کراچی آپریشن ، نازک تقاضے

OLYMPUS DIGITAL CAMERAناقدین کا کہنا تھا، نواز شریف تیسری بار وزیرِ اعظم بنے ہیں تو ان میں (اور انکی حکومت میں) وہ تحرک نظر نہیں آتا جو ان کے گزشتہ دونوں ادوار کا طرّہ امتیاز تھا۔ تب ادھر وہ پرائم منسٹر ہاوٴس میں داخل ہوتے، ادھر فوری فیصلوں اور ان پر برق رفتار عملدرآمد کے ساتھ دورو نزدیک گھنٹیاں بجنے لگتیں کہ کوئی آیا ہے۔ سچی بات ہے کہ کبھی کبھی ہمیں بھی یہ احساس آلیتا ہے کہ میاں صاحب اور ان کی حکومت اپنے روایتی انداز کے ساتھ سرگرم کیوں نہیں ہوئی؟ آپ اسے ہماری بیتابی و بیقراری بھی کہہ سکتے ہیں اور جلد بازی بھی کہ ستم ظریف بڑے جلد باز ہوتے ہیں۔شاید اس لئے بھی کہ ہم ساحل پر کھڑے ہیں اور طوفان کی تندوتیزی اور لہروں کی اس گھمبیرتا کا صحیح اندازہ نہیں کر پا رہے، سیلابِ بلاخیز سے لڑنے والوں کو جس کا سامنا ہے۔
نواز شریف حکومت نے ایک بار پھر اپنے وجود کا بھرپور احساس دلایا، کراچی کے مسئلے کو وہ کتنی سنجیدگی سے لے رہے ہیں اس کا اظہار یوں ہوا کہ وہ اپنی کابینہ کے ساتھ کراچی پہنچے۔ وفاقی وزارتِ داخلہ اور دیگر متعلقہ ادارے اس سے پہلے ہی ضروری ہوم ورک کر چکے تھے اس کے باوجود انہوں نے کراچی کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا ، ان کی سننا اور اپنی سنانا ضروری سمجھا۔ مقامی سطح پر ایک ”آل پارٹیز کانفرنس “اسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا جس میں شرکا نے کھل کر اظہارِ خیال کیا۔ پاکستان تحریکِ انصاف بھی اب کراچی میں اپنے اسٹیکس کا دعویٰ رکھتی ہے لیکن وہ اس اجلاس میں موجود نہ تھی۔ جنابِ عارف علوی اسے کمیونیکیشن میں گڑبڑ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں کہ بروقت اطلاع نہ ہونے کے باعث وہ اس روز شہر میں موجود نہ تھے۔ پہلے ہی روز ایک بدمزگی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر جناب فاروق ستار کی شرکت کے مسئلے پر پیدا ہو گئی۔ ایم کیو ایم کراچی میں سب سے بڑی پولیٹیکل اسٹیک ہولڈر ہے چنانچہ جناب فاروق ستار کو کراچی کے مسئلے پر ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شرکت کی خصوصی دعوت دے دی گئی لیکن اجلاس سے ایک روز قبل انہیں یہ پیشکش کی گئی کہ وہ کابینہ اجلاس میں شرکت کی بجائے وزیرِ اعظم سے ون آن ون ملاقات کرلیں۔ ایم کیو ایم اس پر آمادہ نہ ہوئی۔ ترجمان کے بقول انہیں جناب وزیرِ اعظم کے ساتھ فوٹو سیشن کا کوئی شوق نہیں۔ وہ تو کابینہ کے اجلاس میں کراچی کے مسائل اور ان کے مجوزہ حل کے حوالے سے مفصل پریزنٹیشن دینا چاہتے تھے۔ کابینہ کے اجلاس میں شرکت کی دعوت عین آخری موقع پر کیوں واپس لے لی گئی؟ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب دعوت دینے کا فیصلہ کیا گیا، گورنر عشرت العباد ملک سے باہر تھے۔ اب جبکہ وہ واپس آچکے تھے ایم کیو ایم کی نمائندگی کے لئے فاروق ستار کی ضرورت نہیں تھی۔ ایک اور ذریعے کے مطابق یہ پیپلزپارٹی تھی جو فاروق ستار کی شرکت کے آڑے آئی کہ اس کے بقول کراچی کے اسٹیک ہولڈرز تو اور بھی ہیں، پھر تنہا ایم کیو ایم کے ساتھ یہ ترجیحی سلوک کیوں؟ ایک دور کی کوڑی یہ تھی کہ حساس ادارے ایم کیو ایم کی موجودگی میں کراچی کے زمینی حقائق بیان کرنے میں کمفرٹیبل محسوس نہ کرتے۔ ایم کیو ایم نے اس پر احتجاج تو کیا لیکن اسے عزت کا مسئلہ نہ بنایا اور حیدر عباس رضوی کو آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کے لئے بھیج دیا۔ شام کو تاجروں اور صنعت کاروں نے اپنا دل چیر کر وزیرِاعظم کے سامنے رکھ دیا۔ ہر ایک کے پاس ایک المیہ کہانی تھی۔ ایک دلچسپ کہانی …ایک موبائل فون سے کال موصول ہوئی جس میں 25 لاکھ روپے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ جنابِ گورنر اور وزیرِ اعلیٰ کے نوٹس میں یہ بات لائی گئی۔ اس میں موبائل فون نمبر کا حوالہ بھی تھا۔ دو روز بعد اسی نمبر سے ایک اور کال آئی۔ اب 25 لاکھ کی بجائے 50 لاکھ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ گورنر اور وزیرِ اعلیٰ کے نوٹس میں یہ بات لانے کا صلہ تھا؟ کالم نگاروں، تجزیہ کاروں اور مدیروں کے ساتھ مفصل بریفنگ میں بھی کئی مفید تجاویز سامنے آئیں۔ اس کے بعد کابینہ کا اجلاس تھا جس میں امن و امان کے ذمہ دار ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ کراچی میں دہشت گردوں، بھتہ خوروں اور اغواکاروں کے خلاف آپریشن رینجرز کے سپرد کرنے کا فیصلہ ہوا جس میں پولیس اس کی معاونت کرے گی۔ کہا جاتا ہے کہ ڈی جی رینجرز نے مطلوبہ نتائج کے حصول کے لئے دو شرائط پیش کی تھیں یہ کہ رینجرز کو پولیس کے اختیارات دیے جائیں۔ گرفتاری کے ساتھ پراسیکیوشن بھی اس کے سپرد ہو اور دوسرے یہ کہ اس میں کسی طرف سے کوئی مداخلت نہ ہو۔ قانون شکن اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی پر سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کے خلاف کاروائی کا الزام نہ دیں کہ کراچی میں جرم اور سیاست باہم گڈ مڈ ہو چکے ہیں۔ کراچی میں تحریکِ انصاف ایک ابھرتی ہوئی طاقت نظر آئی تو بعض جرائم پیشہ اس کی چھتری تلے بھی چلے آئے۔
رینجرز گزشتہ بیس، بائیس سال سے کراچی میں موجود ہے۔ اس دوران اس کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ اس نے فری ہینڈ کا مطالبہ کیا اور اس کے ہاتھ کھول بھی دیے گئے ہیں لیکن بندھے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ بھی اس کے بعض کارنامے منظرِ عام پر آتے رہے ہیں۔ ان میں ایک نہتے نوجوان سرفراز احمد کا کھلی سڑک پر قتل (جس کی ویڈیو ایک دنیا نے ٹی وی چینلز پر دیکھی) اور حالیہ رمضان المبارک میں ایک ٹیکسی ڈرائیورکو گلستانِ جوہر میں اس جرم میں گولیوں کا نشانہ بنا دیا گیا کہ اس نے گاڑی روکنے کی بجائے ریورس میں ڈال لی تھی۔ مرید عباس اپنے دوسالہ بیٹے کو گود میں بٹھائے افطاری کے لئے فروٹ لینے گھر سے نکلا تھا۔رینجرز کو شک گزرا تھا تو گاڑی کے ٹائر پنکچر کر کے بھی اسے قابو کیا جا سکتا تھا۔ اب رینجرز کو پولیس کے اختیارات دے دیئے گئے ہیں تو یہ سوال اپنی جگہ کہ پولیس تو اس کام میں تربیت یافتہ ہوتی ہے۔ ضروری تربیت کے بغیر رینجرزیہ کردار کما حقہ ادا کر سکے گی؟پولیس کا کردار ثانوی ہو گا تو وہ اس کی ادائیگی میں کتنی دل جمعی سے کام کرے گی؟ اور کس خوشدلی سے معاونت کا فریضہ انجام دے پائے گی؟ ادھر پولیس کا معاملہ یہ ہے کہ گزشتہ دس سال میں اس میں بھرتیاں سیاسی بنیادوں پر ہوئیں۔ جو پارٹی کا جتنا وفادار تھا اسے اتنا ہی اہم عہدہ مل گیا۔ انسپکٹر سے لیکر نیچے تک بھرتیوں کیلئے میرٹ سیاسی وفاداری تھی۔ ایسے میں کسی فیصلہ کن کارروائی کے لئے اس پر اعتماد کیسے کیا جاسکتا ہے؟ عمررسیدہ قائم علی شاہ اس مہم کے کپتان قرار پائے ہیں۔ گزشتہ پانچ سال میں ان کی کارگزاری سب کے سامنے ہے ۔ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ اصل حکومت تو منہ بولا بھائی چلاتا ہے۔ آپریشن کے کارِ خیر کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے مابین اعتماد کا رشتہ بھی ضروری ہے۔ کابینہ کے اجلاس کے فوراً بعد ایک ناخوشگوار صورتحال، ذوالفقار چیمہ کو آئی جی سندھ بنانے کی خبر کے ساتھ پیدا ہو گئی جس پر یقین کرنے کے لئے یہی کافی تھا کہ اسے سرکاری ٹی وی نے نشر کیا تھا جس سے کسی غیرذمہ داری کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔ یہ خبر جس نے بھی سنی ، سکھ کا سانس لیا ۔ ”اس کا مطلب ہے کہ حکومت کراچی میں امن و امان کے لئے سنجیدہ ہے“۔ ادھر یہ خبر آئی ادھر حکومت سندھ کے ترجمان شرجیل میمن کا جارحانہ ردِ عمل سامنے آگیا۔ بے اعتباری و بے اعتمادی اور پولیٹیکل پوائنٹ سکورنگ کی اس خواہش کے ساتھ کسی خیر کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز صورتحال کی سنگینی اور مسئلے کی حساسیت کا احساس کریں اور میڈیا کو اعتماد میں لے کر آپریشن کی کوریج کے حوالے سے حدود کا تعین بھی کر دیا جائے اور سب سے اہم بات یہ کہ رینجرز کو فری ہینڈ مل گیا ہے، اس کے ہاتھ کھول دئیے گئے ہیں تو وہ زیادہ احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے تاکہ انسانی حقوق کے نام پر کسی کو کوئی نیا کھیل کھیلنے کا موقع نہ ملے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *