حقائق اور فسانے

ہمیشہ بلنڈرز ، چالوں، فوجی مس ایڈونچرز وغیرہ کوچھپانے  کے لیے ملک کی ستر سالہ تاریخ میں  جھوٹ اور دھوکے کا سہارا  لیا جاتا ہے۔ حقائق کو عوام سے مخفی رکھنےکی کوشش کی جاتی ہے اگرچہ وہ جانتے ہیں۔ ناکامی کو کامیابی کہہ کر سلیبریٹ کیا جاتا ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے  کہ ہم اپنی ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا نہین چاہتے ۔ 65ء کی جنگ میں جو ہوا اور 71ء کی جنگ میں جو ملک ٹوٹا ان غلطیون کا آج تک سر عام اعتراف نہیں کیا جاتا۔ ایبٹ آباد میں  ہائی سکیورٹی گیرژن کے قریب  سے امریکی فوج کے آپریشن اور اسامہ کی موجودگی کے بارے میں جو مسٹری سامنے آئی ہے وہ بھی ابھی تک سامنے نہیں لائی جا رہی۔ ان تمام واقعات پر بننے والے انکوائیری کمیشن کی رپورٹس کو نیشنل سکیورٹی کے نام سے فائلوں میں دبا دیا جاتا ہے۔ زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ایسی رپورٹس عوام کے سامنے غیر ملکی ذرائع سے آتی ہیں اگرچہ ان میں بھی پورا سچ نہیں بتایا جاتا۔  اس صورتحال کی وجہ سے عوام اور حکمران طبقہ کے بیچ عدم اعتماد کی فضا قائم ہو چکی ہے۔ یہ بات حیران کن نہیں ہے کہ عوام غیر ملکی ذرائع پر بھروسہ کرنے لگے ہیں  یہ دیکھے بغیر کہ یہ کتنی غیر حقیقی معلومات پر مبنی ہو سکتی ہیں۔ سکیورٹی ایجنسیاں اس قدر حساس ہو گئی ہیں کہ ملک میں ایسے معاملات پر پبلک ڈیبیٹ کو بھی نیشنل سکیورٹی کی خلاف ورزی مانا جاتا ہے۔ ایک اہم مثال کارگل مس ایڈونچر کی ہے جس کی تحقیقات مکمل نہ کرنے کی بھی یہی وجہ ہے۔ یہ ایسا واقعہ تھا جس میں پاکستان کو ملٹری اور سفارتی لحاظ سے دنیا بھر میں ہزیمت اٹھانا پڑی اور پھر اس کے بعد ایک بار پھر فوجی اقتدار کی راہ ہموار کی گئی  اور سول ملٹری تعلقات کا مسئلہ کھڑا کر کے اس بڑے مسئلے کو چھپا دیا گیا۔ لیکن ایک نئی اور تحقیق پر مبنی کتاب  جو مشہور پاکستانی صحافی نسیم زہرہ نے لکھی ہے اس کا عنوان 'کارگل سے بغاوت تک ' ہے اور اس میں کارگل جنگ کی پوری تفصیلات موجود ہیں۔ اس کتاب میں پوری ترتیب سے کارگل آپریشن کے واقعات کو بیان کیا گیا ہے  اور اس سے قبل جنگوں اور پاکستان اور بھارت کے بیچ کشمیر کی
وجہ سے بگڑتے تعلقات پر بھی تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ اس مس ایڈونچر سے سول ملٹری گیپ کا اندازہ ہوتا ہے  لیکن یہ چیز تو پوری کہانی کا صرف ایک ہی پہلو ہے۔ اصل معمہ یہ ہے کہ چند جرنیل مل کر کس طرح ملک کو ایٹمی جنگ کے دہانے پر لے آئے تھے۔ یہاں تک کہ بہت سے سینئر ملٹری لیڈرز کو بھی اس آپریش سے بے خبر رکھا گیا تھا۔ مصنف کے مطابق کارگل ایڈونچر چار بڑے جرنیلوں نے پلان کیا تھا جنہوں نے بعد میں منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا اور کارگل کو ایک کامیاب سٹریٹجک حکمت عملی قرار دیتے ہوئے اس کی ناکامی کا بار نا اہل سویلین لیڈر شپ کے کھاتے میں ڈال دیا۔ اس کتاب کی اہمیت اس لیے بڑھ گئی ہے کیونکہ ابھی تک فوج کے اندر بھی کارگل واقعہ کو کھل کر ڈسکس نہیں کیا گیا ہے۔ کارگل سے بغاوت تک نامی یہ کتاب اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ آپریشن سے قبل سویلین لیڈڈرشپ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا ، منظور ی لینا تو بہت دور کی بات ہے۔ آپشریشن سے چھ ماہ بعد یعنی مئی 1999 میں سویلین قیادت  اور ڈیفنس کمیٹی آ ف کیبینٹ  کو ملٹری قیادت نے بریفنگ دی۔ اس وقت تک آپریشن کا سب کو معلوم پڑ چکا تھا۔ کتاب میں لکھا ہے کہ اس آپریشن میں وہی طریقہ اختیار کیا گیا جو آپریشن جبرالٹر میں استعمال کیا گیا تھا ۔ آپریشن جبرالٹر کی وجہ سے 1965 جنگ کا آغاز ہوا تھا۔  کارگل آپریشن کو کوہ پیما آپریشن کا نام دیا گیا اور یہ پاکستان اور بھارت کے ایٹمی دھماکوں سے ایک سال بعد شروع کیا گیا ۔ اس آپریشن کے کمانڈر جنرل مشرف تھے جن کا خیال تھا کہ کچھ سٹریٹجک پہاڑیوں پر قبضہ کر کے بھارتی فوج کی سپلائی لائن بند  کر کے بھارت کو کشمیر کے بارے میں مذاکرات پر مجبور کیا جا سکتا تھا۔ مصنفہ کے مطابق اس آپریشن کے بہت سے مقاصد تھے جن میں سے ایک دنیا بھر میں کشمیر ایشو کو توجہ کا مرکز بنانا تھا۔ جرنیلون کے ٹولے کو اس مقصد کی کامیابی کا پورا یقین تھا۔ لیکن توقعات کے بر عکس یہ آپریشن بہت مہنگا پڑ گیا۔ پاکستان کو بغیر کسی شرط کے اپنی قبضہ والی چوٹیوں سے ہٹنا پڑا۔ اس سے مسئلہ کشمیر کو بھی بہت نقصان پہنچا  اور پاکستان کو بین الاقوامی کمیونٹی کی حمایت سے محروم ہونا پڑا۔ اس آپریشن سے سول ملٹری تنازعات بھی دوبارہ بڑھنے لگے اور پھر کارگل آپریشن کے پیچھے ذمہ دار جرنیلوں نے حکومت کے خلاف بغاوت کر کے تختہ الٹ دیا۔ اتنے بڑے اور نقصان دہ واقعہ پر بھی کوئی تحقیقات نہیں کی گئیں۔ اس بڑے آپریشن کے بارےمیں جس پر اب تک عوامی سطح پر بحث نہیں کی گئی بہت سی معلومات اس کتاب سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ابھی تک تو اس کتاب کو بہت مثبت رد عمل ملا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ایک اور کتاب بھی آئی ہے جس کی وجہ سے ملک بھر کے تمام عسکری  اور عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے یہ مشہور کتاب 'دی سپائی کرانیکلز ' ہے جو سابقہ آئی ایس آئی چیف اور را چیف نے مل کر تحریر کی ہے یہ کتاب پچھلے ہفتے بھارت میں لانچ ہوئی ۔ اس کتاب میں سابقہ آئی ایس آئی چیف نے کچھ ایسے معاملات کا ذکر کیا ہےجو بھارت اور پاکستان کے بیچ تنازعات اور امن کی خرابی کا باعث بنے ہیں ۔ جنرل درانی جو اصغر خان کیس میں بھی اہم کردار کے حامل ہیں، ان کو اس کتاب کی وجہ سے بیرون ملک سفر سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ہے ۔ سب سے اہم بات جس سے آرمی کو سخت گزند پہنچا ہے یہ تھی کہ آرمی کو امریکہ کی طرف سے بن لادن کی رہائش گاہ پر چھاپے کے بارے میں پہلے سے معلومات تھیں۔ اس بات سے اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ اپنی حساس پوزیشن کی وجہ  جرنیل کو اپنےبیان میں زیادہ کھل کر بات کرنا چاہییے تھی  لیکن اس نے ابھی تک ایسا کچھ نہیں کہا جس کے بارے میں پہلے کچھ نہ لکھا گیا ہو۔ اس رد عمل سے ملٹری کے نیشنل سکیورٹی کے بارے میں تنگ ذہنیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ایک سابقہ جرنیل کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔ جنرل درانی نے کوئی بھی ریاستی راز افشا نہیں کیے  اور ان پر سفری پابندیاں لگانا حد سے زیادہ سختی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ دوسرے سینئر ملٹری افسران جن میں مشرف بھی شامل ہیں، وہ اس سے بڑھ کر اہم باتوں پر زبان درازی کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ ہماری ماضی کی غلطیوں پر کھل
کر بحث کرنے سے ریاست کمزور نہیں مضبوط ہو گی

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *