رومانوی تبدیلی

 

الیگزنڈرا آلٹر

مینسوٹا سے تعلق رکھنے والی ہیلن ہوئینگ خراب معاشی حالات کا شکار تھیں اور ان کی کوئی دوست بھی نہ تھی۔ انہوں نے رومانس ناول کو اپنا لیا اور ایسی کہانیاں پڑھیں جن سے ان کے جذبات کا اظہار بھی ہوتا اور کہانی ایک اچھے اختتام پر بھی منتج ہو جاتی۔ ان کا کہنا ہے: ''میں نے  رومانوی ناول نویسی کو  خالص اور شفاف دوا جیسا پایا'' ۔ سالوں بعد اپنی تہائی کی عمر میں جب وہ دو بچوں کی ماں تھیں، مسز ہوئینگ نےآٹزم  پر تحقیق شروع کی اور محسوس کیا کہ وہ ایسی صورتحال میں
ہیں جس میں ایک آدمی کے لیے آسانی سے گفتگو کرنا ، جذباتی تحریریں پڑنا ، آفس جاب کرنا، اورنئے لوگوں سے ملنا آسان نہیں ہوتا۔ انہوں نے توجہ پھر سے رومانس کی طرف موڑ لی  لیکن اس بار انہوں نے کہانی خود لکھی۔ ابھی تک رومانس کے چاہنے والوں نے مسز ہوئینگ کے نئے آنے والے ناول “The Kiss Quotient,”
<https://www.nytimes.com/interactive/2018/books/review/summer-reading-romance.html>
کو ہاتھوں ہاتھ لیا ہے ۔  یہ ایک کثیرالثقافتی لو سٹوری ہے اور ایک ایسی خاتون سے متعلق ہے جو آٹزم کا شکار ہے اور ڈیٹنگ اور جنسی تعلقات جیسے معاملات میں پڑنے سے گھبراہٹ جیسے مسائل کا شکار ہے۔  قارئین نے  Goodreads ویب سائٹ پر 7000  سے زیادہ مثبت  ریٹنگز اس ناول کو دیے ہیں ۔ کتاب جون میں شائع ہوئی اور اب اس کی چوتھی پرنٹنگ شروع ہو چکی ہے۔ ناول میں رومانس کے تنوع کی غیر موجودگی کے باوجود یہ کامیابی  حیران کن اور غیر متوقع ہے۔ عام طور پر پبلشرز صرف ایسے رومانس ناولز کی اشاعت کے لیے راضی ہوتے ہیں جن میں کردار سفید فارم ہوں، اور اس میں ہم جنس پرست مرد، خواتین،  بائی سیکشول جوڑے  یا ٹرانس جینڈر اہم کردار نہ ہوں ۔ اسی طرح معذور ہیروئن کو بھی پسندیدہ نگاہوں سے نہیں دیکھا جاتا۔  اسی طرح وقت کے ساتھ رومانس  میں بھی نت نئے سٹائل اپنائے جاتے ہیں جیسا کہ ملٹری رومانس، چڑیلوں والا رومانس، وئیر ولف رومانس، cowboy رومانس، ٹائم ٹریول رومانس، قذاق ارو وائیکنگ رومانس،  وغیرہ اور اس سب کے دوران کرداروں کو اخلاقیات، کلچر اور دوسرے اہم معاملات کو بہت کم نظر میں رکھنے کا موقع ملتا ہے۔ ''پبلشرز  سفید فارم  مصنفین کے  علاوہ کسی کی کتابیں شائع نہیں کر رہے  اور سیاہ فارم لوگون کو بہت کم سپیس دیا جاتا ہے۔ ' رومانوی رائٹر ریبیکا ویدرسپون نے کہا جنہوں نے اپنے کچھ ناول چھوٹی پریس سے شائع کیے ہیں اور دوسرے  خود شائع کیے ہیں  جن میں ''Sated''  شامل ہے  جو ایک کالی  ہیروئن اور معذور  بائی سیکشول کورین ہیرو شامل ہیں۔ یہ یقینی طور پر برابر ی کا سلوک نہیں ہے۔ یہ نظارہ آہستہ آہستہ تبدیل ہو رہا ہے، کئی نئے رائٹرز  سامنے لائے جا رہے ہیں  اور رومانس کے شعبہ میں اپنی تحریری صلاحیتیں منوا رہے ہیں ۔ پبلشرز ایسی لو سٹوریز پر رسک لینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں جن میں  تھوڑا تنوع اور مختلف تجربات  شامل ہوں۔  Forever Yours  جو کہ گرینڈ سنٹرل  کا ایک امپرنٹ ہے ، سے کیریلیا سٹیٹز واٹرز کی کتابیں شائع ہوتی ہیں جو ہم جنس خواتین کرداروں کے رومانس پر لکھتی ہیں۔ عظمیٰ جلال الدین کا نیا ناول  “Ayesha at Last,” کینیڈا میں مہاجر مسلم کمیونٹی  میں سیٹ کیا گیا ہے اور باتونی مسلمان ہیروئن کو ایک قدامت پرست مسلم مرد کی محبت میں گرتا ہوا دکھایا جاتا ہے ۔ یہ شخص لیزی بینٹ کے ڈارسی جیسا کردار رکھتا ہے۔

علیشارائے اور سونالی دیو نے اس سٹائل کو لو سٹوریز کے ساتھ  وسیع کر دیا ہے، جس میں انڈین امریکن  ہیرو کے کردار کو شامل کیا گیا ہے ۔ پریسلا اولیورس جنہیں کینسنگٹن کی طرف سے شائع کیا جاتا ہے لاطینی ہیرو اور ہیروئن کے رومانس کے بارے میں لکھتی ہیں۔

ینی لن نے ہارلیکوئین کے ساتھ تاریخی رومانس شائع کیے ہیں جو کہ چائنہ میں  ٹانگ خاندان کے دور میں چلے۔ اور منڈی ہنگ جو کہ اپنے  قلمی نام روبی لانگ کے نام سے لکھ رہی ہیں، کے پاس معاصر رومانس کی ایک سیریز ہے جس میں ایشین امریکن فیمیل ڈاکٹراز کو گروپ پریکٹس میں دیکھا گیا ہے۔ کیلف کے کلور سٹی میں ripped bodiceنامی رومانس بک سٹور کی مالکہ لی کوچ کہتی  ہیں ''قارئین وہ کتابیں چاہتے ہیں جو اس دنیا کی عکاسی کریں جس میں وہ رہتے ہیں،  اور وہ صرف اس چھوٹے  قصبے جہاں ہر دوسرا آدمی سفید ہو  کے متعلق کتابوں پر مطمئن نہیں ہوں گے پچھلے سال ان کے سٹور کے 10 ٹاپ سیلنگ ناول  غیر سفید فارام رائٹرز کی طرف سے لکھے گئے تھے"،
مسز کوچ نے کہا۔ ترقی ابھی تک بہت دھیمی ہے۔پچھلے دو سال سے مسز کوچ اور ان کی بہن بی نے  اہم رومانوی پبلشرز  کی تعداد پر تحقیق کی ہے  اور معلوم ہوا ہے کہ 2017 میں  20 بڑے پریسرز کی طرف سے شائع کیے گئے 3752 رومانس ناولوں میں سے صرف 6 فیصد نان وائٹ مصنفین نے لکھے تھے۔ رومانوی پبلشرز کہتے ہیں کہ وہ مزید متنوع کردار اور سیٹنگ والی کتابوں کو شائع کرنا چاہتے ہیں، لیکن بحث یہ ہے کہ خطے میں یہ ایک چیلنج ہے کیوں کہ پیشکشوں کی اکثریت سفید مصنفین کی طرف سے آتی ہے۔ اس سٹائل کی سب سے بڑی تنظیم جس کا نام  "امریکہ کے رومانوی رائٹر " ہے،  جس کے تقریبا 10000 ارکان ہیں، نے ایک سروے کے ذریعے معلوم کیا کہ اس کے اپنے 86 فیصد ممبران سفید فام ہیں ۔ گروپ کو ریتا ایوارڈ پر بھی سخت پڑتال کے عمل سے گزرنا پڑا۔ یہ ایوارڈ 36 سال سے کسی افریقن امریکن رائٹر کو نہیں ملا ہے۔

فائنلسٹ حضرات میں بھی سیاہ فام مصنفین کی تعداد محض 1 فیصد تک ہی پہنچ پاتی ہے۔ سروے کے اس نتیجہ پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے آر ڈبلیو اے کے صدر ڈی ڈیوس نے کہا: ''یہ آنکھیں کھولنے کے لیے  کافی تھا ابھی بہت سا کام کرنا باقیہے''۔ گروپ کی اس ماہ  آنے والی ڈینور  میں  سالانہ میٹنگ میں اس معاملے پر بہت بحث ہونے والی ہے، جہاں تقریبا 2000 رومانوی رائٹر اکٹھے ہوں گے۔  کانفرنس میں انڈسٹری لیڈر ایک ڈائورسٹی سمٹ نامی پروگرام میں خصوصی دعوت پر شرکت کریں گے اور اس خاص طرز تحریر میں بہتری لانے کے طریقوں  پر روشنی ڈالیں گے۔ اور افریقن امریکن رومانوی ناولسٹ برینڈا جیکسن   ایک ورکشاپ میں حصہ لیں گی جو مختلف نسل، ثقافت، عمر اور صلاحیتوں کے حامل رائٹرز کے لیے منعقد کی جائے گی۔ دو بڑے رومانوی پبلشرز  ایون اور ہالیکوئن  نے  مزید متنوع کتابیں شائع کرنے کے لیے معمولی اقدام کیے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کی فہرستیں سفید فارم مصنفین  سے بھری پڑی ہیں۔ رپڈ بوڈائس کے مطابق ایون کی لسٹ  میں اقلیتی رائٹرز کی طرف سے لکھی گئی کتابیں 4 فیصد ہیں اورہارلیکوئین کی فہرست میں 7 فیصد کے قریب ہیں۔ ایک ایوون کے نمائندے نےدیکھا  کہ یہ کمپنی الیسا کولی، ٹریسی لیوزے، میا سوسا، نیشا شرما، کیٹ سبستین اور لارا براؤن کی کتابیں شائع  کرتی ہے، یہ تمام مصنف جو متنوع جوڑوں کے بارے میں لکھتے ہیں۔ ایوون کی ایک مصنف سٹیسی ابرام  ہیں
جنہوں نے افریقن امریکن کرداروں کے ساتھ رومانوی ناول  قلمی نام سیلینا منٹگومری کے ساتھ شائع کیے ہیں ، حال ہی میں جارجیا کی گورنر کے طور پر نامزد ہو گئی ہیں۔ ''کچھ پبلشرز خاص گروہوں سے کتابیں حاصل کرنے میں کافی دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں،  لیکن وہاں ابھی تک  کچھ  رکاوٹیں ہیں،''  مسز کولی جنہوں نے افریقن امریکن بڑے کرداروں کے ساتھ سول  وارکے دوران رومانوی مجموعے شائع
کیے نے کہا۔ ''مسئلے کا ایک جزو یہ ہے کہ کچھ پبلشرز کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے ہمیں مزید تنوع چاہیے، ہمارے پاس صرف سفید فارم مصنف ہیں جو زیادہ تنوع  کے ساتھ رومانس لکھتے ہیں۔'' جبکہ اقلیتی گروہوں سے مصنفین کی بڑھتی ہوئی تعداد کو  اب اشاعت کے مواقع مل رہے ہیں  بہت سے مصنفین اب بھی  کہتے ہیں کہ انہیں اپنے ہم منصب سفید فارم مصنفین کے مقابلہ میں کسی ایجنٹ کے ساتھ معاہدہ کرنے، پبلشر
ڈھونڈنے، ریویو کوریج لینے اور بک سٹورز کو  آمادہ کرنے  میں بہت مشکلات پیش آتی ہیں۔ بِرک اور مارٹر سٹورز جن میں الماریوں میں محود جگہ ہوتی ہے ان میں رومانس ناولز اور لو سٹوریز  ایک ایسے کونے میں ٹھونس دی جاتی ہیں جہاں عام رومانس ریڈر کی نظر ہی نہیں پہنچتی۔ ان ناولز میں افریقن امریکن  لٹریچر اور اربن فکشن وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ بیورلی جینکن ایک ماہر افریقن امریکن رومانوی ناولسٹ جنہوں نے  1990 میں ایون نامی ناول  کے ساتھ تاریخی رومانس شائع کرنا شروع  کیا، نے کہا کہ متنوع رومانس کی ایک بڑی تعداد لکھی جاتی ہے، لیکن اس  کو اہم ادارے بہت کم قبول کرتے ہیں۔ ''سینکڑوں سیاہ فارم  خواتین ہیں جو رومانس کے بارے میں لکھتی ہیں'' انہوں نے کہا۔ ''یہ ایشو ان کے کام اس لیے شائع کرتا ہے تا کہ وہ عوام کے سامنے آ سکیں۔ ''۔

مین سٹریم پر بہت کم مواقع  کی وجہ سے بہت سے رومانس رائٹرز نے جن کی کتابیں متنوع کرداروں کے ساتھ آتی ہیں، نے چھوٹے اشاعت خانے، ڈیجیٹل اشاعت یا پھر سیلف پبلشنگ کو ترجیح دینے کی راہ اپنائی ہے۔ ۔ بیسٹ سیلنگ رومانوی رائٹر کورٹنی میلان جو اندرون ذات  ،ہم جنس پرست مرد جوڑوں، ٹرانسجینڈرز  اور ہر جنسی کرداروں کے بارے میں لکھتی ہیں نے سات سال قبل  ہارلیکوئین کا ایک پبلشر  ترک کر کے خود اشاعت شروع  کی کیوں کہ وہ اپنے کام  اور کرداروں پر زیادہ تخلیقی قابو رکھنا چاہتی تھیں۔ انہوں نے  بتایا کہ انہوں نے اپنے آپ سے ابھی تک دس لاکھ سے زائد کتابیں بیچی ہیں۔ ڈیلانی ڈائمنڈ جنہوں نے 2011 میں افریقن امریکن کرداروں کے ساتھ  رومانوی ناولوں کی خود اشاعت شروع کی، نے اپنی کتابوں کی370000 کے قریب کاپیاں بیچیں، اور اپنے پریسر  گارڈن ایوینیو پریس کی تخلیق کی۔انہوں نے حال ہی میں دوسرے مصنفین کی طرف سے کثیر الثقافتی رومانوی ناول شائع کیے ہیں۔ انہوں نے کہا، ''پبلشنگ سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے سوچا کہ کالا رومانس نہیں بکے گا جس سے میرا دماغ گھوم گیا''۔ یہ نظریہ  زیادہ مقبول رہا کیوں کہ ایک وجہ تو یہ تھی کہ کلرڈ مصنفین کی بہت کم کتابیں شائع ہوئیں اس لیے وہ مارکیٹ میں اپنا لوہا نہ منوا پائے۔ بڑے ریٹیلر جن میں ٹارگٹ اور وال مارٹ شامل ہیں،  وہ اکثر کتاب لینے سے قبل مصنف کی سابقہ کتابوں کی کامیابی پر نظر رکھتے ہیں۔ وہ نئے رائٹرز کی کتابوں سے رسک نہیں لینا چاہتے۔ اس طرح جن کتابوں کے نہ بکنے کا خطرہ ہوتا ہے ریٹیلر ایسی کتابوں سے دور رہتے ہیں اور اس طرح یہ کتابیں بکتی نہیں ہیں۔ یہی سلسلہ دہرایا جاتا ہے۔ لیکن کچھ   لوگوں نے اس سے ہٹ کر کارکردگی دکھائی جن میں نالنی سنگھ قابل ذکر ہیں جن کے ناولز کی اب تک تین ملین کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں اس طرح یاسمین گلیوری جن کے تازہ ترین ناول  “The Wedding Date”  نے حیران کن  کامیابی سمیٹی ۔ لیکن بیسٹ سیلر کی فہرست میں  رومانوی ناولوں کی اکثریت  سفید  اور ہیٹروسیکشول مصنفین کی کتابوں کی ہے۔ سنڈی ہوانگ جو برکلے کی ایڈیٹوریل ڈائریکٹر ہیں  نے کہا: ''ہم سنتے ہیں کہ قارئین کو مزید تنوع چاہیے، لیکن ابھی تک معاملہ یہ ہے کہ معروف ترین کتابیں تنوع سے خالی  ہیں''، آخر کار یہ تبدیل ہو رہا ہے۔ جب مسز ہوئینگ  کے ایجنٹ نے  “The Kiss Quotient” مارکیٹ میں رکھا تو 5 پبلشرز  نے پیشکشیں پیش کیں۔ مسز ہوئینگ نے بیرکلے کے ساتھ تین کتابوں کی  ڈیل سائن کی۔  جس نے   جون میں ایک ناول کی پہلی اشاعت 10000 کاپیوں  کے ساتھ کی۔ مسز ہوئینگ نے اپنی  آٹسٹ  ہیروئن کو  اپنی بہت  سی خصلتیں دیں   جیسا کہ ان کا ریاضی ، حساب کتاب ارو لاجک سے پیار، پریشانی میں انگلیاں چٹکانے کی عادت،  اور اپنے آپ کو قبول کرنے میں مشکلات ۔ انہیں قارئین کے شاندار ردعمل نے بہت  حیران کیا، خاص طور پر ایسے ریڈر جو اس غیر رسمی لو سٹوری سے اپنے آپ کو متعلق سمجھتے تھے۔ انہوں نے کہا ''میں ایک آٹزم کا شکار  عورت کا نقطہ نظر پیش کرنا چاہتی تھی، کیوں کہ مجھے نہیں لگتا کہ آپ یہ نقطہ نظر زیادہ تر دیکھتے ہیں''۔ ''آپ رومانس کے ساتھ ایک اثر کیوں  پیدا نہیں کر سکتے؟ لگتا ہے کہ ایسا کرنے کے لیے یہ  بہترین جگہ ہے۔''

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *