یمن کی جنگ اور تلور

ایاز امیرAyaz Amir

ہر چیز کا کوئی نہ کوئی روشن پہلو ضرور ہوتاہے۔ یمن کے معاملے پر اگر ہماری پر حماقت باتوںسے عرب بھائیوں کو رنجش پہنچی توکوئی بات نہیں، ایک خیر کا پہلو موجود ہے ۔ اگر عرب شیخ صاحبان اور ان کی سرزمین سے دیگر اکابرین اس موسم ِ سرما میں ہمارے ہاں شکار کرنے نہ آئیں تو اس پیش رفت پر ایک ہلکا پھلکا جشن بنتا ہے۔ موجودہ بحران کے موقعے پر ہمارے عرب محسن یہ تاثر دے رہے ہیں جیسے ان کے لئے پاکستان ایک شکار گاہ ہے جہاں وہ خوشنما پرندے ، جیسا کہ تلور (Houbara Bustard) پر نشانہ بازی کی مشق کرتے رہے ہیں۔ یہ پرندہ اب چند ایک موسم ِسرما کی ہی مار رہ گیا ہے۔ جس طرح کوئی حکومت ِ پاکستان ممنوعہ اشیا پر عائد پابندی ختم کرنے کا یارا نہیں رکھتی کیونکہ ان پابندیوںسے ہی عقیدے کی عظمت کی جھلک ملتی ہے، اسی طرح ہماری حکومتیں خلیجی ریاستوں سے تشریف لانے والی شخصیات کو غریب تلور پر ہاتھ صاف کرنے سے بھی نہیں روک سکتیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہر سال ، موسم ِ سرما میں ہمارے ہاں میڈیا پر کچھ آوازیں سنائی دیںلیکن یہ احتجاج، بلکہ آہ وبکا، دنیا کے متمول ترین شکاریوںپر بے اثر۔۔۔ شکار کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں لیکن دنیا کی مہنگی ترین گاڑیوں میں بیٹھ کر بے چارے پرندوں کو گولیوںسے بھون ڈالنا کہاں کی شجاعت ہے؟اس ضمن میں بلوچ قوم پرستی بھی تلور کو شکار ہونے سے نہ بچاسکی۔ بلوچ قوم پرست بھی اپنا کام وہاں سے شروع کرتے ہیں جہاںسے خلیجی ممالک کے شکاری چھوڑکرگئے تھے۔ ویسے تو بلوچ بہت اناپرست اور خوددار لوگ ہوتے ہیں لیکن موسم ِ سرما کے شکار کے سیزن میں ان میں سے کچھ سردار شیخ صاحبان کی خدمت کرنے میں کوئی عار نہیں سمجھتے۔ اب جب کوئی تدبیر کارگر ہوتی دکھائی نہیں دے رہی تھی تو بالآخر یمن کا بحران ہی ان پرندوں کی مدد کو آیا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موسم ِ سرما میں آخر تلور ہی خلیجی مہمانوں کا من پسند شکار بن کر ان کے دستر خوان کی زینت کیوں بنتا ہے؟ اس کی وجہ۔۔۔ اور دل وغیر ہ تھامنے کی ضرورت نہیں، آپ سب جانتے ہیں۔۔۔یہ ہے کہ اس پرندے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا گوشت مخصوص قوت کو بے حد بڑھادیتا ہے۔ ہنری کسنجر کا کہنا ہے کہ قوت ہی سب سے بڑی کشش ہوتی ہے ، لیکن ہمارے عرب دوست امریکی دانشور کو غلط ثابت کرتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ مخصو ص کشش ہی سب سے بڑی قوت ہوتی ہے۔ ان کے پا س تیل اور بے پناہ دولت ہے لیکن اس کے باوجود وہ تلور کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اس یمن کی جنگ کے سیاسی اور معاشی اثرات جو بھی ہوں، اس کے اس موسم ِ سرما میں نہایت ’’سرد‘‘ نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
جہاں تک بے چارے تلور کا تعلق ہے (پتہ نہیں اس میں یہ من پسند طاقت ہوتی بھی ہے یا نہیں) تو اس کو صرف پنجرے میں ڈالنے کے لئے نہیں پکڑا جاتا ہے بلکہ ذبح کرکے کھایا جاتا ہے۔ اگر اس کے طبی فوائد کو تسلیم کربھی لیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک مرد کو آخر کتنی طاقت درکار ہوتی ہے؟یا پھر ایسا تو نہیں کہ ہمارے مہمانان ِ گرامی اس نسل کے لاتعداد پرندے پکڑکر اپنی ریاست میں لے جاکر اپنے خاندان کے افراد(یادرہے، صرف مردوں میں)میں اُسی طرح تقسیم کرتے ہیں جیسے بقرعید پر گوشت تقسیم کیا جاتا ہے یا کسی پیر خانے پر نیاز۔
کیا تلور کا گوشت بھی ویسا ہی لطف آفریں ہوتا ہے جیسا کہ نیلی گولیاں؟جہاں تک ان نیلی گولیوں کا تعلق ہے تو یہ پہلے تو صرف امراض ِ قلب کے لئے تیار کی گئی تھیں لیکن جب اس سے ’’دل کے معاملات ‘‘ بھی سدھرنے لگے اور پھر لیبارٹری ٹیسٹ نے اس انقلابی پیش رفت کی تصدیق کردی، تو چلیں ٹھیک ہے، لیکن بے چارہ تلور؟اُس غریب کی طاقت کی کس لیبارٹری میں جانچ ہوئی، یا پھر سنی سنائی باتوں سے ہی سند لے کر اُس کا دھڑن تختہ کردیا جاتا ہے؟ آپس کی بات ہے، حکیم اس مسئلے پر کس ’’دھڑے ‘‘ کا ساتھ دیتے رہے ہیں۔۔۔ تلور کا یا محترم مہمانوں کا؟عین ممکن ہے کہ اس سے ملنے والی طاقت کی کہانیاں محض حکایتیں ہوں، بالکل جیسے دیومالائی کہانیوں میں Phoenix نامی ایک پرندہ نمودار ہوتا ہے لیکن اس کا عملی وجود نہیں ہوتا۔ بہرحال اس موضوع کا احاطہ کرنے کے لئے پی ایچ ڈی سطح کی تحقیق درکار ہے۔یہ جب ہوگی تو دیکھا جائے گا کہ اُس وقت تک تلور بچتا بھی ہے یا نہیں، لیکن لگتا ہے کہ یمن کی جنگ نے اسے اپنے اوسان بجالانے کا موقع فراہم کردیا ہے۔
اس وقت تک ا سٹرٹیجک محاذ پر سے کچھ گرد بیٹھ چکی ہے۔ اگر ہمارے عرب دوست ہمیں بھی محض قوت بخش تلور ہی سمجھتے تھے تو پھر بقول سلطان باہو’’اسی آپے ای اڈن ہارے ہو‘‘(ہم خودبھی پرواز کرنے کے لئے تیار ہیں‘‘۔ اب احساس ہورہا ہے کہ ہم نے خود کو ’’چہ ارزاں فروختند‘‘ ۔ ہمارے پاس اتنا اہم اسٹرٹیجک ہتھیار (تلور) موجود تھا لیکن ہم نے اس کے خون کی قدر نہ کی ۔ اس کی فراہم کردہ ’’جوہری طاقت ‘‘ کے عوض ہم نے کچھ بھی حاصل نہ کیا۔ اب بھی وقت ہے، پریشانی میں ماتھے سے پسینہ صاف کرنے کی بجائے سکون کا سانس لیں اور پھر شیلے نے کہا تھا۔۔۔’’If winter comes can spring be far behind‘‘ تو اس مصرع کاتلور متضاد ذہن میں بٹھا لیں ، اگر گرمی کا موسم ہے تو کوئی بات نہیں ، جنگ ہونے دیں، سردیوں نے بھی تو آنا ہے۔ یمن کا تو کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا لیکن سردیوں نے ہر سال آنا ہے اور اگر تلور نہ ملا تو ؟تو پھر محض ’’بیٹھے رہیں تصور ِ جاناں کیے ہوئے‘‘۔ عقلمند کو اشارہ کافی ہوتو ہو،تلور کی ضرورت اپنی جگہ پرموجود۔
تیل دنیا کے بہت سے ممالک سے نکلتا ہے۔ جب اس کے کنوئیں خشک ہوجائیں گے، یہ دوبارہ نہیں ملے گا، لیکن اتنی معقول تعداد میں تلور کسی ملک میں نہیں ملتا اور قہر یہ کہ سردیاں ہرسال آتی ہیں۔ اگر ہم میں کچھ عقل ہوتو ہمیں تیل کی بجائے تلور کو بچانے کی فکر کرنی چاہیے۔ نیلی گولیوں کا نقصان بھی ہوتا ہے لیکن تلور کا کوئی سائیڈ افیکٹ نہیں۔ ہمیں اس اہم اسٹریٹجک پرندے کی حفاظت کرنی چاہیے اور اس کی جان بچاتے اور نسل بڑھاتے ہوئے اپنا مستقبل بھی محفوظ رکھنا چاہیے۔ خلیجی ریاستوں کے حوالے سے ایک اور بات بھی عام فہم ہے گو اسے قابل ِ اشاعت الفاظ میں ڈھالنا دشوار ، تاہم کوشش کرنے میں کیا حرج ہے؟تیل کی دولت سے مالا مال ہونے کے بعد جب سے خلیجی ریاستوں میں تعمیرات اور معاشی سرگرمیاں شروع ہوئیں، خاص طورپر خلیج کے سب سے بڑے شہر رقاصاوئں، چلیںرفع شر کے لئے اُنہیںفنکارائیںکہہ لیں، کی من پسند منزل ہے۔ لاہور کے ایک مخصوص علاقے کی خوبرو فنکار لڑکیاںاس شہر میں آتے جاتے دکھائی دیتی رہتی ہیں۔ ان کا بنک بیلنس ان کے دورے کی تفصیل بتانے کے لئے کافی ہوتا ہے اور قہر یہ کہ وہ عام افراد کو پکڑائی نہیں دیتیں۔ اگر یمن جنگ کی وجہ سے اس رنگین شہر کا ملک واقعی ہم سے ناراض ہوتاہے تو پھر ہم دیکھیں کہ لاہور اور دیگر شہروں میں بھی فنکاروں کے نرخوں میں معقول حدتک کمی واقع ہوگی اور عام آدمی بھی اُنہیں افورڈ کرسکے گا۔ گویا یمن کی جنگ تلور سے لے کرعام آدمی کے لئے فائدہ مند ہی ثابت ہوگی۔ اس کے علاوہ کچھ بھی فوائد حاصل ہوں گے۔ فی الحال ہمارے پالیسی ساز اور رئیل اسٹیٹ کے بے تاج بادشاہ دبئی کے فن ِ تعمیر کے دلدادہ ہیں۔ ہمارے شہروں کو بھی دبئی طرز کے فلائی اوورز ، پل، سڑکیں ، کھجور کے درخت، سگنل فری ایکسپریس ویز وغیرہ کی مار ماری جارہی ہے۔ اگر یہ جنگ اس طرز ِ تعمیر سے جان چھڑادے تو ہم یمن کے بے حدممنون ہوںگے۔ تاہم افسوس، ہم بہت خوش قسمت نہیں ہیں۔ ہم نے سرجھکا کر بات سننا شروع کردی ہے تاکہ اُن کا غصہ رفع کیا جاسکے۔ چنانچہ نہ تو تلور محفوظ ہوگا اور نہ ہی فن کارائوں کے نرخ کم ہوںگے اور نہ ہی موجود طرز ِ تعمیر سے جان چھوٹے گی۔ ہم ریت میں سردے لیں ، لیکن سردیاں آئیں اور تلور ذبح ہوگا اورپھر چلیں چھوڑیںـــ۔’’منٹو‘‘ مرگیا پر یاد آتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *