نہ کوئی خندہ رہا، نہ کوئی خندہ نواز

قدسیہ ممتاز

اردو مزاح پڑھتے ہوئے آپ آنکھ بند کئے، مسکراتے ہوئے، کسی فقرے سے لطف اندوز ہورہے ہوں اور یکایک فقرہ آپ کو پلٹ کر ڈس لے تو وہ مرشدی مشتاق احمد یوسفی کا فقرہ ہوگا۔اردو کی آخری کتاب جیسی شاہکار کتاب کے مصنف اور جدید اردو مزاح کے موسسین میں سے ایک مرحوم ابن انشا کے متعلق مرشدی یوسفی کا فرمانا تھا کہ بچھو کا کاٹا روتا اور سانپ کا کاٹا سوتا ہے ۔ ابن انشا کا کاٹا سوتے میں مسکراتا بھی ہے۔ خود مرشدی یوسفی کا کاٹا نہ روتا ہے نہ سوتا ہے، مسکراتے مسکراتے آنکھ پونچھنے لگتا ہے اور روتے روتے ہنس پڑتا ہے۔بظاہر متبسم فقروں میں اس بلا کی مارگزیدگی کی صفت پیدا کرنا کہ ظالم ڈسے بھی اور رونے بھی نہ دے،ان ہی کا کام ہے کہ جن کو مرحوم لکھتے آج کلیجہ منہ کو آتا ہے۔اور میں انہیں کیونکر مرحوم لکھوں کہ عہد کبھی مرتے نہیں۔ مرشدی مشتاق احمد یوسفی کی پہلی کتاب چراغ تلے غالبا آٹھ سال کی عمر میں پڑھی تھی ۔ شاید پڑھنے والوں کو اس میں مبالغہ محسوس ہو لیکن علم و ادب سے وابستہ گھرانوں کیلئے اس میںکچھ اچنبھے کی بات نہیں۔مجھے یاد ہے پانچویں جماعت کے اردو کے پرچے میں میں نے ـ ،میرا پسندیدہ شاعر کے زیر عنوان جو مضمون لکھا تھا وہ ابن انشا پہ تھا جبکہ پوری کلاس کو یہی مضمون علامہ اقبال کے حوالے سے کامہ فل سٹاپ کے ساتھ پکا رٹوا یا گیا تھا ۔ اس روز اپنی اس باغیانہ روش پہ جس پہ الحمدللہ آج بھی پورے شرح صدر سے قائم ہوں، والد صاحب سے خاصی ڈانٹ کھائی تھی۔اس بات پہ نہیں کہ مضمون علامہ اقبال پہ کیوں نہ لکھا بلکہ اس پہ کہ مضمون اتنا خراب کیوں لکھا۔ جابجا املا کی غلطیاں کیوں ہیں اور فقروں کی نشست درست کیوں نہیں۔ آخری کاری وار جو دل میں ترازو ہوگیا ،یہ تھا کہ ہمارے خاندان کی بچی اور استغفراللہ اتنی خراب اردو لکھے؟ بخدا اس سادہ مگر پروقار تقریب میں جس میں مضمون اور صاحب مضمون کے پرخچے اڑائے گئے تھے پہلی بار علم ہوا کہ فقرے نہ صرف اٹھتے بیٹھتے ہیں بلکہ شرفا کے فقرے ذرا اور طرح اٹھتے بیٹھتے ہیں نیز ان کے چال چلن سے لکھنے والے کے چال چلن کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ ایسے خونخوار قسم کے ادبی ماحول میں جہاں خاندان کا سربراہ آبروئے اردو کا تنہا محافظ تھا،یہ ایسی حیرت کی بات نہیں کہ چراغ تلے بغیر ہجے کئے روانی سے پڑھ لی گئی تھی۔ اچنبھے کی بات تب ہوتی جب یہ کسی آٹھ سالہ بچے کو سمجھ بھی آجاتی۔ جھوٹ کیونکر کہوں کہ سمجھ بھی آگئی ہاں اتنا ضرور محسوس ہوا کہ کچھ الگ قسم کی نثر پڑھی ہے جس سے جان چھڑانا آسان نہ ہوگا اور پھر یہی ہوا۔ جان چھڑائی نہ گئی اور چھڑانی بھی کس کو تھی۔ بچپن میں مشتاق احمد یوسفی کو پڑھنے کا منطقی نتیجہ یہ ہوا کہ آج خالص ادبی نثر لکھنے بیٹھوں تو کئی فقروں کا شجرہ نسب گھوم پھر کر مرشدی کے کسی فقرے سے جاملتا ہے۔ ادب کی واقفان حال کائیاں، دائیاں صاف تاڑ جاتی ہیں کہ نومولود کس پہ گیا ہے اور بڑا ہوکر کیا گل کھلائے گا۔ مرشدی ہم انہیں ایسے ہی تو نہیں کہتے۔ وہ اردو مزاح کے وہ امیر خسرو ہیں جس نے ہماری چھاپ تلک سب چھین کر ہمیں ہمارے قلم سمیت اپنے رنگ میں رنگ دیا ہے۔ کہیں یہ رنگ بنفشی ہیں، کہیں عنابی، کہیں قرمزی تو کہیں زمردی۔کوئی ایک رنگ ہو تو لکھنے والا بچ بچا کر اپنی راہ لگے یہاں تو ہولی ہے ، پچکاری ہے اور مرشد کے رنگ ہیں ۔Image result for yousufi

کوئی بچنا بھی کیوں چاہے۔جب رنگ ہی من چاہا ہو۔ فقرہ کیسے لکھا جاتا ہے۔ ایک سادہ سی بات میں مزاح کیسے پیدا کیا جاتا ہے۔ ایک بظاہر معصوم نظر آنے والے فقرے میں چھل اور بل کیسے ڈالا جاتا ہے کہ وہ پڑھنے والے کے اندر کہیں سرا مڑے ہوئے کج سوئے کی طرح گھس جائے اور واپس آتے آتے کتنی ہی رگیں کرید لائے، یہ ہم نے مرشدی سے سیکھا۔مسکراتی آنکھ میں آنسو ایسے ہی تو نہیں آتے۔ یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا۔ایک اچھا مزاح نگار اپنی ذات پہ ان دکھوں کو جھیلتا ہے جسے شرما شرمی میں کسی سے کہہ نہیں پاتا پھر اس ڈھنگ سے کہتا ہے کہ اپنا پیٹ کھولے بغیر اس پہ بندھے پتھر پہ ہنس سکے۔گرنے والے پہ ہم اس لئے ہنستے ہیں کہ ہم نہیں گرے، اگر گرنے والا خود ہنس پڑے تو وہ مزاح نگار ہے البتہ اس نے فقرہ نہیں لکھا، بس قہقہہ لگایا ہے۔ خود پہ ہنسنے کا ظرف اور حوصلہ ہی مزاح نگاری کی دیوار کی خشت اول ہے۔ یہ اینٹ ٹیڑھی رکھی گئی تو دیوار اول تو اٹھے گی ہی نہیں اور اگر قسمت کے مال مسالے سے آسمان تک اٹھائی بھی گئی تو اس پہ لکھا، نوشتہ دیوار نہیں، کسی بازاری حکیم کا اشتہار ہی ہوگا۔ جا بجا ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں پھکڑ پن اور بازاری مزاح لکھنے والے ہمارے سروں پہ سوار اپنی اپنی ڈفلی بجارہے اور ان پہ اپنا ہی لچر کلام گارہے ہیں۔ساتھ تالیاں پیٹنے والے ہم نوا بھی ہیں۔ مزاح، شاعری کی طرح پھیلے ہوئے ہاتھ کی خیرات نہیں، کسی دست شفا کی مسیحائی ہے۔یہ تن ہمہ داغ داغ پہ پنبہ رکھتے جانے کا کٹھن کام ہے ایسے کہ مریض کو بس انجیکشن لگنے جیسی تکلیف محسوس ہو پھر ایسی گدگدی کہ وہ اس چبھن کو بھی بھول جائے۔ مرشدی یوسفی نے بندہ مزدور کے اوقات کی تلخی کو اس ڈھنگ سے کہا کہ کٹیلی مسکراہٹ روح چیرتی چلی گئی پھر اگلے ہی فقرے میں زخم پہ ایسا پھایا رکھا کہ یاد بھی نہ رہا کہ چیرا کہاں لگا تھا ۔ وہ ایسا اس لئے کرتے تھے تاکہ بعد میں عین اسی جگہ نشتر خنداں چبھو سکیں۔ہم ہر بار ان کے اس پھیر میں آجاتے تھے۔ زندگی گزارنے کے لئے حس مزاح کتنی ضروری ہے یہ ہمیں زندگی نے سکھایا اور مزاح کتنا اہم ہے یہ مرشدی یوسفی نے۔ زندگی میں دو چار نہیں بے شمار سخت مقام آئے جب عقل نہیں حس مزاح نے ڈوبتی کشتی پار لگائی۔یہ حس مزاح ہی تو ہے جو پار لے جاتی ہے جب عقل و دانش منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔بقول مرشدی جہاں سچ بول کر سقراط کو زہر کا پیالہ پینا پڑتا ہے وہاں چاتر مزاح نگار الف لیلہ کی شہرزاد کی طرح ایک ہزار ایک کہانیاں سنا کر اپنی جان اور آبرو صاف بچا لے جاتا ہے۔ مزاح کی میٹھی مار بھی شوخ آنکھ،پرکار عورت اور دلیر کے وار کی طرح کبھی خالی نہیں جاتی۔مرشدی یوسفی کی نثر بھی کہیں شوخ آنکھ کی میٹھی مار ہے تو کہیں کھیلی کھائی عورت کی پرکاری اور کہیں دلیر کا وار۔خالی جائے تو کیسے اور قتیل جائے بھی تو کہاں جائے۔چراغ تلے سے شام شعر یاراں تک مرشدی کا یہی رنگ ہے ۔ فقروں کی رنگا رنگی ہے ، بھول بھلیاں ہیں جن میں قاری ایلس ان ونڈرلینڈ کی ایلس کی طرح کبھی حیران، کبھی متبسم تو کبھی خنداں تو کبھی افتان و خیزان بھٹکتا پھرتا ہے اور گاہے گوشہ چشم نم پونچھتا جاتا ہے۔اسے خبر تب بھی نہیں ہوتی جب کتاب کا آخری خالی سپید صفحہ آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے اور وہ اسے کھوئی کھوئی نظروں سے تکتا رہ جاتا ہے۔ مرشدی ایسا ہی خالی صفحہ محبت کرنے والوں کے سامنے چھوڑ گئے ہیں۔ ہمت ہے تو اس پہ کوئی اور نام لکھ کر دکھائیں۔ ایک جگہ مرشدی نے لکھا۔خوش دلی کی ایک منزل بے حسی سے پہلے پڑتی ہے اور ایک اس کے بعد آتی ہے۔ہم جو زندگی کو ایک ہی ڈھنگ سے دیکھنے کے عادی تھے ،خوش دلی کی اس منزل پہ تھے جو بے حسی سے پہلے آتی ہے۔ بے حسی کی اس منزل کو آسان خامہ یوسفی نے کیا جسے تھام کر ہم نے زندگی بسر کی اور جس نے ہمارے لئے خضر کا کام دیا۔عصائے موسوی عطائے ربانی تھا، اس کا کیا مقابلہ لیکن کسی کسی کے پاس یہی عطائے ربانی وہ قلم تو ہوتا ہے جو اندیشوں، وسوسوں اور المناکی کے سنپولیوں کو اژدہا بن کر نگل جاتا ہے۔ اس معجز نما عمل کے بعد اس اژدہے کو قابو میں رکھنا کمال ہوتا ہے ۔ نصرت خدواوندی ساتھ نہ ہو تو یہ اژدہا خود صاحب اعجاز کو نگل جاتا ہے۔ مرشدی یوسفی کے انکسار نے ان کے فن پہ ہمیشہ نصرت خداوندی کو سایہ فگن رکھا اور وہ سموچے وجود سے ہمیں خوش دلی کی اس منزل تک لے گئے جو بے حسی کے بعد آتی ہے۔اس سے بڑھ کر کسی لکھنے والے کا کسی پڑھنے والے پہ کیا احسان ہوگا؟ بارہا ایسا ہوا کہ دل بوجھل ہوا اور زندگی کچھ اتنی گوارا نہیں رہی کہ گزاری جاتی تو یہی سرہانے دھری آب گم، زرگزشت ، چراغ تلے،خاکم بدہن اور شام شعر یاراں ہی تو ہیں کہ ہاتھ میں پکڑیں، کھولیں اور پھر یاد نہ رہا کہ آب گم کہیں بہتا بہاتا ساتھ لے گیا یا خاکم بدہن، شام شعر یاراں ہی کہیں گھوگئی۔ مرشدی آپ سلامت ہیں، سلامت رہیں گے کہ جینے کا ہنر دینے والوں کے لئے سلامتی ہی تو ہے۔

Courtesy:daily92

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *