نوازشریف کا ایک اور سرپرائز

جن ہوش مندوں کا خیال تھا کہ نوازشریف کی ہمت ٹوٹ چکی ‘ فیصلے کی گھڑی قریب تر آرہی ہے اور یہ بھی کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ'' Dead Weight‘‘نہیں اٹھائے گی‘ ایسے میں نوازشریف (اورمریم بھی) واپس کیوں آئیں گے؟ ان کے لیے ''بری خبر‘‘ ہے کہ نوازشریف اور مریم واپس آرہے ہیں۔
نوازشریف کی طرف سے اپنے ''مہر بانوں‘‘ کو حیران اور پریشان کرنے کا یہ پہلا موقع نہیں ہوگا‘ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں کئی بار ایسا ہی کیا۔ تفصیل میں جانے کا محل نہیں‘ یہاں صرف ایک مثال‘2017ء کے وسط میںپاناما کا ہنگامہ شروع ہوچکا تھا کہ نوازشریف کو عارضہ قلب نے آلیا۔ علاج کے لیے وہ لندن روانہ ہوئے‘ توکہا گیا‘ یہ سب ڈرامہ ہے‘ ملک سے فرار ہونے کا بہانہ ۔وہ جو فیضؔ نے کہا تھا ' اب یہاں کوئی نہیں‘کوئی نہیں آئے گا‘۔لندن میں میاں صاحب جراحت ِ دل کے بڑے عمل سے گزرے۔ صدراردوان سمیت اُن کے کئی عالمی دوستوں نے نیک تمنائوں کے پیغامات بھجوائے۔شہزادہ چارلس‘ ملکہ کے باغ کا خاص شہد اور گلدستہ لیکر خود کلینک پہنچے‘ لیکن کینیڈا والے شیخ الاسلام اس کے باوجود اپنے اس دعوے سے پرقائم رہے کہ یہ تو بال اگانے کا کلینک ہے‘ یہاں دل کے مریضوں کا کیا کام؟
گزشتہ اگست میں بیگم صاحبہ کینسرکے علاج کے لیے روانہ ہوئیں‘ تو اسے بھی ڈرامہ کہنے والے سنگدل موجود تھے۔ اس شب ایک اینکر اپنے دوسرے ساتھی اینکر کو ''اندر کی بات‘‘ بتا رہاتھا کہ مریم کی حسن اور حسین سے ٹیلی فون پر سخت لڑائی ہوئی ہے اور ماں بہن اور بھائیوں کی صلح کرانے لندن گئی ہے۔
ہم نوازشریف کے تازہ سرپرائز کی بات کررہے تھے۔ایوان فیلڈاپارٹمنٹس والے ریفرنس میں خواجہ حارث کے دلائل مکمل ہوچکے‘ اب امجد پرویز اپنے دلائل سمیٹ رہے ہیں۔ فیصلہ سنانے کے لیے سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی‘ تیسری مہلت کا کوئی ایک ہفتہ باقی ہے۔ اللہ سے خیر کی امید رکھنی چاہیے‘ لیکن لگتا یہی ہے کہ پاکستان آمد کے بعد دار و رسن کی آزمائش زیادہ دُور نہیں ہوگی۔
ایک رائے یہ بھی ہے کہ نوازشریف عالمی دوستوں کے اصرار( اور سب سے زیادہ اباجی کے حکم) پر دسمبر 2000ء میں جلا وطنی قبول نہ کرتے‘ تو ڈکٹیٹر کے لیے اپنے کھیل کو آگے بڑھانا خاصا مشکل ہوتا۔ مسلم لیگ میں ''ہم خیال گروپ ‘‘تو 12اکتوبر سے اگلے ہی روز منظر عام پر آگیا تھا‘ لیکن نوازشریف پاکستان میں (جیل میں بھی) رہتے ‘تو قاف لیگ کا بننا ایسا آسان نہ ہوتا۔
اب لندن سے واپسی پر شاید باپ بیٹی کو الیکشن مہم چلانے کا موقع تو نہ ملے‘ لیکن جیل میں موجود نوازشریف بھی کم خطرناک نہ ہوگا۔گزشتہ شب ایک جینوئن عسکری دانشور میجر ایرج ذکریا کے ہاں یونیورسٹی لاء کالج کے ڈاکٹر امان اللہ خاں بھی ڈنر پر تھے اور یہاں بھی جس سوال پر سب سے زیادہ بات ہوئی‘ وہ یہی تھا کہ کیا اہم ترقومی مفاد میں نوازشریف (اور مریم کے خلاف ) احتساب عدالت کا فیصلہ محفوظ رکھا جاسکتا ہے؟(کہ وسیع تر مفاہمت کا کوئی مبہم سا امکان ہی سہی‘ باقی رہے)۔
ہفتے کے روز جنوبی پنجاب میں جو کچھ ہوا‘یہ سیدھی سادی سیاسی واردات تھی۔دھوکہ دہی کی واردات۔ ویسے تو کچھ عرصہ قبل جنوبی صوبہ محاذ کے راستے تحریک انصاف میں شامل ہونے والوں نے بھی کوئی اچھی نہیں کی تھی۔ مخدوم خسروبختیار اینڈ کمپنی پانچ سال تک برسراقتدار مسلم لیگ سے وابستگی کے تمام فیوض وبرکات سمیٹتے رہے اور آخری وقت میں '' عوام کے مفاد‘‘ کا درد انہیں دوسری طرف لے گیا‘ لیکن انہوں نے اتنی شرافت تو دکھائی کہ انتخابی عمل شروع ہونے سے پہلے علیحدگی اختیار کرلی‘ یوں مسلم لیگ(ن) کے پاس ان حلقوں میں متبادل کے لیے وقت موجود تھا‘ لیکن ہفتے کے روز تو مسلم لیگ(ن) کے ساتھ عجیب واردات ہوئی۔ ٹکٹ واپس کرنے والوں نے ٹکٹ کے لیے باقاعدہ درخواست دی تھی‘ انٹرویو ہوئے او ر انہیں مسلم لیگ کے ٹکٹ الاٹ کردیئے گئے‘ پھر ان ٹکٹوں سے دستبرداری کے لیے انہوںنے آخری دن کا انتخاب کیا کہ مسلم لیگ یہاں کسی اور کو اپنا امید وار بھی نہ بنا سکے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس واردات پر سپریم کورٹ یا الیکشن کمیشن کا سووموٹو بنتا ہے یا نہیں ؛ البتہ ہمارے خیال میں یہ صادق وامین توبہر حال نہیں رہے۔ اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) سپریم کورٹ یا الیکشن کمیشن کا دروازہ کھٹکھٹا کر دیکھ لے تو کیا ہرج ہے؟۔
ویسے اس معاملے میں مسلم لیگ(ن) کی قیادت کی سادہ لوحی بھی قابلِ داد ہے۔ ہم لاہورمیں بیٹھے تھے اور ہمیں اڑھائی تین ہفتوں سے ڈیرہ غازی خاں کے دوست بتا رہے تھے کہ یہ حضرات مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ عین آخری وقت پرواپس کردیں گے ۔یہ مسلم لیگ کو ہاتھ پائوں باندھ کر مارنے والی بات ہوگی‘ اس علاقے میں تو نسہ سے غلام مصطفیٰ میرانی بھی امید وار تھے۔ ویسے تو انہوں نے قومی اسمبلی کے لیے بھی کاغذات جمع کرائے‘ لیکن ان کی اصل دلچسپی صوبائی سیٹ میں ہے۔ ان کے بھائی سالہا سال سے مسلم لیگ (ن) تحصیل تونسہ کے جنرل سیکرٹری رہے‘اور ہر طرح کے برُے بھلے حالات میں پارٹی سے وفا نبھائی۔خود غلام مصطفیٰ میرانی بھی مردان ِ وفا کیش میں شمار ہوتے ہیں(جن کے قحط کا ہم رونا رہتے ہیں)میرانی اپنے دورِ طالب علمی میں ڈی جی خان کالج سٹوڈنٹس یونین کے صدر رہے۔ 1974ء کی تحریک ختم نبوت اور 1977کی تحریکِ نظام مصطفی میں قید وبند کی آزمائشوں سے بھی گزرے‘ پھرپنجاب یونیورسٹی چلے آئے ‘ یہاں بھی طلبہ سیاست میں فعال رہے۔ عملی زندگی کا آ غاز سول ایوی ایشن سے کیا اور پیشہ وارانہ فرض شناسی کی مثال بن گئے۔ کئی بار سول ایوی ایشن آفیسرز ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے۔ لاہور ایئر پورٹ سول ایسوسی ایشن کے سربراہ تھے ‘ جب12کتوبر ہوا ۔ دو‘تین روز بعد گرفتار کرلئے گئے۔ مہینوں پس دیوار ِ زنداں رہے۔ اس میں قیدِ تنہائی کی صعوبت بھی تھی۔اسی دوران ان کی اہلیہ کینسر کا شکار ہوئیں (اور جلدہی اگلے جہاں سدھار گئیں)میرانی سے ایک ہی تقاضا کیا جارہاتھا کہ نوازشریف کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن جائے ۔ اسی دوران نیب کی انکوائریاں بھی بھگتیں ۔ آخر کار کچھ بھی ثابت نہ ہوا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد تونسہ کے میرانی قبیلے (اور اس سے بڑھ کر حلقے کے عوام کے اصرار پر)انتخابات میں حصہ لینے پر رضامند ہوگئے‘ لیکن مسلم لیگ (ن) کی نظر میں نہ آسکے۔ اب ٹکٹ کا وقت تو گزر چکا ‘ مسلم لیگ(ن) بغیر ٹکٹ کے ہی انہیں ''اون‘‘ کرلے‘ تو اس علاقے میں اس کا نا م لینے والا تو کوئی ہوگا۔
حفیظ اللہ نیازی گزشتہ شام جم خانہ کے عصرانے میں ایک اور دلچسپ کہانی سنا رہے تھے۔ ان کے بھائی عرفان اللہ نیازی اپنے علاقے میں صوبائی اسمبلی کے لیے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ یافتہ ہیں۔ انعام اللہ نیازی اپنے بھائی کی مہم چلا رہے ہیں۔ انعام نے1993ء کی پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ وٹو کا ناک میں دم کیے رکھا۔ 1998ئمیں نوازشریف کے ٹکٹ پر ایم این اے بنے‘ تو 12اکتوبر کے بعد ڈکٹیٹر کے خلاف ہمت اور حوصلے کے ساتھ کھڑے رہے۔اب تین چار دن پہلے کچھ لوگ ''بالٹی ‘‘کا نشان لیکر عرفان اللہ کے ہاں پہنچ گئے۔ وہ جیت کی یقین دہانی بھی ساتھ لائے تھے۔میانوالی کا نیازی خاندان پاکستان کے پہلے ڈکٹیٹر کے دور میں گورنر کالا باغ کے تمام ترجبروقہرکے باوجود مادرِ ملت کے ساتھ کھڑا رہا تھا۔ اب وفا کی ایک اورآزمائش میں نیازی برادران نے ماضی کی خاندانی روایت کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ۔اللہ اُن کا حامی وناصر ہو!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *