عالمی طاقتیں شام کے خلاف فوجی کارروائی پر منقسم

Atomروس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں جی20 سربراہی اجلاس کے پہلے دن کے اختتام پر عالمی طاقتیں شام کے خلاف فوجی کارروائی پر متفق نہیں ہو سکیں۔اطالوی وزیرِ اعظم نے شام کے خلاف فوجی کارروائی کے بارے میں عالمی رہنماؤں کے متفق نہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔روسی ایوانِ صدر کے ایک ترجمان نے کہا کہ شام پر حملہ ’بین الاقوامی قانون کے تابوت میں ایک اور کیل‘ ثابت ہو گا۔

دوسری جانب ادھر اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر سمانتھا پاور نے روس پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے شام کے خلاف سلامتی کونسل کی قرار دادوں کو بار بار ویٹو کر ادارے کو یرغمال بنا لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کو جنگی جرائم کا ذمہ دار قرار دینے کا اب کوئی ’قابلِ عمل راستہ‘ نہیں بچا۔
اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر سمانتھا پاور نے نیو یارک میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’شام کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے بین الاقوامی اصولوں کی دھجیاں بکھیرنے کے تناظر میں روس نے کونسل کو یرغمال بنا لیا ہے اور وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ نہیں ہو رہا‘۔خیال رہے کہ امریکی صدر باراک اوباما شام کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے بین الاقوامی برادری کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم اٹلی کے وزیرِ اعظم نے ٹوئٹر کے ذریعے شام کے خلاف فوجی کارروائی کے بارے میں عالمی رہنماؤں کے متفق نہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔

صدر اوباما نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکہ شام کے خلاف محدو کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے اور انھوں نے اس مقصد کے لیے کانگریس کی منظوری حاصل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

دریں اثنا شام کی پارلیمان کے سپیکر محمد جہاد نے اپنے امریکی ہم منصب جان بینر کو ایک خط لکھا ہے جس میں ان سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ شام میں فوجی کارروائی کے بارے میں جلد بازی نہ کریں۔

اس سے پہلے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرن نے کہا تھا کہ برطانیہ کو دمشق میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے نئے شواہد ملے ہیں۔
خیال رہے کہ امریکہ شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت پر 21 اگست کو دارالحکومت دمشق کے مضافات میں کیمیائی حملہ کرنے کا الزام عائد کرتا ہے جس کی شام حکومت تردید کرتی ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ شامی حکومت نے 21 اگست کو دمشق کے نواح میں کیمیائی حملے کیے تھے جن میں 1429 افراد مارے گئے تھے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام کے صدر بشارالاسد کے خلاف شروع ہونے والی بغاوت میں اب تک ایک لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *