پوچھنا یہ تھا

پوچھنا یہ تھا۔کیا عدلیہ میں جاری برسوں کی رشوت ختم ھو گئ ھے ؟
روایت ھے۔ کہ سب سے زیادہ کرپشن عدلیہ کے ادارے میں ھے۔
کیا آمدن سے زیادہ اثاثوں کے مالک عدالتی اہلکار پکڑے جا چکے ہیں؟
کیا عدالتیں فوری انصاف کر رھی ھیں ؟
کیا بیس تیس سال پرانے مقدمات کے فیصلے ھو گئے ھیں ؟
کیا غریبوں کو سستا انصاف مل رھا ھے ؟
کیا بے اسرا اور عسرت ذدہ لوگوں کو عدالتوں میں رسائی اور عزت حاصل ھو گئ ھے ؟
کیا ضروری عدالتی ریفارمز ھو گئے ہیں ؟
کیا ججز کی تعداد میں مناسب اضافہ ھو گیا ھے ؟
کیا چیف جسٹس صاحب نے کبھی کسی چھوٹی عدالت یا کچہری کا دورہ کیا ھے ؟
کیا چیف جسٹس صاحب نے کبھی کسی عدالتی اہلکار یا جج کے خلاف ازخود نوٹس لیا ھے ؟
اگر تو ھمارا عدالتی نظام پچاس فیصد بھی سدھر گیا ھے۔ تو پھر چیف جسٹس کا حق بنتا ھے۔ وہ ھسپتالوں کے دورے کریں ۔ گٹروں کی صفائی اور صاف پانی پر توجہ دیں۔ حکومتوں سے ان کی کارکردگی کا پوچھیں ۔ حکومتی انتظامی معاملات میں مداخلت کریں۔ حکومتی ملازمین کی پوسٹنگ ٹرانسفرز کے حکم جاری کریں ۔ ڈاکٹرز اور افسران کو عدالتوں میں بلوا کر رسوا کریں ۔ لیکن یہ سب کچھ کرنے سے پہلے وہ اپنی چارپائی کے نیچے جھانک کر دیکھ لیں ۔ کہیں وھاں تو کچرے کے ڈھیر نہیں پڑے ۔ کہیں وھاں تو گندا پانی نہیں بہہ رھا ۔ اور کہیں وھاں تو صفائی کی ضرورت نہیں
بات کرتے ھیں پانڈے جی

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *