فیصلہ


نواز شریف پر کرپشن ثابت نہیں ھوئے۔ کرپشن کے الزام سے بری۔ زیر کفالت افراد کے نام جائیداد رکھنے پر سزا۔ ثبوت کوئی نہیں لیکن مفروضہ یہ ہے کہ پراپرٹی نوازشریف کی ھے۔کیونکہ جے آئی ٹی ایسا سمجھتی ھے۔
نوٹ۔ انگلینڈ میں پراپرٹی خریدنے اور پراپرٹی رکھنے کے قوانین اتنے سخت ھیں۔ کہ کرپشن تو دور کی بات کسی مالی بے ضابطی کی بھی گنجائش نہیں۔
سب نوٹ۔ جرمانہ پاونڈ سٹرلنگ میں کیوں کیا گیا۔ کیا پاک کرنسی تبدیل ھو گئی ہے۔ کیا پاک گورنمنٹ یا پاک عدالت لندن میں کسی برٹش شہری کی جائیداد کی ضبطی کا حکم جاری کر سکتی ھے۔ اور زیر کفالت افراد کا معاملہ بھی ابھی طے ھونا باقی ھے۔ اس لیے کہ نوازشریف کا یہ کہنا ھے۔ یہ فلیٹ ان کے بچوں نے 1992 میں اپنے دادا کی کمائی سے خریدے تھے۔ یعنی پورا فیصلہ ھی رنگ بازی پر مشتمل ھے۔اضافی نوٹ۔ لڑائی تو دو ھاتھیوں یعنی اسٹیبلشمنٹ اور نواز شریف کے درمیان ھو رھی ھے۔ اور آج کے فیصلے کے بعد اگلے مرحلے میں داخل ھو چکی ھے۔ ختم نہیں ھوئ ۔ لیکن یہ تحریک انصاف کے سیانے اتنے خوش کیوں ھو رھے ھیں۔ کہیں سیاسی میدان مخالفین سے خالی ھونے کی امید پر اچھل کود تو نہیں کر رھے ؟

خاص طور پر مریم نواز کی سزا بڑی معنی خیز ھے۔ ایک خاتون جس نے کبھی کوئی پبلک عہدہ استعمال نہیں کیا۔ کبھی ممبر پارلیمنٹ نہیں رھی۔ اسے سات سال سزا کے علاوہ دس سال کے لیے الیکشن لڑنے سے بھی نااھل کر دیا گیا ھے۔ اس بنا پر کہ وہ اپنے باپ کے جرائم میں شامل ھے۔ وہ جرائم جو ثابت نہیں ھو سکے۔ اور خیالی تنخواہ کی طرح خیالی پراپرٹی کے مفروضے پر سزا دی گئ۔ یہی نااھلی بتا رھی ھے۔ ھماری اسٹیبلشمنٹ مریم نواز کی سیاست میں آمد اور اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کرنے کی پالیسی سے کسقدر خوفزدہ ھے۔ یہ وھی اسٹیبلشمنٹ ھے۔ جو وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو سیلیوٹ کرنے میں اپنی تضحیک محسوس کرتی تھی۔ یہ لوگ تو ایک مرد وزیراعظم کو سیلیوٹ نہیں کرتے۔ ٹانگیں پھیلا کر اس کے برابر بیٹھ جاتے ہیں۔ چہرے پر کرختگی طاری کر لیتے ہیں۔ اور سٹک سے کھیلتے رھتے ھیں۔ یعنی اندازہ کریں۔ بائسویں سکیل کا ایک افسر کس قدر بد تہذیبی کے ساتھ اپنے باس کے برابر بیٹھ جاتا ھے۔ وہ باس جو 22 کروڑ عوام کا منتخب وزیراعظم ھے۔ ایسے میں ایک کل کی بچی کے سامنے کل کو کس طرح پیش ھو سکتے ہیں اگر وہ وزیراعظم بن جاے۔ چناچہ سوچا گیا۔ ابھی سے اس سے جان چھڑوا لی جائے۔ پہلے بے نظیر کو قتل ھونا پڑا تھا۔ اب ایک اور عورت کا سیاسی گلہ گھونٹا گیا ھے۔ فاطمہ جناح کا حال بھی سب کو معلوم ھے۔ جنہیں جنرل ایوب نے سیکیورٹی رسک ڈکلیر کیا۔ اور جن کی وفات مشکوک حالات میں ھوئ۔ اس ملک میں آزاد مرد وزیراعظم قبول نہیں ۔ خواتین کو کیسے اجازت دی جا سکتی ھے۔ وہ حکمران بن جائیں۔ ویسے بھی ایک باپ کو ڈرانے کے لیے ، اسے اپنے ڈھب پر لانے کے لیے اس کی بیٹی کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنا صرف ھماری اسٹیبلشمنٹ کا ھی خاصہ ھے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *