موہنجو ڈارو کا سرخ شہر

مستنصر حسین تارڑMHT

 

ابھی کچھ دھوپ تھی۔۔۔گرنیڈ پریسٹ کا مجسمہ سفید چونے میں ڈھلا سفید تھا اور اُس سے پرے موہنجو کے ڈھے چکے شہر کے ٹیلوں کے انبار تھے اور وہ سرخ تھے کہ اینٹیں جب پانچ ہزار برس کی بہاروں، خزاؤں اور برساتوں کے موسمی دُکھ سُکھ جھیلتی بُھر بُھری ہونے لگتی ہیں، مسمار ہونے لگتی ہیں تو اُن میں سرخ مٹی جھڑنے لگتی ہیں اور وہ دن کی دُھوپ میں بھی شفق کے رنگ میں ڈوبی ہوتی ہیں۔۔۔میں موہنجو ڈارو میں اجنبی نہ تھا۔۔۔میں اس کی ایک ایک اینٹ سے شناسا تھا۔ میں نے ’’بہاؤ‘‘ لکھنے سے پیشتر وادئ سندھ کی تہذیب کے بارے میں برسوں پُر ثقت اور آنکھیں دُکھا دینے والے تحقیق میں اپنے آپ کو غرق کیا۔ میری مدد کو بہت سے لوگ آئے جن میں علامہ فرید کوٹی، علی عباس جلالپوری، عارف وقار وغیرہ شامل تھے لیکن سرفہرست ملتان کے مرزا ابن حنیف تھے جنہوں نے اپنی عمر بھر کی تحقیقی کمائی میری جھولی میں ڈال دی۔ اس معاونت کے باوجود یہ میری زندگی کے کچھ برس تھے جو میں نے ’’ضائع‘‘ کیے یہاں تک کہ میں عہد موجود سے بیگانہ ہو کر پانچ ہزار برس کے قدیم زمانوں کا باشندہ ہو گیا، پا روشنی، سمرو، پکلی، ورچن، مامن ماسا اور ورچن کی سرسوتی ندی کے کناروں کا باسی ہو گیا۔
میں موہنجو ڈارو میں اجنبی نہ تھا اسی لیے مجھے کسی سے راستہ دریافت کرنے کی حاجت نہ تھی، میں خوب جانتا تھا کہ یہ گلی موہنجو کے عظیم تالاب کی جانب جاتی ہے۔ اس گلی کے آخر میں وہ کنواں موجود ہو گا جہاں سے موہنجو کی ناریاں پانی بھرتی تھیں۔ اور جیسے لاہور کے بارے میں وہ حکایتی سوال جواب ہے کہ مجھے بتاؤ تو سہی کہ لاہور میں کتنے کنویں ہیں اور کن کا پانی کھارا ہے اور کن کا شیریں ہے تو جواب آتا ہے کہ جن کنووں سے محبوب پانی بھرتے ہیں وہ سب میٹھے پانی والے ہیں اور بقیہ کھارے پانی والے ہیں تو اسی طرح موہنجو کے کھنڈروں میں حیرت انگیز طور پر متعدد کنووں کی گولائی کے آثار اب بھی نمایاں ہوتے خبر کرتے ہیں کہ ان کنووں کے پانی میٹھے ہی ہوتے ہوں گے۔۔۔البتہ جس کنویں سے نرتکی موہنجو ڈارو کی اپنی گاگر بھرتی ہو گی اس کے پانیوں میں مٹھاس کے علاوہ اس کے آنبوسی بدن کے نمک عشق کی بھی گھلاوٹ ہو گی۔۔۔تو ایک تصور اور تحقیق کی آمیزش سے ’’بہاؤ‘‘ اور ’’دھند کے پیچھے شہر تھا‘‘ جس میں جو موہنجو ڈارو وجود میں آیا، اُس تصوراتی شہر میں اور اس ڈھلتی دھوپ میں سرخی میں ڈھلتے شہر میں جسے پہلی بار میری آنکھیں دیکھ رہی تھیں کچھ فرق تھا۔۔۔ نہیں تھا۔۔۔ وہ ہو بہو وہی تھا جس نے میری برسوں کی تحقیق کے تصور میں سے جنم لیا۔۔۔ البتہ ایک فرق تھا۔۔۔ کہ موہنجو ایک سرخی میں ڈوبا سرخ شہر تھا۔۔۔ سب کھنڈر در و بام سرخ۔۔۔ گلیوں کے فرش، نالیوں کو ڈھانپتی اینٹیں سرخ۔۔۔ بھر بھری سرخی ہر اینٹ میں سے بھرتی سرخ۔۔۔ اور جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں کہ ان کنووں میں اگر پانی ہوتے تو وہ بھی سرخ ہوتے۔۔۔اس کے راستوں پر چلتے۔۔۔ گلیوں میں جھانکتے میرے جو گرز کے تلووں سے چمٹتے مٹی کے ذرے بھی سرخ۔۔۔ اس شب ہوٹل میں جب میں نے اپنے جوگرز اُتارے تو اُن کے تلووں سے چمٹی مٹی کے ذرے سرخ جگنوؤں کی مانند دمکتے تھے، تو میری تحقیق اور تصور میں بس یہی کمی رہ گئی تھی، مجھے یہ گمان نہ ہو سکا کہ موہنجو ڈارو ایک سرخ شہر ہے۔۔۔اُردن کے ’’روز ریڈ سٹی پیٹرا‘‘ کی مانند ایک گلابی رنگت کا شہر ہے۔ شنیدہ کے بود مانند دیدہ۔۔۔کھنڈر ہو چکے ایوانوں، تالابوں، رہائش گاہوں اور گلیوں میں اینٹوں میں سے سرخ سفوف جھڑتا تھا۔۔۔بس یہی کمی رہ گئی۔۔۔وہ سٹوپا جو موہنجو ڈارو کی پہچان ہے جو پاکستان کے کرنسی نوٹوں پر بھی ثبت ہے۔۔۔ بہت سنبھالا گیا تھا، ذرا دوبارہ لیپ کر کے تعمیر کیا گیا تھا، اس شہر کے تاریخی اور تہذیبی تسلسل کی ایک نشانی تھی، اس کے آثار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے تھے کہ موہنجو ہندوستان پر آریائی حملہ آوروں کے نتیجے میں برباد نہیں ہو گیا تھا، یہ ہزاروں برسوں تک قدیم دراوڑی تہذیب کا مرکز رہا۔ اجڑا نہیں۔۔۔ تقریباً دو ہزار برس بعد یہاں بدھ مت کی تہذیب کا غلبہ ہوا اور یہ سٹوپا وجود میں آیا۔ گویا موہنجو ڈارو کم از کم دو ہزار برس تک ایک آباد اور زندہ شہر چلا آیا تھا۔
ہمارے شہروں میں سے لاہور، کراچی، کوئٹہ وغیرہ کے نصیب میں کیا یہ ہے کہ وہ دو ہزار برس تک آباد رہیں گے، نہیں رہیں گے۔۔۔ دھوپ ڈھلتی جا رہی تھی اور اس کے ساتھ موہنجو ڈارو کے کھنڈر مزید سرخ ہوتے جا رہے تھے، ڈھلتے سورج کی سرخی اس کی ہر اینٹ پر اثر انداز ہوتی اسے خون کے رنگ میں ڈبوتی تھی۔۔۔اسی شہر میں سر سوتی ندی کے کناروں پر زندگی کرتا ورچن طویل مسافتیں طے کرتا آیا تھا۔۔۔ہم جب موہنجو ڈارو کے کھنڈروں میں داخل ہو رہے تھے تو دیدہ دل کا ایک چاچا، اپنی ڈاڑھی خضاب کیے ہمارے لیے کینٹکی چکن اور فرنچ فرائز کا من و سلوےٰ لیے موجود تھا۔۔۔ اس ’’چاچا‘‘ کے رنگ ڈھنگ نرالے تھے، بیشتر رنگ قانون کو خاطر میں نہ لاتے تھے اور ڈھنگ جتنے بھی تھے اُن میں ملک ملک کی خواتین کے ساتھ شب بسری کی داستانیں تھیں۔۔۔ عجب چاچا تھا۔۔۔عظیم سٹوپا کے گرد ایک گردش کر کے، ایک طواف کرنے کے بعد، کہ ہم بہت بھوکے ہو رہے تھے۔ اور یہ بھوک کچھ نئی نہیں ہے، پانچ ہزار برس سے موہنجو میں چلتی آ رہی ہے ہم نے سٹوپا کے نشیب میں واقع ایک ایسے مختصر کھنڈر کمرے کا انتخاب کیا جس کی صرف بنیادیں باقی تھیں اور اس کے سرخ فرش پر پچھلی شب کی بارشوں کی نمی
تھی اور وہ بھی سرخ تھی۔۔۔ ہم نے اس کمرے میں بیٹھ کر۔۔۔ ذرا تصور کیجیے۔۔۔ ارمیکی کینٹکی چکن اور فرنچ فرائز نہایت رغبت سے نوش کیے۔۔۔کیا اس کمرے کا مکین، آج سے چار پانچ ہزار برس پیشتر یہاں رہائش رکھنے والا یہ تصور کر سکتا تھا کہ کبھی آئندہ زمانوں میں ہم لوگ اس کی خلوت کو مجروح کرتے کینٹکی چکن کی ٹانگوں کو بھنبھوڑتے ہوں گے، تو کیا آج آپ یہ تصور کر سکتے ہیں کہ جن شہروں میں آپ رہتے ہیں، جن مکانوں میں بسیرا کرتے ہیں ان کے کھنڈروں میں آج سے چار پانچ ہزار برس بعد وہ کونسے لوگ ہوں گے جو اپنی بھوک جانے کونسی خوراکوں سے مٹاتے ہوں گے۔۔۔اور اس دوران جب میں اُس کھنڈر ہو چکے آثار کے ایک ابھار پر براجمان کینٹکی چکن سے لطف اندوز ہو رہا تھا ہمہ وقت یہ خیال آتا رہا کہ آخر وہ کون ہو گا جو اس کوٹھڑی کا مکین ہوا کرتا تھا۔۔۔ شاید کوئی مُہریں ڈھالنے والا، عظیم پروہت کے گیت گانے والا، یا پھر موہنجو ڈارو کی رقاصہ کا کوئی عاشق۔۔۔ وہ کون ہو گا۔۔۔موہنجو ڈارو اس ڈھلتے سورج کی سرخی میں سرخ ہوتا ایک شاہ حسین ہوا جاتا تھا:
اَساں اندر باہر لال ہے
ساہنوں مُرشد نال پیار ہے
یا پھر۔۔۔
دُھواں دھنے میرے مُرشد والا
جاں پھولاں تاں لال نیں
اس ڈھل چکی دھوپ میں موہنجو ڈارو کے سرخ کھنڈروں میں جان بوجھ کر بھٹکتا ایک جوڑا تھا۔
لڑکی واجبی شکل کی تھی پر اس کے بالوں پر موہنجو کی اینٹوں میں سے بھرتے سرخ ذرے دمکتے تھے۔ اس کی نیلی جین جس میں وہ پیوست تھی وہ بھی سر خ سفوف سے سرخ ہوتی دکھائی دیتی تھی۔۔۔ اور وہ جو لڑکا تھا معنک اور اچھی شکل والا وہ ایک سجن بے پروا تھا۔۔۔ سورج ڈھلتا جاتا تھا۔۔۔ موہنجو کے کھنڈروں سے میرے ڈھلتے وورج میں زرد ہوتا، دریائے سندھ تھا، یہی میری شہر تمنا تھا۔۔۔شہر آرزو تھا۔۔۔ مجھے کچھ خبر نہ تھی کہ موہنجو ڈارو ایک نہیں، کئی شہر ہوا کرتے تھے۔۔۔وہ ایک دوسرے میں منسلک اور جڑے ہوئے تھے اگرچہ الگ الگ تھے۔ (جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *