پاکستان کے جوہری پروگرام کو مزید ترقی دینے کا فیصلہ

Atomنیشنل کمانڈ اتھارٹی کے جعمرات پانچ ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں کسی بھی ممکنہ بیرونی جارحیت کے خلاف ملکی جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو مزید ترقی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے-

ایٹمی پروگرام کی تحقیق، ترقی، پیداوار، استعمال اور سلامتی کے حوالے سے بنیادی پالیسی کی تشکیل کے ادارے نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) کا ایک اجلاس وزیراعظم نواز شریف کی صدارت میں منعقد ہوا۔

جون میں تیسری مرتبہ وزیراعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد نواز شریف نے پہلی بار جوہری پالیسی کے حوالے سے کسی اجلاس میں شرکت کی۔ 1998ء میں اپنی وزارت عظمیٰ کے پچھلے دور میں انہوں نے ہرقسم کے بین لاقوامی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے ہندوستان کی جانب سے کیے گئے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کے اظہار کے لیے ایٹمی دھماکے کیے تھے۔

علاقائی سلامتی کی غیر مستحکم صورتحال اور جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے حوالے سے حکومتوں کی موجودہ امتیازی پالیسیاں ہی وہ عوامل ہیں جن کی بناء پر پاکستان نے اپنے جوہری پروگرام کو مزید ترقی دینے کا فیصلہ کیا ہے حالانکہ ملک کو کو شدید معاشی بحران کا سامنا ہے اور ایک روز قبل ہی ملکی معیشت کو بحران سے نکالنے کے لئے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے 6.64 ارب ڈالر کا قرضہ منظور کیا ہے۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ “پاکستان جنوبی ایشیا میں سلامتی سے متعلق سرگرمیوں سے غافل نہیں اور جارحیت کی تمام شکلوں کو روکنے کے لیے ایک ہرقسم کی مزاحمت کا جواب دینے کی صلاحیت کو برقرار رکھے گا۔” اس بیان میں جوہری پروگرام کو ملک کے دفاع کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔

جوہری پروگرام کی مزید ترقی سے مُراد یہ ہے کہ اس پروگرام میں اگر کوئی خلا باقی رہ گیا ہے تو اس کو دور کردیا جائے۔ پاکستان پہلے ہی اس راستے پر گامزن ہے اور ہندوستان کے سرد رویے کے جواب میں محدود فاصلے اور پیداوار کی حکمت عملی پر مبنی ہتھیار تیار کر چکا ہے۔

ہندوستان کے ساتھ روایتی ہتھیاروں کا بڑھتا ہوا فرق اور ملک کی تیزی سے بگڑتی ہوئی معیشت اور دیگر عوامل  ایسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر اسلام آباد نے اپنی جوہری صلاحیت میں کمی کی ابتدا کردی ہے۔

ترسیل کے نئے نظام کو متعارف کراتے ہوئے شارٹ رینج میزائل نصر، فضا سے مار کرنے والے کروز میزائل رعد اور وار ہیڈز کو محدود کرنا اپنے جوہری پروگرام پر پاکستان کی توجہ میں اضافہ کی طرف واضح اشارہ ہیں-

تاہم این سی اے نے ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہونے، ہتھیاروں کی دوڑ سے دور رہنے، ایٹمی سیکیورٹی سمٹ کے عمل کے ساتھ مسلسل منسلک رہنے اور عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے حوالے سے فعال کردار ادا کرتے رہنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اس کے علاوہ جوہری سلامتی پر انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے تحت نگرانی اور اہلکاروں کی تربیت میں اپنی مہارت کا اشتراک کرنے کی پیشکش کی تجدید بھی کی گئی۔

جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے نظام میں امتیازی رجحانات، خاص طور پر ایکسپورٹ کنٹرول نظام میں ہندوستان کے متوقع آمد کے حوالے سے این سی اے کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے پاکستان کی قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے ساتھ ساتھ جوہری ہتھیاروں کے عالمی سطح پر عدم پھیلاؤ کی سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے-

پاکستان کے منصوبہ سازوں کو خدشہ ہے کہ ایک مخصوص ملک کے لیے دی جانے والی رعایت کے تحت نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں ہندوستان کی شمولیت کے بعد پرامن مقاصد کے لئے بھی مہنگی ٹیکنالوجی کا حصول پاکستان کے لیے شاید ممکن نہ ہوسکے۔

نیشنل کمانڈ اتھارٹی نے یاددہانی کرائی کہ پاکستان خود کو سویلین جوہری ٹیکنالوجی کی رسائی کا اہل ثابت کرچکا ہے، اور وہ غیر امتیازی بنیاد پر نیوکلیئر سپلائر گروپ سمیت ایکسپورٹ کنٹرول حکومتوں کا رکن بننے کا بھی اہل ہے۔

پاکستان کی جانب سے فیسائل میٹریل (کٹ آف) ٹریٹی کی مخالفت کے حوالے سے این سی اے کا کہنا تھا کہ پاکستان ہتھیاروں کو کنٹرول کرنے کے ایسے کسی بھی نظام کی مخالفت جاری رکھے گا جس سے ملکی سلامتی اور اسٹریٹجک مفادات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو-

پاکستان 2009ء سے لے کر تخفیف اسلحہ پر کانفرنس میں ایف ایم سی ٹی پر مذاکرات کے آغاز کی مخالفت کرتا آیا ہے- اسلام آباد کا کہنا ہے کہ فیسائل میٹریل رکھنے والے ممالک اگر اپنے اسٹاکس ایک مناسب سطح پر لے آئیں تب ہی وہ فیسائل میٹریل (کٹ آف) ٹریٹی  پر دستخط کرے گا، بجائے اس کہ موجودہ اسٹاک لیولز پر ہی کٹ آف تاریخ مقرر کی جائے کیونکہ ایسا کرنے سے ملک ایک غیر سودمند پوزیشن پر آجائے گا-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *