الیکشن، جمہوریت اور اصلاحات

پاکستان ایک عجیب ملک ہے جہاں اداروں کے سربراہ اپنی بے بسی کا اظہار کرتے رہتے ہیں کہ ان کے ادارے کوئی کام نہیں کرتے اور سیاست دان عوام سے بھی ووٹ مانگتے ہیں باوجود اس کے کہ وہ اپنے منشور پر عمل نہیں کرتے۔ روزمرہ کی بنیاد پر، ہم ریاست کے تمام آئینی، انتظامی اور عدالتی اداروں کی بے حسی کے بارے میں سنتے رہتے ہیں۔ لوگوں کو مقررین کی طرف سے اداروں کی قابل رحم ناکامی کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ تاہم، یہ کوئی نہیں بتاتا کہ ان کا حل کیسے کیا جائے۔ سیاست دان، بیوروکریٹس اور جج حضرات جو کہ نظام کے چلانے کے ذمہ دار ہیں کھل کر اپنی نالائقی کا اظہار کرتے ہیں۔  25 جولائی کو لوگ پولز کی طرف تو جائیں گے لیکن سیاسی پارٹیوں کو کوئی یہ نہیں پوچھ رہا کہ وہ پانی کی قلت، کرنٹ اکاونٹ خسارے، گرتے ہوئے فاریکس ریزوز، بے روزگاری، اور تعلیمی اور صحت کی سہولیات کی کمی جیسے مسائل پر قابو پانے کے لیے کیا پالیسی رکھتے ہیں۔ سیاسی پارٹیان دلائل، وجوہات اور منطق کے سامنے جواب دہ نہ ہونے کا کلچر اپنے اندر سمائے ہوئے ہیں۔ نیشنل ایجنڈا پر کوئی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کسی کی نیت نہیں ہے چاہے کوئی بھی پارٹی جیت جائے۔ 1960 سے فوجی و سول تمام حکومتیں کمزور طبقہ کے لوگوں کی طرف کوئی توجہ نہین دیتی رہیں۔ 1980 سے آمدن کی عدم مساوات تیزی سے بڑھ چکی ہیں۔ آمدن اور دولت
میں فرق کو بڑھانے والا واحد تباہ کن عنصر ٹیکس سسٹم ہے۔ 1992 سے غریب طبقے پر ٹیکس(35 فیصد) بڑھ چکے ہیں جبکہ امیر طبقہ جو کہ90 فیصد دولت کے مالک ہیں ٹیکس کے کل مجموعے میں سے 1 فیصد سے بھی کم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ کوئی بھی سیاسی پارٹی اس دائمی معاشی تفاوت کے بارے میں نہیں سوچتی اور نہ ہی امیر اور غریب کے بیچ بڑھتے ہوئے فرق کے معاملے کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ پاکستان کا الیکٹرانک میڈیا محض سینسلشنلزم پر یقین رکھتا ہے۔ تمام جانے پہچانے اینکر بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کو خوبصورت بنا کر پیش کرنے، سب کا مذاق اڑانے، خبریں بنانے اور تجزیے ایجاد کرنے میں تو پوری قوت لگاتے ہیں لیکن وہ سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کوعوامی مسائل کا حل پیش کرنے اورماہرین اور عوام کی طرف سےپیش کیے گئے سوالات کا سامنا کرنے کے لئے مدعو نہیں کرتے۔ وہ بمشکل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہماری بڑی ناکامی عدلیہ کے مؤثر نہ ہونے اور نظام اور قانون کے نفاذ میں ناکامی کی وجہ سے ہے۔ حتیٰ کہ اس دن چیف جسٹس آف
پاکستان نے کھلی عدالت میں یہ تسلیم کیا کہ وہ سرکردہ نظام کی اصلاح میں ناکام ہیں۔  میڈیا سنسنی خیز خبروں میں اٹکا ہوا ہے، وہ سنجیدگی کے ساتھ اس بات پر بحث نہیں کرتے کہ سب کے لیے عدل، قانون کی حاکمیت،انصاف اور برابری کو کیسے یقینی بنایا جائے۔ چیف جسٹس آف پاکستان روزانہ کی ہیڈ لائنز میں ہیں۔ میڈیا اداروں کی توڑپھوڑ سے متعلق شواہد کی نمائش کر کے سنسنی تو پیدا کرتا ہے لیکن کوئی ایک بھی ٹی وی چینل بھی عدالتوں کے باہر کھڑے بے یار و مددگار اپنے کیسز کی کاروائی کا انتظار کرنے والوں کی بدترین صورتحال کو نہیں دکھاتا۔ میڈیا سیاستدانوں کی بڑی بدعنوانیوں سے تو پردہ اٹھاتا ہے لیکن کبھی بھی آئین کے آرٹیکل** A** 19* *کے تحت جنرلز، ججز اور سویلین کے اعلیٰ عہدیداران کے اثاثوں کے بارے میں احتساب پر دھیان نہیں دیتا۔ کئی ماہ سے یہ ملک پے در پے سو موٹو معاملات میں گھرا ہوا ہے جس کی درخواست
اس صورت میں کی جاتی ہے کہ حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہے۔ اچھا، لیکن اگر جسٹس سسٹم ہی ڈیلیور کرنے میں ناکام ہو جائے تو اس کا کیا حل ہو گا؟ عدالتی نظام کی تصحیح قانون دان اور جج حضرات ہی کر سکتے ہیں نہ کہ عام عوام۔  ہم تب تک کچھ بھی صحیح نہیں کر سکتے جب تک ہم اپنے ریاستی ڈھانچے کو جمہوری نہ بنا لیں۔ موجودہ نظام استحصال کا حمایتی اور عوام کے خلاف ہے۔ مقتدر طبقہ غریب عوام کی محنت سے کمائے پیسے پر عیاشی کرتا ہے اور پولیس فورس ، ٹیکس اور عدالت کو اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ لوگوں کی سیاسی اور معاشی ترقی جو کہ جمہوریت کا جوہر ہے، اصل چیلنج ہے۔ حکمرانوں کے لیے تو یہ موت جیسا ہے۔ وہ ابھی تک نو آبادیاتی دور سے **VIP**کلچر کی حفاظت کر رہے ہیں۔اس طرح وہ اپنی چالوں سے وہ عوام کی توجہ اصل معاملات سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ پاکسان میں فوجی، عدالتی اور سول کمپلیکس امراء اور اعلیٰ سطح کے لوگوں کے لیے تو کام کرتا رہا ہے لیکن بے یار و مددگار لوگوں کے لیے کبھی کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے عام لوگوں کو ان دعووں پر لٹکائے رکھا کہ 'ہم نظام کے محافظ ہیں' اورآپ لوگوں کے لیے 'ہم اس کی اصلاح کریں گے'۔ وہ جانتے ہیں کہ موجودہ نظام کا تسلسل جس میں وہ بے مثالی فوائد، ٹیکس سے آزادی، مراعات اور فری پلاٹس سے محظوظ ہو رہے ہیں، یہی نظام ان کو عوام کو کنٹرول میں رکھنے کے قابل بنائے رکھتا ہے۔  جمہوریت کے لیے لازمی عمل صرف سیاستدانوں کا نہیں بلکہ سب کا احتساب
کرنا ہے۔احتساب ججوں سے شروع ہونا چاہیے جو کہ دوسروں کے فیصلے کرتے ہیں۔ ججز کو سب سے اوپر، دیانت دار، بے گناہ اور اندرونی اور بیرونی دباؤ سے آزاد ہونا چاہیے۔ انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے، ججز کا سب سے اولین فریضہ ہے کہ وہ عدل اپنے فیصلوں سے دکھائیں نہ کہ بار بار عدالتوں اور بیانات کی تبدیلی کے ذریعے۔ سیاستدان کبھی بھی ججز اور جنرلز کے احتساب کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ نہیں ہوئے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے وزیر قانون نے اصل میں ججز اور جنرلز کے احتساب کے قانون کے تحت لانے کے بارے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کچھ ممبران کی رائے کو مسترد کر دیا۔ اب پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما ملٹری کو خوش کرنے کے اس عمل
پر خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ اقربا اور دوست پروری کا کلچر صرف سیاسی پارٹیز میں ہی نہیں پایا جاتا بلکہ تمام ریاستی اداروں میں پایا جاتا ہے۔ یہ پاکستان میں جمہوریت کی سب سے بڑی ناکامی ہے اور اسٹیبلشمنٹ کی سیکیورٹی اور امور خارجہ میں صرف خیالی دخل اندازی نہیں بلکہ سیاسی پارٹیوں کے داخلی امور پر اثرانداز نہ ہونا بھی ہے۔ سیاست دانوں کی دوسری ناکامی کسی خود مختار احتساب ادارے کی ناموجودگی ہے۔ 25 جولائی 2018 کے الیکشن کے بعد جو نئی سرکار ہو گی وہ کچھ مختلف نہیں ہو گی۔ چاہے کوئی پارٹی جیتے یا معلق پارلیمنٹ وجود میں آئے۔ وجہ سادہ ہے کہ مجموعی طور پر ہم ایک حقیقی جمہوری سیٹ اب بنانے میں ناکام ہیں جوکہ سب کے لیے احتساب لائے اور قانون کی پاسداری کو خاص طور پر حکمرانوں کے لیے، عوامی اور سرکاری عہدیداروں کے لیے یقینی بنائے۔ قانون کی حاکمیت کی غیر حاضری ہی جمہوریت کی
نفی ہے۔ کیا یہ نئے انتخابات اور درجنوں سو موٹو کیسز دوست پروری، اقربا پروری، باہمی نفرت، ظلم، بدمعاشی، آمریت، جبر، خلفشاریان، بے صبری، انسانی حقوق تلفی، اقلیتوں کے ساتھ ظلم، اور معاشرے کو انصاف پہنچانے تک کے لیے کار آمد ہو سکتے ہیں؟ یہ سب عناصر جمہوریت کی علامت ہیں۔ انتخابات اور سو موٹو جمہوری قیام، قانون کی حاکمیت اور سماجی اور سب کے لیے معاشی انصاف کی گارنٹی نہیں دے سکتے۔
انصاف کی فراہمی جمہوریت کے لیے ایک لازمی عمل ہے جو کہ بد قسمتی سے ہمارے ہاں ناپید ہے۔ چیف جسٹس پاکستان اگلے چھ ماہ کے عرصے میں اس پر توجہ دیں۔ موجودہ طاقت کا ڈھانچہ چاہے وہ ایگزیکٹو ،عدالتی نظام یا قانون سازی سے متعلق ہو، یہ جمہوریت اور گڈ گورننس کے بر عکس ہے۔ کوئی بھی سیاسی پارٹی ان ڈھانچوں کو ختم نہیں کرنا چاہتی۔ اس کے برعکس سیاست دان سول ملٹری بیورو کریسی، وڈیروں
اور جاگیرداروں کے مفادات کا تحفظ کررہے ہیں۔ یہ ناپاک اتحادی نہ صرف عوام کی طاقت کا انکار کرتے ہیں بلکہ انہیں جمہوریت اور قومی دلچسپی کے نام پر ذلیل بھی کرتے ہیں۔اصل چیلنج اس ناپاک اتحاد کو ختم کرنا ہے، جو کہ بدقسمتی سے کسی سیاسی پارٹی کا منشور نہیں ہے، جو کہ حکومت بنانے کے قابل ہو

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *