چیف جسٹس اور ڈاکٹر سعید

اعتراض کرتے تھے ۔صرف انفراسٹرکچر پر توجہ دیتے ھیں ۔ ھسپتال نہیں بناتے۔ پاکستان کا پہلا کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ ھسپتال( سٹیٹ آف آرٹ) لاھور میں بنا۔ پہلے گردے اور جگر کے مریض بھارت جاتے تھے۔ اس ھسپتال کو چلانے کے لیے باھر سے ڈاکٹرز بلوائے گئے۔ ان میں ایک ڈاکٹر سعید ھیں ۔ جو امریکہ میں اپنی کروڑوں کی آمدن چھوڑ کر پاکستان چلے آے۔ لوگوں کا شکوہ ختم کر دیا کہ باھر سے ڈاکٹر واپس اپنے وطن نہیں آتے۔ اور دیکھیں ان کے ساتھ کیا سلوک ھو رھا ھے۔ چیف جسٹس اسے کورٹ بلاتا ھے۔ اور سرعام اس کی بےعزتی کرتا ھے۔ یہ کہہ کر کہ تم 12 لاکھ تنخواہ لے کر ملک کو لوٹ رھے ھو۔ اس گریجویٹ جج کی اپنی تنخواہ اس سے زیادہ ھے۔ دن رات جھوٹ بولنے والے اینکرز اس سے ڈبل تنخواہیں لے رھے ھیں ۔ کسی بھی پرائیویٹ کمپنی کے سی اوز اس سے زیادہ کما لیتے ھیں ۔ اور اھم بات یہ ھے۔ اگر چیف جسٹس نے پوچھنا ھے۔ تو ان سے پوچھے۔ جنہوں نے یہ تنخواہ مقرر کی۔ ایک محب وطن ڈاکٹر کو کورٹ میں بلوا کر اسے رسوا کرنے کا مقصد کیا ھے۔ لوگ کہہ رھے ھیں ۔ اس کے ڈاکٹر بھائی کا مفاد وابستہ ھے۔اور چیف جسٹس ڈاکٹر سعید کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر رھا ھے۔ لوگ کہہ رھے ھیں ۔ بغض نوازشریف ھے۔ سیاسی مخالفت ھے۔ سننے میں آ رھا ھے۔ خاکیوں نے اسے کہا تھا ۔ اس ھسپتال کا ان کے ساتھ الحاق کر دو۔ کوئی بھی وجہ ھو۔ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ھو رھا ھمارے اداروں کو عوامی منصوبوں سے کسقدر نفرت ھے۔ اورنج ٹرین پر 22 ماہ کا عدالتی روک ایک اور مثال ھے۔ اور سی پیک کو متنازعہ بنانا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ یہ دنیا کا واحد ملک ھے جہاں انفراسٹرکچر کی ترقی کی یہ کہہ کر مذمت کی جاتی ھے کہ انفراسٹرکچر سے قومیں ترقی نہیں کرتیں۔ مسلہ صرف یہ ھے۔ گلوریفیکیشن ، عزت اور احترام اور مالی مفاد کچھ اداروں نے اپنا حق بنا لیا ھے۔ سویلین اداروں کو فوجی آمروں کے دور میں جان بوجھ کر تباہ کیا گیا۔ تاکہ ان کا طوطی بولتا رھے۔ انہیں اس ملک کی فلاح و بہبود عزیز نہیں ۔ لوگوں کی ترقی عزیز نہیں ۔ ان کا پڑھ لکھ جانا عزیز نہیں ۔ تاکہ ان کے پروپیگنڈے کا سحر چلتا رھے۔ اور لوگ ان کے بنائے گئے مائنڈ سیٹ میں جکڑے رھیں ۔ یاد رھے بیماری ، غربت اور جہالت جتنی زیادہ ھو گی۔ ملا اور ملٹری ڈکٹیٹرز کا کام اتنا سہل ھو گا۔ ملا ، ملٹری اور الیکٹ ایبلز ( جاگیردار) کی یہ تکون ججوں کے ساتھ مل کر ستر سال سے اس ملک کو کھا رھی ھے۔ اور جو مقبول سیاستدان ان کو چیلنج کرتا ھے۔ اسے راستے سے ھٹا دیتے ھیں ۔ جو سلوک ڈاکٹر سعید کے ساتھ کیا جا رھا ھے۔ اس کے بعد کون شخص واپس وطن جانے کی خواہش کرے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *