ٹیریان خان کے حوالے سے اہم حقائق منظر عام پر(2)

توہین عدالت

ط۔ مذکورہ امیدوار بار بار عدلیہ کے خلاف توہین آمیز بیان دیتے رہے ہیں ۔ اخباروں اور آن ریکارڈ مواد سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ذاتی مقاصد کے لیے عدلیہ پر توہین آمیز، ذلت آمیز اور حقارت آمیز زبان کا استعمال کیا ۔ پریس میں اس طرح کی فحش، گھٹیا اور بد تمیز زبان سے ہی یہ ثابت  ہوتا ہے کہ یہ امیدوار آئین کی  شق 63 1 ایف کے مطابق ماضی میں عدلیہ کی تضحیک کے مرتکب رہے ہیں۔

یہ بھی پڑ ھیں " ٹیریان خان کے حوالے سے اہم حقائق منظر عام پر(1) "

ی۔ چونکہ امیدوار با کردار انسان نہیں ہیں اس لیے وہ مجلس شوری میں شمولیت کے لیے انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں  کیونکہ وہ بہت سی اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی کے بھی مرتکب ہیں، اسلامی تعلیمات سے نا بلد ہیں  اور اسلام کی طرف سے مقرر کردہ فرائض میں کوتاہی برتنے کے ذمہ دار ہیں  اور گناہ کبیرہ کا بھی ارتکاب کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایماندار، با کردار، صادق اور امین بھی نہیں ہیں  اور پاکستان کی عدلیہ کے بارے میں ہمیشہ منفی پروپیگنڈہ کرتے اور بیان دیتے نظر آتے ہیں۔ مدعی علیہ ماضی میں کئی بار عدلیہ کی تضحیک کر چکے ہیں  اس لیے وہ نہ صرف عوامی عہدے کے لیے نا اہل ہیں بلکہ مجلس شور  یا اس سے متعلقہ کسی بھی شعبہ میں شمولیت کے لیے انتخابات میں حصہ لینے کی اہلیت سے محروم ہیں۔

ک۔  چونکہ ریسپانڈینٹ نے جھوٹے حلف نامے اپنے کاغذات نامزدگی کے ساتھ عدالت میں جمع کروائے ہیں اور سالانہ ٹیکس ریٹرن کے حوالے سے بھی غلط زبانی کی ہے اس لیے انہیں آرٹیکل 62  کی شق 1 ڈی اور ای اور 63 کی شق 1 ایف، پی اور او کے مطابق پارلیمانی الیکشن  لڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ این اے 53 اسلام آباد 2 حلقہ سے ان کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ل۔ ریسپانڈینٹ کا کردار بھی مثالی نہیں ہے انہوں نے نہ صرف حلقہ کے عوام کے ساتھ دوھوکہ دہی  کی ہے بلکہ الیکشن اتھارٹیز کے ساتھ بھی دغا بازی کے مرتکب رہے ہیں  اس لیے انہیں کسی صورت ایک اہل شخص قرار دے کر پارلیمان کے  ممبر بننے کے لیے الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

م۔ ریسپانڈینٹ 1 نے جھوٹے حلف نامے پر دستخظ کر رکھے ہیں جو انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی کے ہمراہ الیکشن کمیشن میں جمع کروائے ہیں جس میں ان کا دعوی ہے کہ وہ الیکشن کے لیے اہل ہیں  اور کسی بھی قانون کے مطابق الیکشن کے لیے نا اہل نہیں ہیں۔ سچ یہ ہے کہ وہ پارلیمانی الیکشن کے لیے اہل نہیں ہیں  کیونکہ وہ  1973 کے پاکستان کے آئین کی آرٹیکل 62 اور 63 کی شقوں پر پورا نہیں اترتے۔

ن۔ چونکہ ریسپانڈینٹ نے اپنے کاغذات نامزدگی کے ساتھ جھوٹے حلف نامے جمع کروا رکھے ہیں اس لیے ریسپانڈینٹ  الیکشن ایکٹ 2017کے آرٹیکل 167 اے بمع سیکشن 173  کے مطابق بد عنوانی کے مرتکب ہوئے ہیں جو کہ سیکشن 174 کے مطابق قابل سزا جرم ہے۔ اس لیے متعلقہ محکمہ پورا اختیار رکھتا ہے کہ ریسپانڈینٹ کے خلاف سیکشن 190(2)  اور سیکشن 174 کے مطابق قانونی کاروائی کا آغاز کرے۔

N۔ اس ادارے کا فرض ہے کہ اپنا آئینی حق استعمال کرتے ہوئے بد عنوانی کے مرتکب افراد کو  سزا دلوائے اور ان کے خلاف کاروائی کرے۔

O۔  اپیکس کورٹ نے بہت سے فیصلوں میں قانون سازی کے اداروں کی اہمیت کو واضح کیا ہے اور ان اداروں کے تقدس کو تحفظ فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔ کسی بھی ملک کا پارلیمینٹ سب سے مقدس، قابل احترام، اداراہ ہوتا ہے جو نہ صرف ملکی پالیسیاں اور قانون بناتا ہے بلکہ دنیا بھر میں ملک اور قوم کے وقار کے تحفظ  کو یقینی بناتا ہے۔

P۔   اپیکس کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلوں میں یہ واضح کیا ہے کہ ملک کے قانون ساز اداروں کی اہمیت، افادیت اور ضرورت کیا ہے  اور لہٰذا یہ شدید ضروری ہے کہ ان کی عظمت ، بلندی، ان کی حرمت اور پاکیزگی کا تحفظ کیا جائے۔ کسی بھی ملک کی پارلیمنٹ اس کی معزز ترین، قابل قدر اور اہم اداروں میں سے ہے جو کہ نہ صرف قوم کے لیے  آئین و قوانین کا تعین کرتے ہیں بلکہ اس کی منزل مقصود کا بھی تعین کرتے ہیں ۔ اور اگر کوئی شخص جو کہ آئینی اور قانونی طور پر اس کا ممبر بننے کا اہل نہ ہو، وہ کسی نہ کسی طرح حلفی غلط بیانیوں کے ذریعے  چپکے سے ، نقلی ، جعلی اور غیر معیاری دستاویزات  کے ذریعے اس کی حرمت کو آلودہ کر دے  تواس کا مبینہ رویہ نہ صرف  ایمانداری، دیانت داری اور  اور حتیٰ کہ اس کے اپنے حلف سے بھی  نفرت کا اظہار  کا ذریعہ بنتا ہے بلکہ  اس معتبر ادارے کی عظمت، سالمیت اور اقدار کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ اس لیے یہ بیان کرنا ضروری نہیں کہ اس مقصد کے حصول کے لیے پہلا اور انتہائی ضروری اقدام یہ ہے کہ جو شخص آئینی اور قانونی طور پر اہل نہیں ہے اسے اس اکھاڑے میں آنے کی اجازت  نہیں ہونی چاہیے۔ اور آئین  کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت اس بلند اور ممتاز ادارے کی پاکیزگی، تقویت اور نیکو کاری کی حفاظت کرنی چاہیے ۔

Q۔  یہ ایک طے شدہ قانون بھی ہے کہ الیکشن کمیشن اور دوسرے تمام  متعلقہ اداروں پہ  لازم ہے کہ مختلف انتخابی قوانین کے تحت  یہ یقین دہانی کی جائے کہ نہ صرف الیکشن شفاف اور ایماندارانہ ہوں ، الیکشن کے دوران کوئی بدعنوانی  عمل میں نہ لائی جائے بلکہ یہ بھی کہ جو نمائندگان قانون ساز ادارے میں داخل ہونے کے لیے نا اہل پائے گئے ہوں انہیں مبینہ اداروں میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے، مزید یہ کہ ان  تمام فرائض کو بجا لایا جائے ، متعلقہ اداروں کو اعتراض کرنے والوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے اور نہ ہی حریف کارکنان کے رحم و کرم پر کہ  وہ اس معاملے میں کو ئی کردار ادا کر سکیں حتی کہ ازاخود نوٹس لینا پڑے تو بھی لیا جائے۔

R۔ آرٹیکل 218(3) کی شقوں کے مطابق الیکشن کمیشن کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ  بد عنوانی کے واقعات کے خلاف بھی  اقدامات کرے  اور اگر یہ ادارہ ایسا نہیں کرتا تو یہ اس کے اس کے فرائض میں کوتاہی برتنا تصور کیا جائے گا۔ بد عنوانی کی تعریف الیکشن  ایکٹ 2017 کی شق 167 کو شق 173 کے ساتھ ملا کر پڑھنے سے واضح ہوتی ہے  اور یہ اپنے خان کے کسی فیملی ممبر، اپنے اثاثوں اور واجبات کی تفصیل میں کسی بھی قسم کے جھوٹے بیان حلفی جاری کرنے والے پر بھی صادق آتی ہے ۔ اس ایکٹ کی شق 174 کے اجزا کے مطابق بد عنوانی پر مبنی اعمال ایک قابل سزا جرم ہے جس کی تین سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے اور اس کے ساتھ ایک لاکھ تک جرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ مذکورہ ایکٹ کی شق 190 کے مطابق یہ ایک ایسا جرم ہے جس پر سیشن جج کاروائی کا حخم دے سکتا ہے۔ سیکشن 232 کے اجزا کے مطابق  بد عنوانی میں ملوث فرد کو ایک معینہ مدت کے لیے برائے الیکشن  نا اہلی کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔  تو کیا یہ چیز اس بات کی علامت نہیں کہ مجاز اتھارٹی کو  بد عنوان افراد کے خلاف سختی سے عمل کرے اور جن افراد کی بد عنوانی ثابت ہو ان کے خلاف کاروائی عمل میں لائے ۔ یہاں یہ عرض کرنا لازمی ہے کہ اس طرح کے بد عنوان اشخاص کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دینا قومی اداروں کے تقدس کو ٹھیس پہنچانے  اور ان کی بے حرمتی کے برابر ہے۔ (ریفرنس: پی ایل ڈی 2010 ایس سی 817 نوابزادہ افتخار احمد خان بار بمقابلہ  چیف الیکشن کمشنر اسلام آباد ؛ اور پی ایل ڈی 2010 ایس سی  828 محمد رضوان گل بمقابلہ  نادیہ عزیز و دیگر )

S۔ دہری شہریت کیسز میں جب ایک سینیٹر رحمان ملک نے سینٹ سیٹ سے استعفی دیا جو نوٹیفیکیشن 11 جولائی 2012 کے مطابق منظور کیا گیا تھا  اورا جس خالی سیٹ پر انہوں نے الیکشن لڑا  اور اس میں انہیں 24 جولائی 2012 کے نوٹیفیکیشن کے مطابق فاتح قرار دیا گیا۔ لیکن اپیکس کورٹ کا کہنا تھا کہ پیپر جمع کرواتے وقت 2008 میں انہوں نے غلط حلف نامہ جمع کروایا تھا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 63 کی رو سے قومی یا صوبائی اسمبلی کے الیکشن کے لیے  نا اہل نہیں ہیں  اس لیے ریفرنس چئیر مین سینیٹ کو بھیجنا لازمی ہو گا۔یہ بھی کہا گیا تھا کہ چونکہ رحمان ملک نے  2008 کے الیکشنز میں اپنے کاغذات نامزدگی کے ساتھ غلط حلف نامہ شامل کیا تھا  اس لیے  الیکشن کمشن کو بھی حکم دیا گیا تھا کہ وہ رحمان ملک کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائے جیسا کہ دوسرے پارلیمنٹیرینز کے معاملے میں کیا گیا ہے ۔ اسی کیس میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر کوئی امیدوار الیکشن سے قبل یا بعد میں آئین کے آرٹیکل 63 (1) (سی)کے مطابق نا اہل ثابت ہوتا ہے تو  وہ فوری طور پر اپنے عہدے کی اہلیت سے نا اہل ہو جائے گا اور پارلیمنٹ کی رکنیت سے محروم ہو جائے گا ۔ ان تمام فیصلوں کو موجودہ صورتحال میں رکھتے ہوئے پرکھا جائے  اور کسی بھی لفظ یاجملے کے معنی تبدیل کیے بغیر اسے اس کی روح کے ساتھ ہر معاملے میں نافذ کیا جائے۔ (سید محمود اختر نقوی بمقابلہ  فیڈریشن آف پاکستان (پی ایل ڈی 2012 ایس سی 1089) اور محمد اظہر صدیق بمقابلہ فیڈریشن آف پاکستان (پی ایل ڈی 2012 ایس سی 774) اور 2013 ایس سی ایم آر 1246 صادق علی میمن بمقابلہ آر او ، این اے 237، ٹھٹھہ 1)۔

T۔ یہ بات قابل غور ہے کہ ایک امیدوار کو کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت حلف نامہ بھی جمع کروانا ہوتا ہے۔ یہ حلف نامہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے الیکشن کے تمام امیدوار جمع کرواتے ہیں ۔ جو شخص بھی یہ حلف نامہ جمع کروائے اسے اس سے متعلق تمام آئینی اور قانونی ضروریات کا علم ہونا چاہیے اور اگر اس حلف نامہ پر دستخط کے بعد اس میں جھوٹ ظاہر ہو جائے  تو پھر وہ شخص قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے اہلیت سے محروم ہو جاتا ہے جس کی وجہ اس کے غیر حقیقی اور جھوٹے بیانات ہوتے ہیں ۔ اس کی وجہ سے آئین کی شق 193، 196، 197، 198، اور 199 پی پی سی کے مطابق ان کے خلاف قانونی کاروائی بھی شروع کی جا سکتی ہے۔

محمود اختر نقوی کے کیس میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا سارے پارلیمان ممبران اور صوبائی اسمبلی ممبران جنہون نے الیکشن کمیشن کے سامنے  غلط حلف نامے اپنے کاغذات نامزدگی کےساتھ شامل کیے تھے  وہ آر او پی 1976 کی شق 78 کے تحت بد عنوانی کے مجرم ہیں  اس لیے الیکشن کمیشن کو حکم دیا جاتا ہے کہ ان کے خلاف  آئین کی شق 193، 196، 197، 198، اور 199 پی پی سی کے مطابق کاروائی شروع کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس طرح کے پارلیمان اور صوبائی اسمبلی ممبران کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اس دوران حاصل کرنے والی تمام مالی اور دیگر سہولتیں واپس کریں جن میں ان کی تنخواہیں، ٹی اے ڈی اے، اور دوسری تمام سہولیات کی مد میں لی گئی رقوم شامل ہیں۔ یہ بھی حکم دیا گیا تھا کہ یہ ساری رقوم پبلک  ایکس چیکر  میں جمع کروائی جائیں۔

U۔ جعلی کاغذات اور حلف نامہ کے ساتھ الیکشن میں حصہ لے کر ریسپانڈینٹ نے اداروں اور عوام کو دھوکہ دیا ہے  اور ان کو ان کی فرنچائز اور اہم عوامی عہدوں کے حق سے بھی محروم کیا ہے اور فراڈ اور دھوکہ دہی کے ذریعے یہ جرائم کیے ہیں ، یہ چیزیں اسلام کے بھی خلاف ہیں اور ان کے کردار کو واضح کرتی ہیں۔ کیونکہ اگر انہوں نے سچ بولا ہوتا اور صحیح حلف نامے جمع کروائے ہوتے تو انہیں پارلیمنٹ کی ممبر شپ کے لیے لڑے جانے والے الیکشن کے لیے نا اہل قرار دیا جاتا ہے۔

V۔ چونکہ ریسپانڈینٹ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین 1973 کے  آرٹیکل 62  (1)(ڈی)(ای)اور (بی) اور آرٹیکل 63 (1) (پی) اور (او) کے مطابق اہل نہیں بلکہ نا اہل ہیں ا س لیے انہیں کسی صورت اجازت نہ دی جائے کہ وہ قوم کے قانون ساز اداروں کے ممبر بن سکیں  اور انہیں تحریک انصاف کی چئیرمین شپ سے بھی ہٹایا جانا چاہیے۔

W۔ ریسپانڈینٹ کو ان اداروں میں عہدہ رکھنے کی اجازت دینے  سے نہ صر ف لاقانونیت  اور فراڈ جو انہوں نے عمل سے ظاہر کیا ہے اس کو تحفظ ملے گا بلکہ اس سے عوامی مفاد کو بھی نقصان پہنچے گا کیونکہ اس کے بغیر انہیں کسی بھی صورت قانونی طریقے سے عہدہ رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس عہدے اور الیکشن میں حصہ لینے سے نا اہلی ان کے اپنے کردار اور الفاظ کی وجہ سے ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے الیکشن کے لیے جعلی کاغذات جمع کروا کر بھی اپنے آپ کو سزا اور نا اہلی کا مستحق بنا دیا ہے۔

X۔ 1973 کے آئین کی شق 62 اور 63 کی منظوری کا پورا مقصد ہی ناکام ہو جاتا ہے اگر زیادہ اہمیت کے حامل تمام پبلک آفس اور قانون سازی کرنے والے ادارے نااہل افراد کے قبضے میں ہوں۔ اس لیے پٹیشنر  کا خیال ہے کہ ایسے معتبر اداروں میں ایسے بد تہذیب اور نااہل افراد کو انتخابی  عوامی عہدوں تک رسائی نہ دی جائے جو عوام کی مقدس  امانت ہیں اورعام عوام کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ نظم و ضبط کے معاملے میں متعین کئے گئے اصول یہ اثرات ظاہر کرتے ہیں کہ عوام مفاد اس بات میں پوشیدہ  ہے کہ نا اہل افراد  کا راستہ قانون اور آئین کے زریعے روکا جائے  اور یہ فرض تمام شہریوں اور عدالتوں پر عائد ہوتا ہے۔ ان لوگوں کے لیے جوانتخابی قوانین کی جانچ پڑتال سے ساز باز کے ذریعے،  اتفاقیہ طور پر ، یا حقائق مخفی کر کے، یا دھوکہ دہی کے ذرائع سے، بچ نکلتے ہیں، تو ان کا راستہ روکنے کے لیے  آرٹیکل 63  کی شق 2 اور 3  آئین میں موجود ہیں  تا کہ کسی بھی بد عنوانی کے عمل کو روکا جائے  اور نا اہل افراد کا ایسے اداروں اور اقتدار کے مسند سے دور رکھا جائے جس کا تعلق عوامی مفاد سے ہو۔

Y۔  جواب دہندہ نےجان بوجھ کر  اپنے حلف نامے سے جو انہون نے کاغذا ت نامزدگی کے ساتھ جمع کروائے ہیں  کچھ اہم حقائق کو چھپایا ہے  جو کہ ظاہر کرنا لازمی تھا  اور یہ عمل ان کو انتخابی عمل کے لیے نا اہل قرارا دلوانے کے لیے کافی ہے۔ وہ اس با ت کے حقدار ہیں کہ ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے  کیونکہ وہ بدعنوانی میں ملوث پائے گئے ہیں  اس لیے ان کا عوامی عہدہ سے اخراج لازمی ہے کیونکہ یہ عہدہ عوام کی امانت ہے۔

Z۔ پاکستان سپریم کورٹ پہلے ہی سے نظم و ظبط کے فیصلوں میں مددگار رہی ہے کہ کسی بھی ملک کی پارلیمنٹ معزز ترین، سب سے محترم اور سب سے اہم ادارہ ہے جو کہ نہ صرف قوم کے لیے پالیسی اور قوانین کا تعین کرتا ہے بلکہ حقیقت میں اسے شکل دیتے ہوئے اس کی آخری منزل کو منقش کرتا ہے، تا کہ، تا کہ اس کی اصلیت محفوظ رہے، اس جیسے ممتاز اور بلند ادارے کی سچائی کو دوسری چیزوں کے مابین تقویت ملے،آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 واضح کیا گیا ہے کہ دوسروں میں سے اگر ایک فردقانون ساز اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لینے کے لیے  اپنی غلط تعلیمی دستاویزات جمع کرواتا ہے تو وہ بدعنوانی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ جو لوگ اچھے کردار کے حامل نہ ہوں، اور وہ جو بڑے بڑے جرائم میں ملوث رہے ہوں، اور وہ جو ایماندار نہ ہوں، اور وہ جو الیکشن کے دوران بد عنوانیوں کا مظاہرہ کرتے رہے ہوں تو انہیں ہر گز اجازت نہیں کہ وہ قانون ساز اداروں کی پاکیزگی کو آلودہ کریں۔ پہلی اور آخری اہم اقدام جو کہ مبینہ ہدف کو حاصل کرنے کے لیے یقین دہانی کرنا ہے کہ کوئی بھی ایسا شخص نہ ہو جو کہ آئینی یا قانونی لحاظ سے تعلیم یافتہ نہ ہو تو وہ اس (الیکشن کے) اکھاڑے میں اترنے کی اجازت رکھتا ہے۔ یہ ذمہ داری الیکشن کمیشن اور تمام دوسری تمام کارکنوں جو کہ مختلف قوانین کے مطابق ڈیوٹی ادا کرتے ہیں پر ہے کہ وہ یقین دہانی کریں کہ نہ صرف اکیشن شفاف اور ایماندارانہ ہوں، کہ الیکشن میں کسی قسم کی بدعنوانی کا مظاہرہ ہوبلکہ جو امیدوار جو کہ کوالیفائڈ ثابت ہو چکے ہوں وہ قانون ساز اداروں کا حصہ بنیں، جن کو ایسے اداروں میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ہو، مزید یہ کہ پریشان کن امور کو بے دخل کیا جائے۔ ایسے کارکنوں کو اعتراض کرنے والوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے یا نہ ہی حریف نمائندگان کے رحم و کرم پر اور یہ کہ وہ آزادانہ عمل درآمد کر سکیں حتی کہ اس (الیکشن کی) تحریک میں بھی۔  سپریم کورٹ نے مزید  کہا  یہ الیکشن کمیشن  کی ذمہ داری ہے کہ وہ  بد عنوانی کے خلاف اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے   اور جو لوگ اس جرم کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف کاروائی کرے ۔ ایسے لوگوں کو سزا دینا اور نا اہل قرار دینا نہ صرف قانون ساز ادارے کے تقدس میں اضافہ کا باعث ہو گا بلکہ  اس ادارے کے تعاون جیسا عمل ہو گا۔ سپریم کورٹ نے ایسے تمام افراد کے خلاف قانونی کاروائی کا حکم دیا  جن پر بعد عنوانی جس میں جعلی کاغذات اور حلف نامہ کو اصل قرار دینا بھی شامل ہے  جن کے بارے میں انہیں علم تھا کہ وہ جعلی اور غلط معلومات پر مبنی ہیں۔ (ریفرنس: پی ایل ڈی 2010 ایس سی 828 محمد رضوان گِل بمقابلہ نادیہ عزیز )

Aa۔  جان بوجھ کر جعلی اور غیر حقیقی معلومات اورتفصیلات فراہم کرنا اور معلومات مخفی رکھنا ا اچھے کردار کی علامت نہیں ہے۔ اس نے نہ صرف  حلقہ کے عوام کو دھوکہ دینے کی  کوشش کی بلکہ الیکشن اتھارٹیز کے ساتھ بھی دھوکا کیا۔ لہٰذاکسی بھی صورت میں 1973 کے آئین کے  آرٹیکل 62-1 کے مطابق اسے  محنتی، صاف گو، ذمہ دار ،  صادق اور امین تصورنہیں کیا جا سکتا۔اس لیے  اسے صوبائی اسمبلی کے  نمائندہ کی حیثیت کے لیے نامزدگی کی اجازت نہیں  دی جا سکتی۔

8۔  ڈاکومنٹس کی صورت میں ثبوت پہلے سے ہی ریکارڈ میں موجود ہیں جو یہ بات ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ  مدعی الیکشنز میں حصہ لینے کے قابل نہیں اور نہ ہی 1973 کے آئینی آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت صوبائی اسمبلی کے ممبر بننے کے۔

9۔ پھر بھی مزید تحقیق اور تسلی کے لیے  اگر یہ معزز عدالت مناسب سمجھے تو متعلقہ اتھارٹی سے مدعی  علیہ   اور دوسرے متعلقہ اداروں سے مزید ریکارڈز بھی  طلب کرنے کا اختیار رکھتی ہے ۔

10۔ درخواست گزار نے درجہ ذیل  دستاویزی ثبوت درخواست کے ساتھ منسلک کر دیے ہیں:

(1) جنرل الیکشن کے درخواست گزار  کے 2002 اور 2013 کے کاغذات نامزدگی جن میں اثاثے اور واجبات کی سٹیٹ منٹس بھی ہیں۔

(2) 13.08.1997 کی تاریخ کا فیصلہ جو مسٹر انتھنی جانز نے جاری  کیا تھا جوامریکہ کے شہرکیلیفورنیا کے علاقے لاس انجلس کے سپرئیر کورٹ کے جج ہیں، پیٹرنٹی کیس نمبر BF 009322 جس کا عنوان اینا لوئیس وائیٹ بلمقابل عمران خان  تھا۔ ساتھ ہی لاہور میں دیا گیا بیان حلفی جس میں عمران خان نے حلف اٹھا کر کہا کہ انہیں ٹیریان  جیڈ خان وائیٹ کی سر پرست اس کی خالہ کیرولینا کی صورت میں قبول ہے اور انہیں کوئی اعتراض نہیں۔

(3) ٹیریان جیڈ خان کی سرپرستی کے حوالے سے کیس کی کاروائی کی تفصیلات

(4) شائع ہونے والا مواد ۔۔۔۔ پرنٹ میڈیا؛

(5) 05.09.2007 کی تاریخ کے آرڈر  کی کاپی جو اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر اور دو دوسرے افراد   نے پاس کی تھی ۔ یہ ریفرنس نمبر 1 آف 2007 میں شامل تھی جو شیر افگن خان نیازی بمقابلہ عمران خان فائل کی گئی تھی۔ اور Ref. No.2 of 2007 جو فاروق ستار اور 9 دوسرے افراد بلمقابل عمران خان ، MNA  ۔ یہ کیس موجودہ اعتراض میں شامل معاملہ پر ہی فائل ہوا تھا۔

(6) پرس کلیپنگز

؛(7) جمائمہ  خان کے پرنٹڈ ٹویٹس؛

(8) ویکی ورلڈ کی جانب سے کی گئی تحقیق کے  اقتباسات:

ا)۔پیرنٹ ٹریپ  جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سیتا نے عمران خان کو امریکی دس ڈالروں کی مانگ کا ایک خط لکھا تھا لیکن انہوں  نے یہ خط کبھی نہیں بھیجا ۔ اس حقیقت کے بارے میں مِس چیف نامی میگزین میں بھی لکھا تھا ۔

ب)۔ ایک تو پیسوں کے لیے؛

پ)۔ یہ بدلہ لینے کے  لیے نہیں بلکہ انصاف  کے بارے میں ہے۔ ، سیتا نے خان کو وینیٹی  کے ایک میگزین میں 2004 ستمبر میں لکھا تھا جو صفحہ نمبر پانچ پر شائع ہوا تھا؛

ت)۔  ایونینگ  سٹینڈرز میں ہیڈ لائین آئی کہ عمران خان  ٹیریان کو خوشآمدید کہیں گے۔

ٹ)۔ عمران خان سیتا وائیٹ  دی ٹروتھ  ویڈیو ڈیلی موشن۔

ث)۔ پانچ ستمبر  میں پاکستان کے الیکشن کمیشن کا فیصلہ، 200

سائینٹفک ثبوت:

11۔ یہ الیکٹرونک اور سائنٹیفک  ثبوت  نہ صرف اس درخواست کے لئے  ہیں بلکہ ویسے بھی اس سلسلے  میں درکار تھے۔ یہاں یہ بیان کرنا غلط نہ ہو گا کہ 1984 کے قانون شہادت  آرڈر اور الیکٹرونک ٹرانزیکشن  آرڈر 2002 کے تحت اب یہ الیکٹرونک اور سائینٹیفیک ثبوت قابل قبول ہیں ۔ میموگیٹ سکینڈل کیس میں SMS بھی معزز سپریم کورٹ پاکستان نے قبول کئے تھے۔الیکٹرانک ٹرانزیکشن آرڈر 2002 کے ذریعے قانون شہادت آرڈر 1984  میں ترمیم کی گئی تھی  اور آرٹیکل کے اختتام میں کچھ اجزا کا اضافہ کیا گیا تھا۔ ( Ref. 2012  SCMR 584 وطن پارٹی بمقابلہ پاکستان کی فیڈریشن)۔

پریس کلیپنگ کی قبولیت:

12۔ مستند دستاویزی ثبوت بصورت پریس کلپنگ اور الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا  درخواست کے ساتھ منسلک کیے گئے ہیں تا کہ ان پر غور کیا جائے کیونکہ آرٹیکل 164 کے تحت  قانون شہادت آرڈر 1984 کے تحت بھی یہ ثبوت قابل قبول ہیں۔  پاکستان کی معزز سپریم کورٹ کی یہ  روایت ہے کہ وہ الیکٹرونک اور پرنٹڈ میڈیا  رپوٹس قبول کرتے ہیں ،  تا کہ معاملے پر ایک عمومی رائے قائم کی جا سکے ۔ اور ساتھ ہی ایسی میڈیا رپورٹس پر جوڈیشل نوٹسز بھی لیے جاتے رہے ہیں۔

 

(Ref PLD 2010 SC 265 ڈاکٹر موبشر حسن بمقابلہ پاکستان  فیڈریشن؛ PLD 2009 SC 879 بار ایسوسی ایشن سندھ  ہائی کورٹ  اپنے سیکرٹری کے ذریعے قانون اور انصاف کی منسٹری، اسلام آباد )۔

بار ثبوت کا نا اہلی کے معاملے میں اعتراض  پر مدعی علیہ پر ہونا

13۔  یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ یہ ایک قانون ہے کہ ہر امیدوار کو اپنے آپ کو  آرٹیکل 62 اور 63 کے  مطابق صادق اور امین ثابت کرنا ہے   تا کہ الیکشن کے لیے نامزدگی پر اعتراض کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اور یہ ثبوت پارلیمنٹ میں پہنچنے سے پہلے اور بعد دونوں مرتبہ سامنے لانا ہو گا۔ اگر کسی بھی امیدوار کے خلاف کوئی اعتراض سامنے آتا ہے  اور اس کی کوالیفیکیشن پر سوال اٹھتا ہے تو بار ثبوت امیدوار پر ہو گا نہ کہ اعتراض کرنے والے پر۔اس لیے اگر یہ مجاز محکمہ امیدوار کو پیشی کے لیے بلائے  تو اس اعتراض کو غلط کرنے کی ذمہ داری امیدوار پر عائد ہو گی۔  (Rel. 2014 SCMR 45 ملک عمر اسلم بلمقابل سمیرا ملک : : PLD 2009 Lah 449 (FB) میاں ایم اعظم چھائیلہ بلمقابل عاجد علی خان  اور دوسرے لوگ؛ اور PLD 2008 Lah 149 نغمہ مشتاق بمقابلہ الیکشن ٹریبیونل ، پنجاب ، وغیرہ)

14۔ اورٹیریان خان وائٹ جو کہ مدعی علیہ عمران احمد  خان نیازی کی بیٹی ہیں دعوی کر تی  ہیں کہ وہ خان ہیں۔ فورڈم یونیورسٹی میں جب وہ طالبہ تھیں  تو انہیں ٹیریان خان وائٹ کے نام سے پکارا جاتا تھا جیسا کہ دسمبر 2010 کے کرمزن نامی میگزین میں درج  ہے اور ٹیریان خان وائٹ کے ٹویٹر اکاونٹ  سے ظاہر ہوتا ہے۔

ٹیریان وائٹ کو ہمیشہ عمران اور جمائمہ کے خاندانی فرد کی حیثیت سے دیکھا گیا ہے ۔ کچھ تصاویر میں وہ اپنے بھائی سلیمان خان اور قاسم خان کےساتھ موجودد دکھائی دیتی ہیں۔ ٹیریان خان جو عمران خان  کی ناجائز اولادد ہیں نے اپنا 23واں جنم دن بھی لندن میں جمائمہ کی فیملی کے ساتھ منایا ہے جس کی رپورٹ میل آن لائن اخبار میں بروز پیر جون 11 2018 کو شائع ہوئی ہے۔

15۔ مدعی /اعتراض کنندہ درخواست کے ساتھ ایک بند لفافے میں کچھ تصاویر شامل کر رہا ہے جس میں ٹیریان جیڈ خان وائٹ، جمائمہ اور ان کے بچوں کے ساتھ موجود ہیں ۔مجاز اتھارٹی سے درخواست کی جاتی ہے کہ ان تصاویر کو دیکھ کر اور باقی تمام پیش کردہ مواد کے ساتھ اس کا جائزہ لیا جائے ااور درخواست کے شروع میں اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب دیا جائے  جو آسان الفاظ میں یہ ہیں: ٹیریان خان وائیٹ عمران خان کی بیٹی ہیں کہ نہیں۔ یہ سوال مدعی علیہ سے مہربانی کر کے پوچھا جائے اور جواب انصاف کی خاطر ریکارڈ کر لیا جائے۔

استدعا

دئیے گئے تمام دلائل اور مواد کے ساتھ یہ درخواست کی جا تی ہے کہ ریسپانڈینٹ کے کاغذات نامزدگی کو مسترد کر دیا جائے۔ اور اگر مدعی علیہ کسی قسم کی رعایت کے مستحق ہیں تو انہیں ضرور دی جائے۔

پٹیشنر/آبجیکٹر

امیدوار برائے قومی اسمبلی حلقہ این اے 53 اسلام آباد 2

سند:

تصدیق کی جاتی ہے کہ یہ پٹیشنر کی طرف سے موجودہ عدالت میں پہلی پٹیشن ہے۔

پٹیشنر

یہ بھی پڑ ھیں " ٹیریان خان کے حوالے سے اہم حقائق منظر عام پر(1) "

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *