ہم جان گئے ہیں

Ayaz Amirمیرا خیال تھا کہ ہم اس سرکس کی اصلیت کو نہیں جان پائیں گے، لیکن مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ میں غلطی پر تھا۔ حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے مضحکہ خیز اقدامات کی اصلیت ظاہرہونا شروع ہو گئی ہے اور اس کے ساتھ ہی ایسا لگتا ہے کہ قوم سحر سے نکل آئی ہے۔ تاہم پانچ دریاؤں کی سرزمین، پنجاب، جو روایتی طور پر قدرے سست واقع ہوا ہے ، میں ہنوز جنبش پیدا نہیں ہوئی ہے لیکن باقی پورے ملک میں پاکستان مسلم لیگ (ن)کی تعریف میں رات دن ایک کردینے والے اگر خاموش نہیں، تو بھی بے سرُے ضرور ہو چکے ہیں۔
اپنے گزشتہ کالم میں ظفر ہلالی نے لکھا…”کیا نواز شریف دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لئے کمر بستہ ہورہے ہیں؟“ پھر خود ہی اس کا جواب دیتے ہیں…”مذاق نہ کریں؟“ایک مشہور انگریزی اخبار میں نادر حسن کا مضمون ”Life is a highway“ ہر گز ظریفانہ نہ تھا ، بلکہ یہ ایک سنجیدہ مضمون تھالیکن جس طرح اُنھوں نے حکومتی کارکردگی کی قلعی کھولی ہے ، میں ہنسے بغیر نہ رہ سکا۔ اگر کوئی شخص موجودہ حکومت کی دانائی کی گہرائی جاننا چاہتا ہے تو وہ اس مضمون کو ضرور پڑے۔ نادر حسن کے نزدیک موجودہ حکمران ایک شاہراہ پر کھڑے ہیں ، میں اس میں صرف اتنا اضافہ کرتا ہوں کہ اگر وہ کسی شاہراہ کی بجائے کسی دیوار کے سامنے بھی کھڑے ہوتے تو یقینی کارکردگی، کی جہت یہی ہوتی… سڑکیں ، انڈر پاس، پل، موٹر وے، بلٹ ٹرین کا منصوبہ۔ دراصل اس کے علاوہ کچھ اور کر ہی نہیں سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے تمام تر سیاسی تجربے سے کچھ نہیں سیکھا ہے۔
ماضی کی سیاسی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ کتنی مرتبہ دفاعی اور خفیہ اداروں نے انہیں سیاسی میدان میں صرف اس لئے اتارا کہ وہ پی پی پی کے حریف ثابت ہو سکیں۔ جب بے نظیر بھٹو 1988 میں وزیرِ اعظم بنیں تو وہ پنجاب کے وزیر ِ اعلیٰ تھے اور اُنھوں نے محترمہ کو زچ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ اُنھوں نے خفیہ اداروں اور غلام اسحاق خان کے مشیر اور میرے دوست جلال حیدر زیدی مرحوم اور روئیداد خان ، جو بقید ِ حیات ہیں، سے سیاسی ہدایات ہی نہیں لیں بلکہ ، جیسا کہ ایک الزام یہ ہے، 1990 کے انتخابات میں آئی ایس آئی سے رقم بھی وصول کی۔اگرہم خالدخواجہ ، جس نے جنوبی وزیرستان جانے کی حماقت کی اور وہاں اسے طالبان نے قیدی بنا لیا اور بعد میں حکیم الله محسود کے حکم پر گولی ماردی ، کی بات پر یقین کر لیں تو نواز شریف نے بن لادن سے مدینے میں ملاقاتیں کی تھیں، تاہم میری چھٹی حس کہتی ہے کہ اس معاملے کو فی الحال کریدنا مناسب نہیں ہوگا، چنانچہ اسے جانے دیں۔
آئی ایس آئی کے دبستان کا درس جن رویوں کا پرچار کرتا رہا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف اس اسکول کے بہترین طالب علم تھے ، تاہم وہ وقت اور تھا، اب پاکستان بدل چکا ہے لیکن ہم ابھی تک یہ توقع لگائے ہوئے ہیں کہ ان رویوں کا درس پانے والا ”طالب ِ علم“ اب یکایک کایا پلٹ کر پاکستان کا مہاتر محمد ثابت ہوگا اور ملک کو نئی بنیادوں پر استوار کردے گا۔ ہم نہ صرف اپنے عقائد بلکہ اپنے اوہام و التباسات اپنانے میں بھی آزاد ہیں، تاہم ظفر ہلالی کی تشبیہ بہت موزوں ہے․․․”اگر ایک مرتبہ پڈنگ ’بیٹھ ‘ جائے تو کوئی باورچی بھی اسے نہیں اُٹھا سکتا“۔ ہمارے ہاں بھی یہی معاملہ درپیش ہے کہ ہمارے موجودہ حکمران ایک پڈنگ کی طرح بنتے وقت بیٹھ گئے ہیں ، اب ان کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا، چنانچہ ان سے کسی اور اقدام کی توقع عبث ہے۔ گزشتہ دو ادوار کی مثال سامنے ہے لیکن بہت سے لوگ ابھی بھی یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ان کی ترجیحات بدل جائیں گی۔ تاہم اب رجائیت پسندوں کے چہروں پر مایوسی کی لکیریں گہری ہوتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ زرداری حکومت نے بھی اتنی جلدی قوم کو مایوس نہیں کیا تھا جتنی جلدی موجودہ حکومت نے کر دیا ہے۔
پاکستان کے عظیم لوگوں کا کیا کیا جائے؟ شیخ رشید نے ٹی وی پر یہ بات کی تھی کہ اگر لوگوں نے دو مرتبہ آزمانے کے بعد اس حکومت کو تیسری مدت کے لئے بھی بھاری اکثریت دے دی ہے تو پھر کیا ہو سکتا ہے؟شیخ صاحب نے اچھا سوال اٹھایاہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں سیاسی فکر انحطاط پذیر ہے۔ کسی حد تک پاکستان کا سیاسی نقشہ واضح ہے۔ ایم کیو ایم ہمیشہ سے ہی دوشہروں کی جماعت رہی ہے ، پی پی پی بھی ”سفر “ کرتے کرتے ایک صوبائی جماعت بن چکی ہے۔ اس کے پاس پنجاب اور خیبر پختونخوا میں قدم رکھنا دشوار ہے۔ جہاں تک مذہبی جماعتوں کا تعلق ہے توان کا کام محض شور و غل مچانا اور پاکستان کو فکری تنزلی کی طرف دھکیلنا ہے۔ جب پی ٹی آئی کی بات کریں تو ایسا لگتا ہے کہ اسے پاکستان کی تاریخ کا شعور نہ ہونے کے برابر ہے ، تاہم اسد عمر جب میں نے ایک ٹاک شو میں سنا تو وہ مجھے معقول اور باشعور شخص دکھائی دئیے، لیکن جہاں تک پی ٹی آئی کی دیگر ٹیم کا تعلق ہے تو صحرا میں قیام کرنے والے قبائل کا علم بھی شاید ان سے زیادہ ہوگا۔
اس سیاسی خلا میں تین قوتیں موجود ہیں… فوج، طالبان اور موجودہ حکمران۔ اب ہم عوام کے پاس صرف ایک جائے انتخاب ہے کہ ہم نواز شریف کی جماعت کو ووٹ دیں۔ میں ایک مرتبہ پھر نادر حسن کاحوالہ دیتاہوں۔ وہ لکھتے ہیں…”زندگی ایک شاہراہ، بلکہ ایک موٹر وے اور اس میں ادھر اُدھر انڈر پاس اور اوور ہیڈ برج ہیں۔“1970 میں ہمارے سامنے تین قوتیں ہوتی تھیں، فوج، عوامی لیگ اور پی پی پی۔ اس وقت پاکستان انہی کے درمیان پھنساہوا تھا، یہی صورت ِ حال آج بھی درپیش ہے۔ صرف فرق یہ ہے کہ 1970 میں بھٹو کا ایک ایجنڈا تھا، جبکہ نواز شریف کا ایسا کوئی ایجنڈا نہیں ہے اور یہ اچھی بات ہے مگر ان کے مخالفین یہ کہتے ہیں کہ نواز شریف کے پاس ماضی کی ایسی کوئی سند نہیں ہے جس کے حوالے سے ہم کہہ سکیں کہ وہ موجود مسائل سے عہد برآ ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ذرا کابینہ کی میٹنگ میں موجود چہروں کو غور سے دیکھیں… یہ چہرے حیران نہیں کھوکھلے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ہے ہمارا آج کا سب سے بڑا مسئلہ۔ ذرا افغانستان سے امریکیوں کو جا لینے دیں، بس ایک سال انتظار کریں ، وہاں طالبان کی حکومت ہو گی اور ہمارے ہاں وہ لوگ حکمران ہوں گے جن کے پاس نہ قوت ِ عمل ہے اور نہ قوت ِ فیصلہ۔
جہاں نئی طرز ِ فکر اورجدت پسندی کا تعلق ہے تو اس سے ہم کافی عرصہ پہلے نہایت کامیابی سے جان چھڑا چکے ہیں۔ اس کا ثبوت پختون اور پنجابی طالبان کی روز افزوں ترقی اور پیش قدمی ہے۔ آج ہمارے پاس کوئی نئی فکر یا نئے چہرے نہیں ہیں جو ملک کی قیادت سنبھال سکیں۔ جن افراد کو ہم منتخب کرنے پر مجبور ہیں، ان کو تو کوئی نیم شریف شخص بھی اپنے پاس نہ پھٹکنے دے۔ میرے دوست سید غوث علی شاہ ناراض ہیں کہ نواز شریف نے اُنہیں صدارتی منصب پر فائز کیے جانے کے لائق نہیں سمجھا۔ اب شور کیوں مچاتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ شاہ صاحب نجی محفلوں میں کیا کہا کرتے تھے… ’یہ دونوں بھائی (شریف برادران) متضاد خوبیاں رکھتے ہیں لیکن یہ دونوں ایک دوسرے کے لئے ناگزیر ہیں۔ یہ ہمارے لئے اوپر والے کا خاص تحفہ ہیں اور قدرت نے ان سے کوئی خاص کام لینا ہے۔“ شاہ صاحب کو اندازہ ہوچکا ہوگا کہ ان سے کیا کام لینا مقصود تھا۔ ایک بات مان لیں کہ خوشامدی رویوں پر صرف پنجاب کی ہی اجارہ داری نہیں ہے۔ میں نے گزشتہ دنوں یو ٹیوب پر فاطمہ بھٹو کو سنا ۔ وہ کسی ادبی کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں۔ ان کی طرز ِ گفتار اوردلائل بہت خوب تھے۔ میرا خیال ہے کہ وہ پی پی پی کے پاس بہترین رہنما ہے لیکن کیا وہ زرداری اور فریال تالپور کے ہوتے ہوئے آگے آسکتی ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *