر قبضے اور خاکی وردیوں میں ملبوس افراد کی اقتدار سے چمٹے رہنے کی خواہش کی وجہ سے اختیارات کا مرکز ایوان صدر ہی رہا ہے۔

تاہم، سابق صدر رفیق تارڑ کی طرح ممنون حسین کو وہ تمام اختیارات اور مراعات حاصل نہیں ہوں گی۔ پارلیمانی جمہوری روایات کے تحت وہ محض ایک رسمی سربراہِ مملکت ہی ہوں گے۔

گو کہ صدر زرداری کو بھی صدر کی حثیت سے ایسے اختیارات حاصل نہیں تھے، تاہم پیپلز پارٹی پر اپنے کنٹرول کی وجہ سے، پس پردہ ہی سہی، لیکن ان کا اثرورسوخ اچھا خاصا تھا۔ آخر کار، پیپلز پارٹی کی اسلام آباد ہی نہیں سندھ میں بھی حکومت تھی۔

ایک مقامی یونیورسٹی میں علم سیاسیات کے پروفیسر، جو اپنا نام ظاہر کرنا نہیں کرنا چاہتے، کا کہنا ہے کہ صدر زرداری نے تقریباً اکیلے ہی پیپلزپارٹی کی حکومت چلائی۔

اس بات سے قطع نظر کہ انہوں نے صدارت اور سیاست کو ایک ساتھ چلانے کا طرزعمل درست تھا یا نہیں، پاکستان میں جمہوری نظام کے استحکام اور ترویج کے لیے بہتر ہو گا آنے والے صدر اپنا کردار آئین میں وضع کردہ حدود میں رہتے ہوئے ہی ادا کریں۔

مذکورہ پروفیسر کا کہنا تھا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم 1973ء کے آئین کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کریں، جس کے تحت صدر کو کسی سیاسی پارٹی یا متنازعہ سیاسی فیصلوں سے الگ رہنا چاہیے۔ صدر کو سوائے مخصوص مواقع کے عوامی نگاہوں سے بھی دور رہنا چاہیے۔

اب یہ دیکھنا ہو گا کہ رسمی طور پر ایوان صدر میں منتقل ہونے کے بعد، نومنتخب صدر کیا کرتے ہیں۔ مستقبل میں ان کے اعمال کے بارے میں پیشگوئی کرنا قبل از وقت ہو گا تاہم یہ بات یقینی ہے کہ وزیراعظم نواز شریف انہیں ان کے آئینی کردار سے بڑھ کر کوئی آزادی نہیں دیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *