نواز شریف کا تیسرا جنم

پاکستان میں جہاں ایک وزیر اعظم کے لیے ایک مہلت بھی ناممکن ہوتی ہے ، نواز شریف تیسری مہلت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپنی تیسری زندگی میں وہ گیم کے اصول  ہمیشہ کے لیے بدلنا چاہتے ہیں ۔ ان کا اعتماد  2007 میں ان کی واپسی کے عمل میں مضمر ہے جب وہ ایسی حالت سے واپس آئے کہ اس کا کوئی امکان نہیں تھا اور پھر آ کر وہ اگلے دور میں وزیر اعظم بھی بن گئے۔ ایک بار رسم بدلنے کے بعد اب وہ راستہ چلنے کے اصول بھی بدلنا چاہتے ہیں۔ تمام  عقل مند بوڑھے تماشائی اس ڈرامہ سے حرف بہ حرف واقف ہیں۔ لیکن پھر بھی ڈرامہ کا جادو ابھی باقی ہے  کیونکہ ہر بار کردار نئے ہوتے ہیں  اور ہر بار کردار پہلی بار ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ ہر عملے کی اپنی طاقت اور کمزوری ہوتی ہے۔ کردار بدلنے کی وجہ سے نئے نئے مواقع سامنے آتے ہیں اور کاسٹیوم بھی بدلتے ہیں ۔ نئے سیناریو بھی سامنے آتے ہیں جس کیو جہ یہ ہے کہ ایکٹرز کو سٹیج کی تبدیلی کے دوران زیادہ آزاددی دی جاتی ہے۔ اس بار ہیرو نواز شریف 3 ہے اور عمران خان 2  نواز شریف 1 کی طرح کردار نبھا رہے ہیں۔  کئی بار خود کو نقصان پہنچانے کے باوجود نواز نے اپنے سیاسی کیریرکو خاتمہ سے بچائے رکھا ہے۔ ایک دھتکارے ہوئے فرشتے کی طرح  لیکن بہر حال وہ پاکستانی سیاست پر اب بھی اپنا اثر دکھا رہے ہیں۔ عمران خان نے پاکستانی سیاست کو واپس 90ء کی دھائی میں دھکیلنے مین کامیابی حاصل کی ہے۔ لیکن وہ نواز 1 کی طرح بننے میں مکمل طور پر پر اعتماد نہیں ہیں۔
*شریف کے مخالفین انہین سمجھنے میں ناکام رہے ہیں جس کی وجہ  یہ ہے کہ وہ ان کی جڑوں تک نہیں پہنچ پاتے۔ جڑیں ایک شخص کے بارے میں بہت سی معلومات دیتی ہیں۔ لیکن کئی بار جڑیں انسان کو دھوکہ بھی دے جاتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اپنی جڑیں بدل کر ایک نئی شکل میں ابھر کر سامنے آ سکتا ہے۔ جو لوگ تبدیل نہیں ہوتے وہ اپنے ہی جسم کے بھوت بن کر رہ جاتے ہیں۔ جو زخمی ہوتے ہیں وہ کئی بار کسی کے لیے دوا کا کام بھی کر جاتے ہیں۔ بلکہ سچ یہ ہے کہ وہی سب سے بہتر دوا مہیا کرتے ہیں  بشرطیکہ وہ اپنی تکلیف کو برداشت کرنے کی ہمت رکھتے ہوں۔ اپنی تازہ ترین کتاب میں چوہدری شجاعت حسین نے نواز شریف کی جڑوں کا مذاق اڑایا ہے۔ چوہدری صاحب کہتے ہیں کہ نواز ایک کشمیری لڑکا تھا جو ہمارے دروازے پر الیکشن میں معاونت کی آفر لے کر آیا تھا۔ اس عجیب لڑکے کو یہ معلوم نہیں تھا کہ چوہدریوں کو کسی انویسٹر کی ضرورت نہیں پڑتی۔ شاید ان کا مقصد ضیا الحق کے قریب پہنچنا تھا۔ اس لڑکے کو چائے پلائے بغیر واپس بھیج دیا گیا تھا۔ لیکن ضیا الحق جو چوہدری خاندان کے لیڈر تھے نے اس نوجوان اور اس کے خاندان
میں دلچسپی دکھائی۔ ضیا اپنی جڑوں کے ساتھ زیادہ فخر محسوس نہیں کرتے تھے جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ایک ذراعت سے منسلک خاندان تھا جس کی جڑیں نوح علیہ السلام تک پہنچتی تھیں۔ وہ انڈسٹریلسٹ طبقہ سے جڑنا پسند کرتے تھے جنہیں بھٹو نے ظلم کا نشانہ بنا رکھا تھا اس لیے یہ طبقہ ضیا الحق کا اتحادی تھا۔  ایک سیاستدان کی حیثیت سے نواز 1 سوشل اور سوشو اکنامک گرووپوں جو بھٹو کے اقتدار میں واپسی سے خوفزدہ تھے،  کو اکٹھا کرنے کا ذریعہ بننے میں کامیاب رہے ۔انہوں نے کامیابی سے ٹرادیشنل ایلیٹ طبقہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جو پاکستان میں پہلے کبھی ممکن نہیں دکھائی دیا تھا۔ انہوں نے عوام کو پیپلز پارٹی سے دور کیا اور سینٹرل پنجاب کے علاقہ کو اسیٹیبلشمنٹ کا حمایتی بنا دیا۔ جب سے شریف نے پنجاب کا کنٹرول سنبھالا، یہ صوبہ مکمل طور پر کپیٹلسٹ کلاس کے ہاتھ میں رہا۔ لیکن ایلیٹ گروپس کے بیچ تقسیم دھندلی سی نظر آتی ہے کیونکہ ٹراڈیشنل ایلیٹ اور سیلری پرسنز کے بچے کیپٹلسٹ بن چکے ہیں۔ جب انہیں 1999 میں اقتدار سے علیحدہ کیا گیا تو نواز شریف پہلے ہی بہت ترقی کر چکے تھے۔ اب وہ صرف اینٹی بھٹو سیاستدان نہیں تھے  بلکہ کروڑوں شہریوں کے لیڈر بن چکے تھے  اور ایک مشہور سیاسی پارٹی کے سربراہ تھے۔ ایک مقبول سیاسی پارٹی بنا کر وہ اس قابل ہو چکے تھے کہ وہ منزل حاصل کر سکیں جو اب تک صرف ذوالفقار علی  بھٹو حاصل کر پائے تھے۔ 2007 میں جب نواز شریف آئے تو وہ ایک بدلے ہوئے سیاستدان تھے۔ ان کی شکل و صورت اور یہاں تک کہ الفاظ بھی بدل چکے تھے۔ اب وہ انتقامی غصہ اپنے اندر سے نکال چکے تھے ۔ پہلی بار انہوں نے بغیر کسی انتقامی سیاست کے الیکشن لڑا اور پنجاب میں ق لیگ کی طرف سے چھینا گیا غلبہ واپس لے لیا ۔ نواز شریف کے بر عکس چوہدریوں کو مشرف کی وجہ سے جو تھوڑا بہت مقام ملا تھا وہ اس سے بھی محروم ہو گئے۔ انہیں ایک بار پھر کشمیر ی لڑکے نے  شکست دے دی تھی باوجود اس کے کہ انہیں نواز شریف کے مقابلہ میں زیادہ سپورٹ حاصل تھی۔ نواز شریف نے میثاق جمہوریت پر کافی حد تک عمل کیا۔ 18 ویں ترمیم اور 7واں این ایف سی ایوارڈ اوردوسرے کئی قوانین لائے گئے۔ لیکن نواز 1 کی طرف سے نواز 2 کو پیچھے کھینچنے کا عمل جاری رہا۔ انہوں نے چوہدری کورٹ کی طرف سے پیپلز پارٹی پر ڈھائے گئے مظالم پر سپورٹ کی  اور آصف زرداری کے خلاف اسٹیبلمشنٹ کا ساتھ دیا۔ ان کے اپنے دور حکومت میں دو مختلف کیمپ  پارٹی کو دو مختلف اطراف میں کھینچتے نظر آئے۔ ایک طرف چوہدری نثار تھے جو انہیں نواز 1 بنائے رکھنا چاہتے تھے اور دوسری طرف کچھ ایسے سیاستدان تھے جو انہیں **2.1** بنانا چاہتے تھے۔ اگرچہ نواز 2 بہت بدلے ہوئے تھے لیکن وہ جمہوریت کو مضبوط نہ کر پائے۔ انہیں اس وقت جن مسائل کا سامنا ہے وہ ان کے ہٹ دھرمی کے رویہ کی وجہ سے ہی ہیں۔ وہ پارلیمنٹ جانا نہیں پسند کرتے تھے اور عدالت نے ان کو کابینہ کی مشاورت سے فیصلہ سازی کے عمل پر مجبور کیا۔ نہایت  ٹیکٹیکل لیول  پر بھی انہون نے چوہدری نثار کو احتساب کا کریڈٹ دے کر پیپلز پارٹی کی سپورٹ کھو دی۔ اسی عمل کی وجہ سے زرداری کو ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا  اور جب وہ واپس آئے تو وہ کسی طرح بھی ن لیگ کی سپورٹ کے لیے تیار نہ تھے۔  ایک بار پھر نواز اپنی غلطی تسلیم کر کے گیم تبدیل کر دینا چاہتے ہیں۔وہ ایک بار پھر اپنے آپ کو نواز 3 کے نام  سے نئی زندگی شروع کرنا چاہتے ہیں اور بے نظیر بھٹو کے جانشین کی حیثیت سیاسی طور پر حاصل کرنا چاہتے ہیں اورعمران خان کے مقابلہ میں وہ یہ اعزاز حاصل کرنے کے قابل ہیں۔  عمران خان خود کو اپنے آپ ہی ہرا چکے ہیں۔جہاں نواز نے اپنے آپ کو دیہاتی ایلیٹ طبقہ کے مقابلہ میں  شہری بزنس کلاس اور انڈسٹریلسٹ  طبقہ کا جانشین ثابت کیا ہے وہاں عمران  خان اپنے آپ کو کسی بھی سٹرکچرل شفٹ کا نمائندہ نہ کہلوا پائے۔ عمران خان کا ٹارگٹ سٹرکچرل شفٹ سیاست میں مڈل کلاس کا غلبہ تھا  اور وہ اسے دوسرے تمام  ایلیٹ طبقات پر فوقیت دلاناچاہتے تھے۔ لیکن پی ٹی آئی میں الیکٹیبلز کی شمولیت کے بعد اب دوسری پارٹیوں کے مقابلے میں یہ پارٹی مڈل کلاس کا نمائندہ جماعت ہونے میں سب سے پیچھے ہے۔ عمران خان کا اصل مقصد نواز شریف کو اقتدار سے دور رکھنا ہے  بلکل ایسے ہی جیسے نواز شریف 1 کا کام بے نظیر بھٹو کو کنٹرول میں رکھنا
تھا۔ اب تک عمران نے اپنا کام اچھے طریقے سے کیا ہے۔ نواز کی سٹرینتھ ان کی ملک بھر میں مقبولیت ہے۔ انہوں نے پی پی کا لاہور اور سینٹرل پنجاب سے صفایا کیا اور اس علاقے کو اسٹیبلمشنٹ کا حمایتی بنایا۔ کیا اب وہ اس علاقے کو الٹی سمت ڈال سکیں گے؟ مستقبل میں ہر چیز ممکن ہوتی ہے اور نواز نمبر 3 اپنے پہلے 2 ورژن کی طرح اس بار بھی سرپرائز دے سکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *