طیب اردوان کے لیے دعا

سجاد میر

ایک صدی گزر چکی ہے کہ ہماری نظریں اس سرزمین پر لگی ہوئی ہیں۔ ترکی ہمارے دلوں کی دھڑکن بنا ہوا ہے۔ تب تو یہ بات تھی کہ عالم اسلام کے اس مرکز کو تتر بتر کر دیا گیا۔ ہم بھول چکے ہیں کہ ہم پر کیا کیا بیتی۔ ہم نے اس خاطر کیسے کیسے دکھ سہے۔بلقان بکھرا ہو یا عالم عرب‘ ہم بہت روئے ہم نے بہت واویلا کیا۔ خاک و خوں میں مل رہا ہے۔ ترکمان سخت کوش درد بیچتا ہے ہاشمی ناموس دین مصطفی۔ ہم کیسے کیسے تڑپے ہیں۔ خلافت ختم ہوئی تو ہم اس زخم کو بھول کر اتاترک کو اپنا ہی باپ سمجھنے لگے۔ مجھے نہیں یاد پڑتا ہے کہ ہم نے قائد اعظم کے بعد کسی سے ایسی محبت کی ہے۔ قدرت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ ہمیں اتاترک کے نظریات سے محبت نہ تھی۔ پھر بھی ہم نے ترکی کی خاطر اس کی جوانمردی کو سراہا۔ اور خوب خوب داد دی۔ اس کے جمہوریت کے تجربے کو بڑے غور اور پیار سے پڑھا۔ اس کی خرابیوں پر بھی کہا‘ اچھائیوں پر تو خیر ہمارے اقبال بھی نظر ڈال چکے تھے اگرچہ وہ بھی کف افسوس ملتے تھے کہ ترک ناداں نے خلافت کی چتا کو چاک کر ڈالا ہے یہاں پھانسیاں لگیں۔ وزیر اعظم اور صدر لٹکا دیے گئے۔ فوج نے بار بار مداخلت کی ۔ہمارے ہاں بھی بحث چھڑی کہ ہمیں بھی اپنی فوج کو معاملات سیاست میں آئینی مداخلت کا حق دینا چاہیے۔ ہم نے اس بات کو نہ مانا مگر قومی سطح پر اعلیٰ ترین مقام سے اس بحث میں حصہ لیا اس لیے کہ یہ ترکی کا تجربہ تھا اور ترکی ہمیشہ ہمیشہ دل و جان سے عزیز رہا ہے۔ یہ ساری گفتگو میں آج کے پس منظر میں کر رہا ہوں جب طیب اردوان نے ایک بار پھر ترکی کا صدارتی انتخاب جیت لیا ہے نہ صرف جیتا ہے بلکہ نظام حکومت تبدیل کرنے کے ریفرنڈم میں بھی معرکہ مار لیا ہے ہم اپنے ہاں اس بدلے ہوئے نظام کے حامی نہیں ہے۔ یہ بے پناہ اختیار والا صدارتی نظام ہے جبکہ ہمارے ہاں یہ نظام فوجی حکومت یعنی مارشل لاء کے مترادف گنا گیا ہے۔ ہم پارلیمانی نظام کے عاشق جو ٹھہرے۔ آخر کیا وجہ ہے ہم ترکی کے لیے اس نئے بندوبست پر خوش ہیں اور اس کے خلاف مغرب کے سارے پروپیگنڈے کو ہیچ سمجھتے ہیں۔ مغرب والے کہتے ہیں یہ جمہوریت نہیں ہے‘ بلکہ پیوٹن اور طیب اردوان عصر حاضر کے نئی طرح کے آمر ہیں۔ مگر ہم ہیں کہ مان نہیں رہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ترکی میں ہم جیت گئے ہیں۔ اس وقت ہماری نظر میں طیب اردوان کی حیثیت ویسی ہے جیسی اتاترک کی تھی ۔ہمارا مطلب ہے اس وقت وہ نجات دہندہ تھا تو آج طیب اردوان نجات دہندہ ہے۔ طیب اردوان کی جنگ دو قوتوں کے خلاف تھی ایک فوجی بالادستی اور دوسری سیکولرازم ۔ یہ دونوں چیزیں وہاں کی جمہوریت کے ساتھ ساتھ چل رہی تھیں سیکولرازم کی تو یہ حالت تھی کہ وہاں مسجدوں میں عربی زبان میں اذان تک پر پابندی تھی۔ عربوں کی خلافت نے ترکی کو اتنا رنجیدہ کیا تھا کہ انہوں نے عربوں کی پشت سے ہر شے کو ترک کر دیا حتیٰ کہ اسلام تک اعتراض ہونے لگے حجاب وہاں ایک گالی بن گیا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ ترکی اس بات کا قائل ہو گیاہے کہ فطری اقتدار اپنائے بغیر آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ فوج جمہوریت کی گاڑی کو آگے چلنے نہیں دیتی تھی اور چونکہ فوج نے لڑ کر ترکی کو بچایا تھا اس لیے یہ اس کا حق سمجھا جانے لگا تھا ۔ یوں لگتا تھا ‘اُسے ترکی کی بقا کی علامت سمجھا جانے لگا تھا۔ ہمارے ہاں خوش قسمتی میں کبھی ایسا نہیں رہا۔ فوج کی مداخلت کو ہمیشہ عارضی بندوبست سمجھا گیا کوئی آئینی حل نہیں‘ پھر ہماری فوج سیکولر خیالات کی حامی نہ تھی انگریز کے زمانے میں تربیت اور ترتیب پانے والی فوج اسلامی اقدار اور شعائر کے خلاف کسی رویے کو پسند نہ کرتی تھی۔ ایک مختصر عرصے کے لیے مشرف نے ایک ایسی جنگ کرنا چاہی جو اسلامی قوتوں کے خلاف ہو سکتی تھی مگر اسے پسند نہ کیا گیا۔ شاید اسی خاطر مشرف اتاترک کے حامی تھے ۔ مگر ان کا اتاترک ترکی کا نجات دہندہ نہ تھا۔ جدیدیت کا امام تھا ۔اس لیے ہمارے ہاں بحث صرف آئینی اور اصولی تھی کہ ملک کی بالادستی کے لیے سول اقتدار اعلیٰ ضروری ہے۔ اس بات کو ہر فوجی حکمران بھی مانتا تھا یہاں یہ بحث نہ تھی کہ فوج آئے تو لادینیت لائے گی اور جمہوریت آئے تو اسلام کا بول بالا ہو گا۔ اس کے باوجود ترکی ایک کشمکش میں مبتلا تھا بار بار کی مداخلت کے بعد ترکی کی معیشت مغرب کی پوری حمایت کے باوجود بیٹھ گئی تھی۔ ترکوں کو اس کا حل یوں نظر آتا تھا کہ وہ کسی نہ کسی طرح یورپی یونین میں شامل ہو جائیں جس طرح ہم کہتے ہیں کہ ہماری خرابیوں کی جڑ اسلام سے دوری ہے۔ترک یہ سمجھنے لگے تھے کہ ترکی کی بدحالی کی وجہ مغرب سے دوری ہے۔ اس کاعلاج یہ ہے کہ اسے یورپی یونین میں شامل کر لیا جائے اور یورپ اسے بری طرح دھتکا رہا تھا اس کشمکش میں وہ مرحلہ آگیا جب ترکی اندر اسلام کی طرف مراجعت کی تحریک اٹھی۔ طیب اردوان اس کا نقطہ عروج ہیں۔ یہ کوئی انتہا پسندی کی تحریک نہ تھی مغرب نے بھی اسے ماڈریٹ اسلام کہا۔ انہیں یقین تھا کہ اگر ایسا نہ سمجھا گیا تو انتہا پسندی کی کوئی لہر ترکی کو اپنی لپیٹ میں لے لی گی۔ ترکی بنیادی طور پر روایت پسند مسلمان معاشرہ تھا جہاں مولانا روم کے مزار کے ساتھ ایک چھوٹا سامزار اور ہے۔ علامہ اقبال تو لاہور میں دفن ہیں یہ اقبال کے مزار کی شبیہ ہے۔ اندازہ کیجیے وہ لوگ کیا ذہن رکھتے ہوں گے۔ یہاں بدیع الزماں نورسی نے ایک انقلاب برپا کیا ۔سیاست میں اس کے اثرات نظر آنے لگے۔ پہلے اربکان آئے اور چھا گئے مگر پرانی قوتیں نے انہیں چلنے نہ دیا اسے ترکی کی سیکولرازم کے خلاف قرار دیا مگر یہ لہر اپنا کام دکھا گئی فوج ان کے راستے میں مزاحم ہوئے اردوان بھی انہی کا حصہ تھے انہوں نے نئی حکمت عملی وضع کی۔ وہ اربکان کی سعادت پارٹی سے الگ ہو کر ایک نئی پارٹی کے بانی بنے جس نے بہرحال انتخابات کا معرکہ مار لیا۔ پھر انہوں نے دیکھتے دیکھتے ترکی کو بدل کر رکھ دیا فوج کی مداخلت ایسی بند کی کہ بڑے بڑے جرنیلوں کو پابند سلاسل کیا۔ عدالتوں کو صحیح راستے پر لگایا۔ اور ترکی کی معیشت کو بھی ایسی ترکی دی کہ دنیا دیکھتی رہ گئی۔ اسلام سے ان کی محبت اپنا رنگ دکھا رہی تھی۔ کیا معرکہ آرا نظمیں ان کی خطابت کا حصہ بنیں۔ مسجد کے مینارے گنبد محراب سب اس کی طاقت بنے۔ وہ گرفتار ہوئے مگر اپنے مشن پر ڈٹے رہے پہلے استنبول کے میئر بنے پھر ملک کے اقتدار تک جا پہنچے۔ترکی کو یوں لگا ان کا اصل نجات دہندہ اب آیا ہے ۔پھر ترکی میں یہ ہوا کہ وہاں فوجی بغاوت ہوئی تو ترک عوام سڑکوں پر نکل آئے ‘ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے۔ میں اس بغاوت کی پہلی سالگرہ پر ترکی گیا تھا ان سب آثار کو دیکھا تھا اردوان نے امریکہ کے خلاف بھی علم بغاوت بلند کر دیا اور اعلان کیا کہ اس ساری فوجی کارروائی کے پیچھے امریکہ ہے۔ امریکہ کو جان چھڑانا مشکل ہو گیا ترکی نیٹو کا بھی رکن ہے مگر اس کی فوج اس مسئلے میں آزادانہ طور پر مسلمانوں کے گن گانے لگی‘ یہاں کی مسجدوں میں اذانیں گونجنے لگی اور یہاں کی خواتین حجاب پہننے لگی۔ اردوان نے کسی مغربی شعائر پر پابندی نہیں لگائی مگر آہستہ آہستہ معاشرے کے اندر اس کی چھپی اسلامی روح کو زندہ کر دیا سیکولرازم سے جھگڑے بغیر انہوں نے ترکی کے اصلی تہذیبی سوتوںکو زندہ کر دیا ‘یوں لگتا تھا ترکی میں دوبارہ عوام کی حکمرانی جاگ اٹھی ہے۔اس بار سیکولر قوتوں نے ایک آخری لڑائی لڑی ہے۔ اس لڑائی میں کمیونسٹوں ‘ سیکولرسٹوں کمالسٹوں کے ساتھ اسلام پرست بھی اپوزیشن کا متحدہ محاذ بنا کر ایک ہو گئے انہیں ایک لیڈر بھی مل گیا تھا جس کے بارے میں انہیں یقین تھا کہ وہ طیب اردوان کا تختہ الٹ دے گا ہمارے ایک دانشور اور دوست فرخ سہیل گوئندی وہاں پہنچے ہوئے پاکستانی دانشوروں کو طعنے دے رہے تھے کہ تم ترکی کو جانتے نہیں ہو میں برسوں سے یہاں آتا جاتا رہا ہوں (ان کا سسرال جو ہے) بس سمجھ لے کہ یہ طیب اردوان گیا کہ گیا وہ پاکستانی دانشوروں کو مشورے دے رہے تھے کہ یہاں آئو اور آ کر دیکھو اس سے پہلے ناکام فوجی بغاوت کی رات بھی وہ اس نئے انقلاب کی کامیابی کی نوید دیتے رہے تھے جبکہ میں ’’بیچارہ‘‘ پاکستانی دانشور یہاں بیٹھا بار بار کہہ رہا تھا کہ مجھے یہ انقلاب پٹتادکھائی دیتا ہے‘ میں بیچارا سچا نکلا اور اپنی سسرال میں بیٹھا بار بار ترکی جانے والا ہمارا پیارا پاکستانی یار غلط ثابت ہوا۔ آج ترکی کو اپنا کھویا ہوا جذبہ واپس مل گیا ہے یورپی یونین میں شمولیت سے تو ترکی نے پہلے ہی ہاتھ کھینچ لیا تھا اب وہ زیادہ متانت سے اپنے مسائل سمجھ رہا ہے۔ اس بار عالم اسلام میں دو انقلاب آئے ہیں ‘ دو مراجعتیں ہوئی ہیں ایک تو ملائشیا میں 92سالہ مہاتیر محمد لوٹ آئے اور دوسرے طیب اردوان کو ترکی کے عوام ہر شکل میں قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مطلب یہ کہ تم جمہوری مزاج رکھتے ہو یا غیر جمہوری تم صدارتی بندوبست چاہتے ہو یا پارلیمانی ‘ہمیں غرض نہیں‘ ہمیں غرض ہے تو تم سے اور تمہارے بیانیے سے جو یہ کہتا ہے کہ فوج کی مداخلت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کرو اور اسلام کا بول بالا کرو ہماری بقا کے لیے تہذیبی سوتوںکی طرف لوٹنے میں ہے۔ مغرب کی اندھی تقلید میں نہیں۔ یہ اس بیانیے کی فتح ہے اس کے کچھ سختی بھی کرنا پڑے تو قبول ہے ہم کسی کی نہ سنیں گے۔ عالم عرب سے بھی ترکی کے تعلقات ٹھیک ہو رہے ہیں۔ وہ شنگھائی کانفرنس سے بھی تعلق جوڑنا چاہتا ہے۔ اس لیے کہ یہ ان کا پرانا اسلامی اور تہذیبی ماضی ہے۔ یہاں ترکی زبان بھی بولی جاتی ہے اور بہت کچھ ہے۔ اردوان نے کہا‘ ایسا ہو جائے تو پھر ترکی یورپی یونین کے حوالے سے ہمیشہ کے لیے بے نیاز ہو جائے گا۔ اندازہ کیجیے دنیا کیا سوچ رہی ہے کیا ہم بھی اپنی سوچ میں یہ گہرائی پیدا کر سکیں گے خدا کرے ایسا ہو۔ خدا ہمیں بھی کسی طیب اردوان کے انقلاب سے آشنا کر دے ۔ویسے یہ دعا میں نے اس وقت بھی مانگی تھی جب امام خمینی ایران میں برسر اقتدار آئے تھے۔ میں نے خمینی کا انقلاب مانگا تھا اس دن کا منتظر ہوں کہ جب اپنے کسی ہمدرد لیڈرکا نام لے کر میں اس کے لیے ایسی ہی دعا مانگوں گا۔ خدا مجھے درست دعا مانگنے کی توفیق دے اور مجھے میری مراد عطاکرے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *