دھکے کھانے کے بعد

ڈیل ڈول اس کا مولوی صاحب کے مقابلے میں زیادہ تنومند تھا۔ مولوی صاحب کی عمر بھی ڈھل رہی تھی۔ یہ نوجوان تھا۔ ہٹا کٹا،مشٹنڈا، مولوی صاحب نحیف تو نہیں تھے مگر کمزور ضرور کہا جا سکتا تھا۔ اس نے جب لائوڈ سپیکر کا بٹن آف کیا تو مولوی صاحب نے نرمی سے پوچھا: ’’کیوں؟ بند کیوں کر دیا؟‘‘ ’’اذان نہیں دینے دوں گا؟‘‘ ’’کیوں؟‘‘ ’’ابھی وقت نہیں ہوا‘‘ مولوی صاحب کو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کہیں! ’’میں ہر روز پانچ وقت اذان دیتا ہوں کیا مجھے بتائو گے کہ وقت نہیں ہوا۔ سامنے کیلنڈر لگا ہے اس میں پورے سال کی نمازوں کے اوقات کا نقشہ ہے! پھر دوسری مسجدوں سے اذان کی آوازیں آ رہی ہیں۔ تم سن سکتے ہو! اور ذرا یہ مسجد کی دیوار پر لگا کلاک بھی دیکھ لو۔‘‘ ’’کیا فقہ کی کتابوں میں اس کیلنڈر اور اس وال کلاک کا ذکر ہے؟‘‘ یہ سوال مولوی صاحب کے لیے غیر متوقع تھا۔ ایک لمحے کے لیے وہ خاموش اور پریشان ہو گئے۔ پھر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سمجھانے لگے۔ ’’بھائی! ہم اس مسجد میں کوئی انوکھا کام نہیں کر رہے! پورے ملک میں، بلکہ پوری دنیا میں یہی سسٹم ہے۔ نماز کے اوقات کا تعین کیلنڈر اور گھڑیوں سے ہو رہا ہے۔‘‘ اُس نے کندھے سے لٹکا ہوا بیگ اتارا۔ مولوی صاحب سے کہا کہ ایک منٹ بیٹھیے۔ خود بھی آلتی پالتی مار کر ان کے پاس بیٹھ گیا۔ بیگ سے ایک مدرسہ ٹائپ کتاب نکالی۔ ’’دیکھیے!مولوی صاحب! یہ فقہ کی کتاب ہے۔ سنیے نماز کے وقت کے تعین کا شرعی طریقہ‘‘…اس نے کتاب سے پڑھنا شروع کیا۔ ’’نماز کا وقت معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کسی کھلی اور ہموار زمین میں زوال سے پہلے ایک لکڑی گاڑ دی جائے۔ اس لکڑی کا سایہ آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو جائے گا۔ یہاں تک کہ زوال کے وقت کم سے کم رہ جائے گا۔ اس سائے کو ماپ لیا جائے۔ جب یہ سایہ بڑھنا شروع ہو تو وہ اس بات کی علامت ہو گا کہ زوال ہو گیا۔ پھر جب یہ سایہ اس قدر بڑھ جائے کہ لکڑی کے برابر ہو جائے۔(زوال کے وقت کا سایہ اس سے وضع کرنے کے بعد) تو ایک مثل وقت ہو جائے گا۔ اور جب دوگنا ہو جائے تو دو مثل!‘‘ پھر اس نے بیگ سے لکڑی نکالی۔ مولوی صاحب کو دی اور کہا…’’حضور! اسے زمین پر گاڑیے اور اس کا سایہ ماپیے!‘‘ مولوی صاحب مسکرائے۔ بلا کا تحمل اور ٹھہرائو تھا ان کی طبیعت میں، سراپا شفقت، اس کا کندھا تھپتھپایا اور فرمانے لگے: ’’نوجوان! بات تمہاری صحیح ہے مگر سمجھنے کی کوشش کرو کہ یہ اوقات جو کیلنڈر میں دیئے گئے ہیں یہ اسی شرعی طریقے کی مناسبت سے نکالے گئے ہیں۔ اگر ہم ظہر اور عصر کے لیے لکڑی گاڑ کر وقت کا تعین کریں تو نتیجہ وہی نکلے گا جو کیلنڈر میں پہلے سے پورے سال کی نمازوں کے حوالے سے درج کیا گیا ہے!‘‘ وہ خاموش ہو گیا۔ اذان ہوئی۔ اس نے نماز جماعت کے ساتھ ادا کی اور گھر چلا گیا۔ دو تین مہینے گزرے تو رمضان المبارک کا مہینہ آ گیا، پہلے روزے کے دن ہی اس نے سحری جلدی جلدی کھائی اور مسجد پہنچ گیا۔ سحری کا وقت ختم ہوا تو موذن برآمد ہوا۔ لائوڈ سپیکر کا سوئچ آن کر کے مائک کو اپنے قد کے برابر لا رہا تھا کہ یہ اس کے سامنے کھڑا ہو گیا… ’’اذان نہیں ہونے دوں گا۔‘‘ ’’کیوں‘‘ ’’اس لیے کہ تم خلقِ خدا کے روزے خراب کر رہے ہو۔‘‘ نوجوان کے تیور دیکھ کر موذن چُپ کر کے مولوی صاحب کے حجرے کی طرف چلا گیا۔ اتنے میں مولوی صاحب بھی باہر آ گئے اور موذن سے پوچھنے لگے…’’اذان کیوں نہیں دے رہے؟ دو منٹ اوپر ہو رہے ہیں‘‘۔ اتنے میں مولوی صاحب کی نظر اُس پر پڑی کچھ کچھ وہ معاملے کو تاڑ گئے۔ ’’نوجوان! آج پھر تم فقہ کی کتاب لے کر آ گئے ہو‘‘؟ اس نے کہا:۔ ’’فقہ کی نہیں، آج میں اللہ کی کتاب لے کر آیا ہوں! سحری ختم ہونے کی نشانی جو قرآن پاک میں بتائی گئی ہے، آپ اس پر عمل پیرا نہیں ہو رہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ کی آیت 187میں ارشاد فرمایا…’’کھائو اور پیو۔ یہاں تک کہ تمہارے لیے رات کے سیاہ دھاگے سے صبح کا سفید دھاگا نمایاں ہو جائے‘‘۔ پھر اس نے شدید کرخت آواز میں مولوی صاحب کو کہا… بجائے اس کے کہ آپ چھت پر چڑھ کر مشرقی افق کو دیکھتے کہ سفیدی اور سیاہی الگ الگ ہوئیں یا نہیں، آپ حجرے میں بیٹھے خلال کر رہے ہیں اور اذان دلوا رہے ہیں۔ کچھ تو خدا کا خوف کیجیے۔‘‘ اب مولوی صاحب کا پارہ بھی چڑھنے لگا ’’تم الزام لگا رہے ہو! میں ہمیشہ صحیح وقت پر روزہ بند کراتا ہوں! اور یہ جو تم چھت پر جا کر سفیدی اور سیاہی دیکھنے کی بات کر رہے ہو بھلے انسان! رمضان کا یہ نظام الاوقات جو سامنے دیوار پر لگا ہے، اسی سفیدی کے نمایاں ہونے کے مطابق وضع کیا گیا ہے۔ کوئی ہے جو اس زمانے میں چھت پر چڑھ کر افق کی سفیدی دیکھتا ہے اور سحری بند کرتا ہے؟‘‘ نوجوان مسکرایا، اس مسکراہٹ میں طنز دکھائی دے رہا تھا۔ ’’مولانا! اگر آپ پہلے سے تیار کیا ہوا نظام الاوقات دیکھ کر افطار بھی کر سکتے ہیں اور سحری بھی بند کر سکتے ہیں، اگر آپ دھوپ میں لکڑی گاڑ کر اس کا سایہ ماپنے کے بجائے اپنے ٹھنڈے حجرے میں بیٹھے بیٹھے پہلے سے بنایا ہوا نقشہ دیکھ کر نمازیں پڑھا رہے ہیں تو یہ نظام الاوقات، یہ کیلنڈر، عید کے دن کا تعین کرنے کے لیے کیوں نہیں بروئے کار لاتے؟ کمال ہے آپ نماز کا وقت معلوم کرنے کے لیے زمین میں لکڑی نہیں گاڑتے، آپ سحری بند کرنے کے لیے چھت پر چڑھ کر افق کو نہیں دیکھتے لیکن آپ عید کا چاند دیکھنے کے لیے چھت پر چڑھ جاتے ہیں۔ پھر لوگوں سے گواہیاں مانگتے ہیں۔ خلقِ خدا کو آپ نے کنفیوژ کر رکھا ہے۔ دس علما کہتے ہیں آج عید ہے۔ دس فتویٰ دیتے ہیں آج روزہ ہے! آپ اس امت کے ساتھ کیا کر رہے ہیں اور کب سے کر رہے ہیں؟ چھ سو سال پہلے جب ایک جرمن شہری خلیفہ کے دربار میں پرنٹنگ پریس لایا تو آپ نے اس کے حرام ہونے کا فتویٰ دیا۔ آج آپ اسی پریس سے کلام پاک کے لاکھوں کروڑوں نسخے چھپوا رہے ہیں اور ساری مذہبی کتابیں بھی! یہ سامنے دیوار پر لٹکا ہوا نمازوں کے اوقات کا نقشہ بھی پریس ہی میں چھپا ہے۔ تین سو سال پہلے گھڑیاں اور کلاک آئے تو آپ نے ان کے ناجائز ہونے کا فتویٰ دیا۔ ڈیڑھ سو سال پہلے آپ نے فتویٰ دیا کہ قرآن پاک کا ترجمہ نہیں ہو سکتا۔ سو سال پہلے آپ نے فرمایا کہ نمازوں کا نظام الاوقات پیشگی نہیں بن سکتا۔ ستر سال پہلے آپ نے لائوڈ سپیکر کو ناجائز قرار دیا۔ پچاس برس پہلے آپ نے ٹیلی ویژن گھر میں رکھنے کو فعلِ حرام کے برابر کہا۔ پھر آپ نے کہا کہ تصویر حرام ہے یہاں تک کہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے لیے بھی۔ آج یہ سب چیزیں حلال ہیں۔ آپ دوسروں سے بڑھ چڑھ کر استعمال کر رہے ہیں۔ سعودی بادشاہ نے ٹیلی فون کا ریسیور پہلی بار مولانا کے کان سے لگایا تو انہوں نے اسے پھینک دیا کہ ھٰذا صوت الشیطان! یہ تو شیطان کی آواز ہے۔ پھر اس نے ٹیلی فون پر تلاوت سنوائی تو آپ ٹھنڈے ہوئے۔ آج کی نسل کو تو یہ معلوم ہی نہیں کہ آپ نے کس ایجاد پر حرام ہونے کا فتویٰ کب دیا۔ اب آپ کہتے ہیں کہ چاند دیکھنا اور گواہیاں لینا ضروری ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں بے شمار مسلمان کیلنڈر دیکھ کر عید کر رہے ہیں۔ دس بیس سال بعد جب کوئی مجھ جیسا پاگل پوچھے گا کہ چھت پر چڑھ کر چاند دیکھے بغیر آپ نے عید کا اعلان کیسے کر دیا تو آپ اسے احمق قرار دیں گے اور اس کے علم میں اضافہ کریں گے کہ عید کی تاریخ کا یہ پیشگی تعین اسلامی اصولوں کے مطابق ہی کیا گیا ہے۔ ؎ آنچہ دانا کند، کند نادان لیک بعد از خرابیٔ بسیار ’’نادان بھی وہی کچھ کرتا ہے جو دانا کرتا ہے مگر دھکے کھانے کے بعد!!‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *