ہاسٹل لائف

حصول ِ تعلیم کی خاطر گھر سے دور رہ کر جس جگہ زندگی انجوائے کی جاتی ہے‘ وہ ہاسٹل کہلاتاہے‘ جس طرح میٹرک کی چھٹیوں کا کام شروع شروع میں بڑے اہتما م سے شروع کیا جاتا ہے‘ دستہ منگوایا جاتاہے‘ اوپر کاغذ چڑھایا جاتا ہے‘ پہلے صفحے پر مارکر سے خوبصورت سا نام لکھا جاتاہے‘ تین چار صفحات موتیوں جیسے لکھے جاتے ہیں اور اُس کے بعد مسلسل 'کھچ‘ مار ی جاتی ہے‘ اسی طرح ہاسٹل میں داخل ہونے سے پہلے ہر لڑکے کے ذہن میں یہی خیال ہوتاہے کہ وہ تعلیم میں دلچسپی لے گا اور خوب پڑھے گا‘ تاہم چھ ماہ بعد تعلیم کہیں پیچھے رہ جاتی ہے؛ البتہ دلچسپی کا عنصر خاصا بڑھ جاتاہے۔لڑکوں کے ہاسٹل میںاگر دو کمرے ہوں ‘تو پہلا کمرہ کاٹھ کباڑ کے لیے استعمال ہوتاہے‘ اگلے کمرے میں 'محمدی بسترا‘ لگا ہوتا ہے‘ جس میں رنگ برنگے گدے اور ادھڑے ہوئے تکیے اپنی بہار دکھا رہے ہوتے ہیں۔ہاسٹل کے ایک کمرے میں عموماً تین لڑکے رہتے ہیں‘ تاہم یہ کمرہ گائوں سے آئے ہوئے مہمانوں کے لیے گیسٹ ہائوس بھی ہوتاہے۔زمانہ جاہلیت میں ایک دفعہ جب ہم صبح سو کر اٹھے تو کمرے میں ایک انجان صاحب بھی سوئے ہوئے پائے۔میں سمجھ گیا کہ شاہ جی کا کوئی مہمان آیاہے۔یہ صاحب مسلسل تین دن تک ہمارے ساتھ رہے‘ نہایت خاموش طبع تھے‘ کھانا بھی ہمارے ساتھ ہی کھاتے تھے اورکمرے کے عین وسط میں پنکھے کے نیچے لیٹتے تھے۔ تین دن بعد وہ واپس چلے گئے اور سب نے سکھ کا سانس لیا۔میں نے شاہ جی سے پوچھاکہ پلیز آئندہ آپ کا کوئی مہمان آئے‘ تو اُسے کہئے گا‘ کسی ہوٹل وغیرہ میں جاکر ٹھہرے۔ شاہ جی نے مجھے گھورا''یہ بات تمہیںاپنے مہمان سے کہنی چاہیے تھے۔‘‘ میں چونک اٹھا...گویا وہ شاہ جی کا نہیں‘ بلکہ ہمارے تیسرے روم میٹ عدنان کا مہمان تھا۔ شام کو عدنان آیا‘ تو ایک طوفانی انکشاف ہوا کہ وہ عدنان کا بھی مہمان نہیں تھا۔ ہم تینوں سر پکڑ کر بیٹھ گئے...یعنی ایک انجان بندہ ‘تین دن تک ہماری خاطر مدارت کا لطف اٹھاتا رہا اور وہ کسی کا بھی مہمان نہیں تھا۔
ہاسٹل کا ایک وارڈن بھی ہوتاہے ‘جس کا کام صرف اتنا ہوتاہے کہ چیک کرتا رہے کہ کہیں کوئی لڑکا اُس کی ہدایات پر عمل تو نہیں کر رہا۔جو لڑکے ہاسٹل میں رہتے ہیں‘ وہ عموماً اپنے حصے کی دیوار پر کسی فلمی ہیروئین کی تصویر ضرور آویزاں رکھتے ہیں‘ تاکہ کمرے میں داخل ہوں تو کسی اچھی شکل پر نظر پڑے۔ہاسٹل میں دوسرے لڑکوں کی چیزوں پر ہاتھ صاف کرنا عین ثواب سمجھا جاتاہے‘ اسی لیے ہر لڑکااپنا صابن تک اپنے صندوق میں رکھتاہے۔ ایک دفعہ ہمارے کمرے میں ایک لڑکا اپنا صندوق کھلا چھوڑ گیا۔ سب اسی موقعے کی تاڑ میں تھے‘ کسی نے اس کا پرفیوم استعمال کیا‘ کسی نے پائوڈر اور کسی نے آفٹر شیو...ایک دوست نے اُس کا واشنگ پائوڈرنکالا‘ اپنے کپڑے نہایت اہتمام سے دھوئے اور بعد میں واشنگ پائوڈر کی جگہ نمک بھر کر واپس رکھ دیا۔ اگلے دن اُس لڑکے نے اپنے کپڑے دھونے تھے‘ موصوف کپڑوں کی گٹھڑی اٹھا کر باتھ روم گئے اور کافی دیر بعد پسینوں پسین ہوکر بڑبڑاتے ہوئے باہر نکلے ''ہر چیز جعلی آنے لگ گئی ہے‘‘۔ میںنے محتاط انداز میں پوچھا کہ کیاہوا؟ بے چارگی سے بولا''35منٹ سے بالٹی میں پانی ڈال کر واشنگ پائوڈر ڈالا ہوا ہے‘ ہاتھ ہلا ہلا کر تھک گیا ہوں‘ لیکن حرام ہے ‘جو ذرا سی بھی جھاگ بنی ہو۔‘‘ یہ سن کر میں نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی کہ واقعی جعل سازی بہت ہوگئی ہے۔
ہاسٹل کے لڑکے گیمز میں بھی بہت شارپ ہوتے ہیں۔ ان سے اچھی منگ پتہ‘ بھابھی ‘تین پتی‘ لڈو اور بارہ ٹہنی کوئی نہیں کھیل سکتا۔جن ہاسٹلز میں کامن باتھ رومز ہیں‘ وہاں کا منظر دیکھنے والا ہوتاہے۔ صبح سویرے بنیان کچھا پہنے ‘ کندھے پر تولیا لٹکائے پوری پوری ٹولیاں 'اشنان‘ کرنے جارہی ہوتی ہیں۔ہاسٹل کے لڑکوں کو عموماً سگریٹ کے غرارے کرنے کا بہت شوق ہوتاہے‘ تاریخ گواہ ہے کہ سب سے زیادہ سگریٹ بوائز ہاسٹلز میں ضائع ہوتے ہیں۔ہاسٹل لائف کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ کوئی خاص روک ٹوک نہیں ہوتی‘ یہی وجہ ہے کہ ہاسٹل لائف گزارنے والوں کی شادی شدہ لائف کانٹوں بھری گزرتی ہے۔میں نے اپنے ایک پرانے ہاسٹل فیلو سے پوچھا کہ شادی ہوگئی یا ابھی تک برتن خود دھوتے ہو؟ آہ بھر کر بولا: ''تمہاری دونوں باتوں کا جواب ہے...ہاں‘۔‘
ہاسٹل میں رہنے والے لڑکوں کی اولین خواہش ہوتی ہے کہ اُنہیں ایسا کمرہ ملے‘ جس سے سامنے سے گرلز ہاسٹل نظر آتا رہے۔ یہ گرلز ہاسٹل کافی فاصلے پر ہوتاہے اورپہنچ سے باہر ہوتاہے ‘تاہم لڑکوں کے لیے وہ کمرہ بھی قیمتی ترین قرار پاتا ہے‘ جس کی کھڑکی گرلز ہاسٹل کے اُس طرف کا نظارہ دکھاتی ہو‘ جہاں کوڑ ا کرکٹ پھینکا جاتاہے۔ہاسٹل کے روم میٹ میں اگر کسی کے پاس موٹر سائیکل ہوتو وہ پوری کوشش کرتاہے کہ رات کو جب پارکنگ میں موٹر سائیکل کھڑی کرے ‘تو پٹرول نکال کر بوتل میں ڈال لے۔جو لڑکے ایسا نہیں کرتے‘ اُن کے پٹرول کی ایوریج اکثر ایک لٹر میں تین کلومیٹر رہ جاتی ہے۔اکثر ہاسٹلز میں ایک میس بھی ہوتاہے ‘جہاں ہر کھانے کے ساتھ اچار ضرور پیش کیا جاتاہے‘ تاکہ روٹی کے ساتھ کھانے کے لیے کم ازکم دوسری چیز ضرور موجود ہو۔ عموماً پہلی چیز کی نسبت یہ دوسری چیز زیادہ قابل قبول قرار پاتی ہے۔ہمارے ہاسٹل کے میس کا باورچی دُنیا کا وہ واحد باورچی تھا‘ جو چکن بھی پکاتا تھا تو اُس میں آلو گوبھی کا سواد آتاتھا۔ موصوف ایک سالن سے کئی دن نکالنے کے منفرد فن سے آگاہ تھے۔ ایک دن مٹر چاول بناتے‘ تو بچے ہوئے کھانے میں سے مٹر نکال کر اگلے دن اُس میں آلو ڈال کر 'آلو مٹر‘ بنا لیتے۔تیسرے دن آلو نکال کر اُس میں شوربہ ڈالتے اور آلو شوربہ تیارہوجاتا۔روٹیاں اتنی سخت بناتے تھے کہ کئی دفعہ لڑائی کے دوران لڑکے روٹی مار کر مخالف کا سر پھاڑ دیتے۔میس کے علاوہ ہاسٹل میں ایک کینٹین بھی ہوتی ہے ‘جہاں ہر لڑکے کا اُدھار چلتاہے۔ اس کھاتے میں‘ جس لڑکے کا نام بھی درج ہوا‘ پھر وہ کبھی نکل نہیں سکا۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ ہم تینوں روم میٹس پر ساڑھے تین سو روپے کا بھاری قرضہ چڑھ گیا تھا‘جسے اتارنے کے لیے مجبوراً ہمیں کینٹین والے کو خوفناک نتائج کی دھمکیاں دے کر اُس کے پائوں پکڑنے پڑے۔یہ وہی کینٹین والا تھا‘ جس نے ہاسٹل کے سگریٹ نوش لڑکوں سے تنگ آکر لکھ کر لگا دیا تھا کہ اگر کسی نے کپ میں سگریٹ بجھائی‘ تو اُسے ایش ٹرے میں چائے پیش کی جائے گی۔ہاسٹل لائف کی بے ترتیبی ہی اس کا حسن ہے‘ میلی چادریں‘ دیواروں پر لکھے فون نمبرز‘ باتھ روم کی ٹوٹی ہوئی کنڈی‘ فرش پر سگریٹوں کے ٹوٹے‘چھت کے پنکھے کی بے سُری لوری اور پرات بجا کر محفل موسیقی کا انعقاد۔ہاسٹل کے لڑکوں کے بھی گروپس ہوتے ہیں ‘جن میں ہر تیسرے دن اِس بات پر لڑائی ہوجاتی ہے کہ ہمارا نہانے کا ڈبہ کس نے غائب کیا ہے۔جو لڑکے مل کر 14 انچ کا ٹی وی افورڈ کرلیتے ہیں وہ اسے کمرے میں ایسی جگہ پر رکھتے ہیں جہاں بھی رکھا جاسکتا ہو۔ ٹی وی کی تار عموماً باتھ روم سے ہوتی ہوئی‘ کچن کے دروازے سے لپیٹ کر پنکھے کے اوپر سے آکر ٹی وی تک پہنچتی ہے۔ ریموٹ کے سیل ختم ہوجائیں تو کوئی دو سیل خود سے خرید کر ڈالنے کی زحمت نہیں کرتا‘بلکہ پہلے سے موجود سیلوں کو دندیاں کاٹ کاٹ کر چلا لیا جاتاہے۔اس لائف کے بعد زندگی میں بہت کچھ خودبخود سمجھ آجاتاہے‘ لیکن لاکھ کوشش کے باوجود یہ ماحول میسر نہیں آتا ...صرف یادیں رہ جاتی ہیں!

( گل نوخیز اختر کا یہ کالم روزنامہ دنیا سے لیا گیا ہے )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *