الماریوں اور دل کا بوجھ

حامد صاحب عجیب و غریب شخصیت ہیں۔ ساری دُنیا عورتوں کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے کمر بستہ ہے‘ یہ مردانہ وجاہت کے لیے کوشاں ہیں۔ تفصیلات کے لیے پہلے یہ واقعہ ملاحظہ کیجئے۔ نیو یارک میں ایک دفعہ ان کی کار خراب ہو گئی تو ایک گیس سٹیشن میں واقع ورکشاپ تشریف لے گئے۔ مکینک نے نقص دور کر دیا تو اُس کے کپڑوں کا جائزہ لیتے ہوئے بولے ''کیا عام حالات میں بھی تم ایسے ہی میلے کپڑے پہنے رہتے ہو یا تمہارا کوئی اور ڈریس بھی ہے؟‘‘۔ موٹے امریکی انگریز مکینک نے تیوری چڑھائی‘ ایک نظر اُن کی طرف دیکھا‘ پھر پاس بنے اپنے چھوٹے سے کمرے میں گیا اور وہاں سے ایک مزید میلی جیکٹ اٹھا کر باہر لاتے ہوئے بولا ''یہ ہے میرا ڈریس اور میں اسی میں ایزی رہتا ہوں‘‘۔ حامد صاحب نے عینک درست کی اور ایک عجیب سا سوال داغا ''کیا تم اپنی زندگی سے مطمئن ہو؟‘‘۔ انگریز مکینک چونک اُٹھا‘ کچھ دیر خاموش رہا‘ پھر بیزاری سے بولا ''نہیں!‘‘۔ حامد صاحب نے وجہ پوچھی تو وہ پھٹ پڑا ''میں مطمئن کیسے ہو سکتا ہوں‘ میری بیوی نے مجھ سے طلاق مانگ لی ہے اور اب ایک ماہ بعد مجھے اسے نہ صرف طلاق دینا پڑے گی بلکہ قانون کے مطابق آدھی جائیداد بھی اس کے نام کرنا پڑے گی‘ حالانکہ میں نے بڑی محنت سے یہ گیس سٹیشن ورکشاپ بنائی ہے لیکن اب یہ بھی میرے ہاتھ سے نکل جائے گی‘‘ حامد صاحب نے سر ہلایا ''ہاں‘ یہ تو افسوس کی بات ہے لیکن تم جتنے اچھے اور محنتی مکینک ہو‘ یقینا بہت جلد اپنے ہنر کی بدولت نئی ورکشاپ اور گیس سٹیشن بنا لو گے لیکن کیا زندگی یونہی گزارو گے یا اب کوئی دوسری شادی بھی کرو گے؟‘‘۔ مکینک مسکرایا ''شادی تو میں کروں گا‘ ایک لڑکی بھی دیکھ رکھی ہے‘ بہت پیاری ہے‘‘۔ حامد صاحب بے اختیار بولے ''تو کیا اُسے اپنی پرانی جیکٹ میں بیاہ کر لائو گے؟‘‘۔ یہ سنتے ہی مکینک کے چہرے کا رنگ بدل گیا‘ یکدم اسے احساس ہوا کہ بہرحال زندگی میں لباس کی اپنی اہمیت ہے۔ حامد صاحب بتاتے ہیں کہ اس کے بعد وہ میکنک نہ صرف ان کا دوست بن گیا بلکہ انتہائی ڈھنگ کا لباس بھی پہننے لگا۔
حامد صاحب سند یافتہ فیشن ڈیزائنر ہیں۔ طویل عرصہ امریکہ میں گزار چکے ہیں۔ یہ صرف مردانہ لباس کی ڈیزائننگ کرتے ہیں۔ بتانے لگے کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے مرد حضرات اس بات سے ناواقف ہوتے ہیں کہ ان کے سکن کلر کے ساتھ کون سا رنگ جچتا ہے۔ لوگ کسی بھی قسم کے رنگ کا لباس پسند کر لیتے ہیں‘ یہ جانے بغیر کہ یہ ان کی شخصیت سے میچ کرتا بھی ہے یا نہیں۔ ہر مرد کو اپنے شعبے کی مناسبت سے لباس پہننا چاہیے۔ لباس کے انتخاب میں آنکھوں کا رنگ‘ بالوں کا رنگ‘ قد اور جسامت انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں‘ جنہیں عام طور پر اہمیت نہیں دی جاتی۔ حامد صاحب ایسی باریکیوں پر انتہا کی نظر رکھتے ہیں۔
ایک دفعہ پریذیڈنٹ بار ایسوسی ایشن نیو یارک سے کہنے لگے کہ آپ نے جو سفید شرٹ پہنی ہوئی ہے یہ آپ کے سکن کلر کے مطابق درست نہیں۔ پریذیڈنٹ نے گھور کر حامد صاحب کو دیکھا اور کہنے لگا ''یہ میری یونیفارم ہے‘ میں یہ رنگ تبدیل نہیں کر سکتا‘‘۔ حامد صاحب مسکرائے ''تبدیل مت کریں‘ صرف اس کی ٹون بدل دیں‘ سفید رنگ کی بھی اپنی ٹونز ہیں‘ جو ٹون آپ نے پہنی ہوئی ہے وہ آپ کے مطابق نہیں کیونکہ آپ کی جلد کا رنگ ضرورت سے زیادہ سفید ہے‘‘۔ پریذیڈنٹ پیچ و تاب کھا کر رہ گیا ‘ اس کے لیے یہ بات نا قابلِ برداشت تھی‘ سو طعنہ دیا کہ ''اگر ایسی بات ہے تو پھر آپ کوئی کمال دکھا دیجئے‘‘۔ یہی تو حامد صاحب چاہتے تھے... انہوں نے اگلے ہفتے ایک اپنے مطلب کی سفید شرٹ ڈیزائن کرکے انہیں دی جسے پہننے کے بعد پریذیڈنٹ بار ایسوسی ایشن نیو یارک کا خوشگوار فون اس جملے کے ساتھ آیا کہ ''میری بیگم کو نہیں معلوم کہ میں نے نئی شرٹ پہنی ہے کیونکہ میرے پاس دو سو برینڈڈ وائٹ شرٹس موجود ہیں؛ تاہم آج اس نے دفتر جانے سے قبل مجھ سے ایک عجیب سی بات کہی کہ آپ کچھ زیادہ ہی اچھے لگ رہے ہیں۔ یہی حامد صاحب کی کامیابی تھی۔ تاہم پریذیڈنٹ کا اگلا جملہ تھا ''یہ فرمائیے کہ اب میں اپنی اُن دو سو برینڈڈ شرٹس کا کیا کروں؟‘‘۔ حامد صاحب نے اطمینان سے کہا ''غریبوں میں بانٹ دیجئے‘‘۔
یہی وہ جملہ ہے جس کی بنیاد انہوں نے پاکستان میں بھی رکھی۔ وہ نیو یارک سے لاہور تشریف لائے اور یہاں مردانہ لباس کی باریکیوں کے مطابق اپنے کام کا آغاز کیا اور جن لوگوں کے پاس کپڑوں کے انبار جمع تھے‘ انہیں یہ گزارش کی کہ وہ بلا وجہ کے کپڑوں کے ڈھیر سے نجات حاصل کریں‘ اور اِنہیں کسی مستحق کی زندگی میں خوشی کا باعث بنائیں۔ حامد صاحب انتہائی درد دل رکھنے والے انسان ہیں۔ یہ کسی کو بتائے بغیر سپیشل بچوں کو اکٹھا کرتے ہیں اور انہیں بہترین ہوٹل میں کھانا کھلاتے ہیں۔ یہ کوئی این جی او نہیں چلاتے‘ کسی سے پیسے نہیں مانگتے لیکن اپنے طور پر ہر ملنے جلنے والے سے اپیل کرتے رہتے ہیں کہ اپنے استعمال شدہ لباس کو ڈھیر میں تبدیل مت کریں۔
کچھ روز پہلے انہوں نے مجھ سے بھی درخواست کی کہ کیا ہی اچھا ہو اگر عید سے پہلے مرد حضرات اپنی استعمال شدہ شرٹس غربا میں گفٹ کر دیں کہ آج کل متوسط اور غریب شخص بھی شرٹ پہننے کا شوق رکھتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ تقسیم کی ذمہ داری کون لے گا؟ اس پر انہوں نے خود کو پیش کر دیا۔ میں جانتا ہوں یہ آسان کام نہیں لیکن قارئین اگر چاہیں تو اس منفرد نیک کام میں حامد صاحب کا ہاتھ بٹا سکتے ہیں۔ کرنا صرف یہ ہے کہ اپنی ایسی شرٹس الماری سے نکالیں جو واقعی عید کے دن کوئی غریب اہتمام سے پہن سکے۔ شرٹس کو استری کریں ‘ خوبصورتی سے پیک کریں اور انتہائی محبت سے حامد صاحب کو 0322-3333034 پر فون کر لیں۔ یاد رہے کہ 'دیوارِ مہربانی‘ کی طرح یہ شرٹس لٹکانے کے لیے نہیں بلکہ کسی کو عزت و احترام سے تحفتاً پیش کی جائیں گی‘ لہٰذا اِن کی پیکنگ بھی ایسے کریں جیسے آپ کسی دوست عزیز کو یہ شرٹس پیش کرنے جا رہے ہوں۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ نہ صرف آپ کی الماری میں نئی شرٹس کے لیے جگہ بن جائے گی بلکہ آپ کا استعمال شدہ لباس کسی ایسے کے حصے میں آئے گا جس کے لیے یہ نیا ہو گا۔ عید پر کتنے ہی لوگ ہیں جو نیا لباس سلوانے یا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
آپ کی یہ چھوٹی سی کاوش بہت سے لوگوں کی عید پرمسرت بنا سکتی ہے۔ میں نے بھی اس خوبصورت مہم کا حصہ بنتے ہوئے اپنی کچھ شرٹس منتخب کر لی ہیں‘ میرے لیے یہ احساس ہی بہت خوشگوار ہے کہ عید کے دن معاشی حالات سے مجبور کئی لوگ فخر سے ایک ایسا لباس پہنیں گے جس کے لیے انہیں کسی کے سامنے شرمندہ نہیں ہونا پڑے گا۔ ہم میں سے بہت سوں کی الماریاں ایسے کپڑوں سے بھری پڑی ہیں جنہیں شاید سال میں ایک دفعہ بھی استعمال کرنے کی نوبت نہیں آتی‘ اس کے باوجود ہم نے اِنہیں سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ مدتوں سے پڑا ہوا یہ لباس پتا نہیں اب ہمیں پورا بھی ہے یا نہیں‘ یہ بھی کنفرم نہیں۔ تو پھرآئیے ...اپنی الماریوں اور دل کا بوجھ ہلکا کریں...!!!
یاد رہے کہ 'دیوارِ مہربانی‘ کی طرح یہ شرٹس لٹکانے کے لیے نہیں بلکہ کسی کو عزت و احترام سے تحفتاً پیش کی جائیں گی‘ لہٰذا اِن کی پیکنگ بھی ایسے کریں جیسے آپ کسی دوست عزیز کو یہ شرٹس پیش کرنے جا رہے ہوں۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ نہ صرف آپ کی الماری میں نئی شرٹس کے لیے جگہ بن جائے گی بلکہ آپ کا استعمال شدہ لباس کسی ایسے کے حصے میں آئے گا جس کے لیے یہ نیا ہو گا۔ عید پر کتنے ہی لوگ ہیں جو نیا لباس سلوانے یا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

(گل نوخیز اختر کا یہ کالم روزنامہ دنیا سے لیا گیا ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *