چور ہی چور!

سعید آسی سے میری دیرینہ رفاقت ہے، ہم دونوں ایک طویل عرصے تک نوائےوقت سے وابستہ رہے ہیں۔ سعیدآسی میری ہی طرح ایک شریف آدمی ہے اور میری ہی طرح صف اول کا شاعر ہے۔ اس نے جب مجھے اپنی کتاب’’تیری بکل دے وچ چور‘‘بھیجی تو مجھے دو شک گزرے، ایک یہ کہ کتاب اس کی پنجابی شاعری کا مجموعہ ہوگی، دوسرے نام سے مجھے لگاکہ اس نے مجھ پر طنز کیا ہے، مگر میں نے طنز کی پروا کئے بغیر، اپنی بکل کی تلاشی لینا شروع کی تو پتہ چلا کہ ایک نہیں، میری بکل میں تو کئی چور ہیں۔ یہ بات میں آگے چل کر کرتا ہوں کہ میرا پہلا شک غلط نکلا کیونکہ کتاب شاعری کی نہیں، اس کے کالموں کی تھی مگر یہ کتاب میرے پاس آدھے گھنٹے سے زیادہ نہیں رہی۔ میری بکل کا کوئی چور اسے لے اڑا، تاہم اس دوران میں دو تین کالم پڑھنے میں کامیاب ہوگیا۔ ان کالموں کے علاوہ اس کے کالم میں اخبار میں بھی پڑھتا رہا ہوں دراصل ہمارے ہاں کچھ کالم کالم ہوتے ہیں اور ایک آدھ کالم کے پردے میں ’’کٹا کٹی ‘‘ یعنی ’’گالم گلوچ‘‘ کررہا ہوتا ہے، مگر سعید آسی کالم لکھتا ہے، اس سے اتفاق بھی کیا جاتا ہے اور اختلاف بھی۔ خصوصاً آدھے گھنٹے میں مجھے کتاب میں سے جو کالم پڑھنے کا اتفاق ہوا، اس سے مجھے ایک بار پھر یقین ہوگیا کہ اس کا تعلق میڈیا کی لفافہ کلاس سے نہیں ہے۔ اس کی اپنی کلاس ہے اور یوں اپنی’’کیتی کرائی‘‘ کا خود ذمہ دار ہے۔
اب آگئی بات کتاب کے نام کی’’تیری بکل دے وچ چور‘‘ میں یہ چور اپنی بکل میں تلاش کرتا رہا اور میں نے سب پکڑے لئے۔ ایک چور حب الوطنی کا تھا، جو سارا وقت کی حرمت پامال کرنے میں لگا رہتا ہے، ٹیکس نہیں دیتا، ملاوٹ کرتا ہے، جعلی ادویات تیار کرتا ہے، انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر انصاف نہیں دیتا، اپنا کام نہیں کرتا اور دوسروں کے کام میں دخل دیتا ہے، مگر ہر وقت پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتا ہے، دوسرا چور بہت’’ میسنا‘‘ تھا۔ یہ پنج وقتہ نمازی تھا، روزے رکھتا تھا، حج اور عمرے ادا کرتا تھا، مگر حقوق العباد میں ڈنڈی مارتا تھا، یتیموں کا مال بھی کھا جاتا تھا۔ ملازموں پر ظلم ڈھاتا تھا، دو نمبر مال بیچتا تھا اور اپنے علاوہ ہر ایک کو گنہگار سمجھتا تھا، اور تیسرا چور میں خود تھا اور خود کو اپنی ہی بکل میں چھپایا ہوا تھا۔ میرے نزدیک ضمیر فروشی کوئی گناہ نہیں تھی، چنانچہ میرا قلم ہر دور کے خفی اور جلی حکمرانوں کے پاس گہن رہتا تھا جب تک وہ’’اقتدار‘‘ یا ’’اختیار‘‘ میں ہوتے ہیں، ضمیر کو تھپکیاں دے دے کر سلادیتا اور ان کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملادیتا۔ بس ان کے جانے کی دیر ہوتی اور میں ان کا اصل کچا چٹھا قسط وار بیان کرتا۔ دراصل ضمیر ایک فضول سی چیز ہے یہ انسان کو گناہ سے نہیں روکتی صرف گناہ کا مزا کرکرا کرتی ہے۔
اپنی بکل کے ان چوروں کے علاوہ میں نے کچھ ڈاکو بھی دریافت کئے جنہیں میں نے اپنی بکل میں رکھا ہوا ہے۔ یہ بین الاقوامی ڈاکو ہیں۔ میں ان سے بہت ڈرتا ہوں، میں جب بھی عالم اسلام اور عالم انسانیت کے خلاف کچھ کہنے کی محض خواہش کا اظہار کرتا ہوں، یہ میری ’’وکھی‘‘ میں کوئی تیز آلہ چبھوتے ہیں اور میں اپنی اس خواہش کو دبا دیتا ہوں، جس کی تکمیل کا میرا کوئی ارادہ ہی نہیں تھا۔ یہ ڈاکو دراصل میری بکل میں نہیں ہیں بلکہ میں ان کی بکل میں ہوں، میں نے محض شوشا کے لئے انہیں اپنی بکل میں ظاہر کیا ہے۔
اور اب اصل بات یہ ہے کہ یہ سب باتیں میں نے کتاب کے چوری ہوجانے کی وجہ سے کی ہیں۔ چور نے پتہ نہیں کس سے سنا تھا کہ اچھی کتاب کی چوری جائز ہے۔ اب میں بھی یہ کتاب چوری کروں گا اور پوری پڑھنے کے بعد مجھے یقین ہے کہ بہت کچھ سیکھوں گا۔ دراصل یہ کتاب چوری کرنے کے قابل ہے ورنہ کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں کہ انہیں پڑھنے کے بعد جی چاہتا ہے کہ کاش یہ چوری ہوجائیں۔ ایک دوست نے مجھ سے ایک کتاب عاریتاً مانگی، میں نے کہا صرف اس شرط پر دوں گا کہ تم یہ مجھے واپس نہیں کرو گے۔ بہرحال آج تک کتاب کے علاوہ میں نے اخبار میں ان کے جو کالم پڑھے ہیں میرے نزدیک وہ اے کلاس ہیں۔ اب انہیں چاہئے کہ وہ اپنی شاعری کا تازہ مجموعہ بھی لے آئیں مگر خدا کے لئے اس کا نام ایسا نہ رکھیں جس نے مجھے مشکل میںڈ ال دیا۔ میں انہیں مشورہ دوں گا کہ وہ اس کا نام’’ہم سا ہے تو سامنے آئے‘‘ رکھیں یہ میں بہت بڑی قربانی دے رہا ہوں کہ یہ عنوان میں نے اپنی شاعری کے مجموعے کے لئے رکھا ہوا تھا۔
آخری بات، فیصل آباد سے میرے ایک قاری نے تجویز ارسال کی ہے کہ بجائے اس کے کہ مسلم لیگ(ن) لیڈروں کو تاحیات الیکشن کے لئے نااہل قرار دیا جائے، اس جماعت کا ٹنٹنا ہی ختم کردیا جائے اور اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اس جماعت کے ووٹروں کو تاحیات ووٹ دینے کے حق سے محروم کردیا جائے۔ میں اس تجویز کی تائید کرتا ہوں کہ میرے نزدیک صرف اسی صورت میں اس ’’وطن دشمن‘‘ جماعت کا مکمل قلع قمع کیا جاسکتا ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *