ملزم عدالتوں سے کیوں بچ نکلتے ہیں؟

Ashraf qگزشتہ دنوں جسٹس مشیر عالم کا ایک بیان دیکھا، جس میں اُنہوں نے کہا کہ ملزم پولیس کی ناقص تفتیش کی وجہ سے سزا نہیں پاتے۔ پولیس حکام کو اکثر شکایت رہتی ہے کہ ملزم عدالتوں سے چُھوٹ جاتے ہیں یا ضمانت کر الیتے ہیں۔ کراچی کے امن و امان کے سلسلے میں وزیراعظم کے دورئہ کراچی کے موقع پر بھی یہ شکایت سامنے آئی کہ ملزم عدالتوں سے بچ نکلتے ہیں۔ اس مسئلے کا دو حرفی حل تو یہ ہے کہ وزارتِ قانون (صوبائی اور وفاقی) پولیس ججوں اور وکلاءسے تجاویز لے کر پولیس کے تفتیشی عمل، عدالتی عمل اور قانون شہادت میں مناسب اصلاحات کرے۔ اس معاملے میں دوسرے ملکوں کے طریقِ کار اور قوانین سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ پھر تفتیشی پولیس یا جو بھی ادارہ ہو، اُس کے اہل کاروں اور پبلک پراسیکیوٹرز کی مناسب تربیت ہو۔

مَیں اپنے کئی کالموں میں لکھ چکا ہوں کہ امریکہ میں وفاق (ایف بی آئی) کی طرف سے کوئی مقدمہ عدالت میں چلا جائے تو ملزم سزا سے بچ ہی نہیں سکتا۔ ایف بی آئی کے بارے میں میرے کئی کالموں میں یہ بات بھی آچکی ہے کہ وہ طویل عرصے تک تفتیش کرتی ہے اور بہت اخراجات کرتی ہے۔ ایف بی آئی کی تفتیش کا دارومدار جاسوسی پر ہوتا ہے۔ ایف بی آئی کو کسی جرم کا پتہ چلتا ہے، وہ اس کے دائرہ اختیار میں ہوتا ہے یا پولیس اس سے مدد طلب کرتی ہے تو ایف بی آئی فوراً ملزم پر ہاتھ نہیں ڈال دیتی۔ جاسوسی کے ذریعے جرم اور ملزم کے خلاف ثبوت جمع کرنا شروع کر دیتی ہے۔ اس عرصے میں کسی دوسرے ادارے یا ملزم کو محسوس تک نہیں ہوتا کہ تفتیش کا کوئی عمل جاری ہے۔ ابتدائی عمل میں ہی اگر ایف بی آئی کو احساس ہوتا ہے کہ کوئی جرم نہیں ہو رہا یا تفتیش اس کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے تو وہ کیس کے بارے میں حاصل کردہ معلومات کو اپنے ریکارڈ کا حصہ بنا کر کیس کو ختم کر دیتی ہے۔ بعض اوقات یہ معلومات بعد میں کسی وقت بہت کام آتی ہیں۔ بعض اوقات کیس کی نوعیت کے اعتبار سے ابتداءمیں ہی یا درمیان میں کسی موقع پر ملزم کو باقاعدہ اپنا تعارف کرا کے اس سے ابتدائی سوال جواب کرتی ہے اور یا تو اُسے کہہ دیتی ہے کہ اُسے فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں یا اُسے پابند کر دیتی ہے کہ اگر اُسے ریاست یا ملک چھوڑ کر جانا ہو تو اس کے لئے اُسے پیشگی اطلاع دینا ہوگی۔

اس کے بعد کچھ عرصے تک اس کی نگرانی کرتی رہتی ہے اور جو کچھ اس نگرانی کے نتیجے میں سامنے آتا ہے، آگے اُسی کے مطابق کارروائی ہوتی ہے۔ اس سارے عمل پر خاصا خرچ اُٹھتا ہے۔ اس لئے جب کیس عدالت میں پہنچے اور کمزور ہو تو عدالت سے ایف بی آئی کو شدید سرزنش کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جو تفتیشی افسر ہوتا ہے، اُس کو ملازمت کے لالے پڑ سکتے ہیں، ورنہ اُس کا ریکارڈ ضرور خراب ہو جاتا ہے.... لہٰذا ایف بی آئی اس قدر مکمل اور پکا کیس بناتی ہے کہ ملزم کو خود اُس کا وکیل یہ مشورہ دیتا ہے کہ ایف بی آئی کے پاس اتنے ثبوت ہیں کہ تمہارا بچ نکلنا ناممکن ہے۔ اگر ملزم کوخیر سے سرکاری وکیل مہیا کیا گیا ہو۔ تو وہ اُسے روزِ اول سے اعترافِ جرم "Guilty Plea" کی ترغیب دینے کے سوا کچھ نہیں کرتا۔ اگر کسی ملزم کو اتنی توفیق ہو کہ وہ اپنے پلے سے تیس، چالیس ہزار ڈالر خرچ کر سکے، تو وہ وکیل بھی استغاثہ کا ریکارڈ الزامات اور ثبوت وغیرہ دیکھنے کے بعد اپنے مو¿کل کو یہی کہتا ہے کہ وہ اعترافِ جُرم کے بدلے میں اُس کی سزا کم کرا سکتا ہے۔

اعترافِ جرم کی صورت میں بھی وفاقی جرائم میں کسی رعایت کا کوئی وعدہ نہیں کیا جاتا اور اعترافِ جرم کرنے والے ملزم سے جج بار بار پوچھتا ہے کہ تم کسی ڈر یا دھمکی کی وجہ سے یا پھر کسی رعایت کے وعدے پر تو اعترافِ جرم نہیں کر رہے ہو؟ یہاں کسی بھی کیس کے سلسلے میں یو ایس اٹارنی یا ڈسٹرکٹ اٹارنی (پبلک پراسیکیوٹرز) اور ملزم کے وکیل میں قریبی رابطہ رہتا ہے۔ وہ کئی بار ایک دوسرے سے ملتے اور کیس کے بارے میں تبادلہ خیالات کرتے ہیں۔ وکیل سرکار یو ایس اٹارنی یا ڈسٹرکٹ اٹارنی ملزم کے وکیل کو کیس، اُس پر لگنے والی دفعات اور شواہد کے بارے میں بتاتا ہے۔ ملزم کا وکیل شواہد کو دیکھ کر سمجھ جاتا ہے کہ وہ کہاں تک اپنے مو¿کل کو بچا سکتا ہے۔وہ وکیل سرکار کو بھی بتایا ہے کہ ان الزامات یا دفعات میں اُن کا کیس کمزور ہے اور وہ اس سلسلے میں اپنے مو¿کل کو بے گناہ ثابت کر سکتا ہے۔ اس طرح وکیل سرکار بعض دفعات کو اسی مرحلے پر ختم کر دیتا ہے۔

یہاں وکیل دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک ”ڈیل“ کرانے والے جو وکیل سرکار سے مل کر مہارت کے ساتھ اُسے قائل کرتے ہیں کہ اُس کے کیس میں کہاں کہاں ، کیا کیا خامیاں ہیں، جس کی وجہ سے وہ الزامات کو ثابت نہیں کر سکے گا۔ اگر ایف بی آئی کا کیس نہ ہو تو یہ وکلاءاپنے مو¿کل سے اعترافِ جرم کرا کے بہت معمولی سزا دلوا کر اُسے فارغ کرا دیتے ہیں اور اگر ”ڈیل“ نہ ہو سکے تو وکیل ملزم کو بتا دیتا ہے کہ ڈیل نہیں ہو سکی۔ بعض اوقات اس لئے کہ وکیل سرکار نیا نیا ہوتا ہے، اُسے یہ زعم ہوتا ہے کہ وہ اپنا کیس عدالت میں ثابت کر سکتا ہے۔ تجربہ کار وکیل سرکار یہ بات سمجھتے ہیں کہ عدالت کے سامنے کیس ثابت نہ کر سکنے کی صورت میں جو نقصان اُٹھانا پڑے گا، اُس سے بہتر ہے کہ پہلے مرحلے پر ہی وہی کیس بنایا جائے جو بن سکتا ہے، کیونکہ پولیس اور وکیل سرکار عدالت میں کیس کو ثابت نہ کر سکیں تو دونوں کی نوکریوں پر اثر پڑتا ہے۔ پولیس کے تفتیشی افسر کا ریکارڈ خراب ہوتا ہے۔ تفتیش کی بجائے کسی غیر اہم جگہ پر تبادلہ ہو سکتا ہے اور اگر کوئی ایسی بات سامنے آجائے کہ ملزم کو جان بوجھ کر رعایت دی گئی اور ناقص کیس بنایا گیا ہے تو نوکری سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں۔ ٹرائل، یعنی کیس لڑنے والے وکیل الگ ہوتے ہیں۔

اعترافGulity Plea میں ملزم کا وکیل عدالت سے نرمی کی درخواست کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ ملزم عدالت کا وقت اور پیسہ بچانے اور عدالت سے تعاون کے جذبے سے اعترافِ جرم کر رہا ہے۔ اس صورت میں عدالت بعض اوقات مجرم کو اگر اُس کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نہ ہو تو کم سزا دیتی ہے۔ بعض اوقات جیل کی سزا کی بجائے چار پانچ سال کی پروبیشن دے دی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ جیل سے بہتر ہوتی ہے کہ مجرم گھر میں رہتا ہے، لیکن ایک تو وہ جیل نہ جانے کے باوجود سزا یافتہ مجرم ہو جاتا ہے۔ اُس کے ریکارڈ میں سزا کا اندراج بدستور رہتا ہے۔ دوسرے اسے اس سارے عرصے میں بے حد محتاط رہنا پڑتا ہے۔ کسی دنگے فساد یا اسی نوعیت کے جرم میں دوبارہ ملوث ہونے پر اسے فوراً جیل بھیج دیا جاتا ہے اور پھر اسے زیادہ لمبی قید بھگتنا پڑ سکتی ہے۔ اس دوران اُسے ہر قسم کے نشے سے دور رہنا پڑتا ہے۔ اُسے اپنی نوکری برقرار رکھنا پڑتی ہے اور ایک مخصوص مقررہ مدت میں اپنے پروبیشن افسر کے پاس حاضری دینا ہوتی ہے۔ اب اُسے یہ حاضری پروبیشن افسر کے سامنے حاضر ہونے کی بجائے پروبیشن کے دفتر میں پڑی ہوئی ایک مشین پر اپنی انگلی رکھ کر اپنی حاضری کا اندراج کرنا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ کوئی ہیرا پھیری نہیں کر سکتا۔

قارئین نے شاید اخبارات میں پڑھا ہو کہ فلوریڈا میں ایک سیاہ فام لڑکے ٹریوون کا قاتل زمرمین تو فلوریڈا کے ایک عجیب و غریب قانون کی وجہ سے قتل کے الزام سے بچ نکلا، لیکن اس کی بیوی کو سزا ہوگئی، کیونکہ اُس نے عدالت میں جھوٹ بولا تھا کہ اُن کے پاس ضمانت کے لئے رقم نہیں ہے، حالانکہ اُنہوں نے انٹرنیٹ پر اپیل کر کے سفید فام ہمدردوں سے خاصی بڑی رقم جمع کر لی تھی۔ بوسٹن میرا تھان بم کے ملزموں کے ایک کلاس فیلو کو سزا ہوگئی، کیونکہ اس نے تفتیشی افسروں کو جو بیان دیا وہ جھوٹ نکلا۔ تفتیشی افسران سے جھوٹ بولنا ایسا جرم ہے کہ جس کی سزا سے کوئی بچ نہیں سکتا، حتیٰ کہ مدعی بھی بعض اوقات اگر اپنے مو¿قف سے پھرنے کی کوشش کرے تو اسے سزا ہو سکتی ہے۔ چونکہ مدعی کے اپنے بیان کے پھرنے کی صورت میں پولیس کا کیس خراب ہوتاہے، جس کے نتائج پولیس کے حق میں اچھے نہیں ہوتے، اس لئے بعض اوقات پولیس مدعی کو باقاعدہ ڈراتی دھمکاتی ہے کہ اگر اُس نے کسی دباو¿ یا لالچ میں کیس سے دست بردار ہونے یا بیان بدلنے کی کوشش کی تو وہ خود مجرم بن جائے گا اور سزا سے نہیں بچ سکے گا۔

 عدالت میں ملزم اپنے اعترافِ جرم سے رجوع کر سکتا ہے، لیکن اس صورت میں جرم ثابت ہونے پر اسے انتہائی سزا بھگتنا پڑتی ہے۔ سزا کے خلاف اپیل کا عمل بے حد طویل ہے۔ چار پانچ سال کی سزا تو اپیل کی سماعت کی نوبت آنے تک ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ اپیل محض اپیل کے نام پر نہیں ہو سکتی۔ جب تک ابتدائی طور پر کوئی ایسا ثبوت نہ ہو کہ مقدمے کی سماعت میں کوئی زبردست قانونی خامی رہ گئی یا اپیل والا وکیل یہ ثابت کر دے کہ ملزم کا وکیل، ملزم کی صفائی میں کچھ اہم اور ناقابل تردید شہادتوں کو پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اپیل میں سزا کی معافی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں، اس لئے امریکی جیلوں میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ قیدی ہیں۔

 ضمانت حاصل کرنے کے لئے عدالت کو متعدد امور پر قائل کرنا پڑتا ہے، مثلاً ملزم کا اس سے پہلے کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ جرم کی نوعیت نہایت معمولی ہے۔ ملزم شریف، پڑھا لکھا، با روزگار اور اپنے بال بچوں کا کفیل ہے۔ ملزم کے کہیں بھاگ جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اگر ملزم کے بھاگ جانے کا امکان ہو تو اسے ضمانت نہیں ملتی یا پھر بھاری ضمانت دینا پڑتی ہے۔ گرین کارڈ ہولڈر یا غیر قانونی رہائش پذیر تارک وطن کو ضمانت ملنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ سٹیزن کو معقول ضمانت پر ضمانت کی سہولت مل جاتی ہے۔ انصاف سے بھاگنے کی سزا بھی سخت ہے، جس جرم میں ملزم کو چھ ماہ سے زیادہ کی سزا کا امکان تک نہ ہو، اگر ملزم دورانِ مقدمہ بھاگ جاتا ہے تو پکڑے جانے پر اسے پانچ سال کی سزا ہو سکتی ہے۔ اگر عدالت کو یقین ہو کہ ملزم با روز گار، شریف اور عدالت سے تعاون کرنے والا ہے اور وکیل سرکار کو بھی کوئی اعتراض نہ ہو تو نقد ضمانت ادا نہ کرسکنے کی صورت میں اُسے پاو¿ں میں ایک برقی مقناطیسی فیتہ پہنا کر گھر میں پابند کر دیا جاتا ہے یا تو وہ سوائے عدالت آنے جانے کے کہیں بھی نہیں جا سکتا یا پھر اُس کے صبح گھر سے نکلنے اور شام کو گھر لوٹنے کا وقت مقرر ہوتا ہے۔ اگر وہ وقت کی پابندی نہیں کرتا تو اس کے گھر میں رکھا ہوا آلہ اُس کی نگرانی کرنے والے محکمے کو باخبر کر دیتا ہے اور اُسے فوراً بذریعہ ٹیلی فون تنبیہہ کی جاتی ہے اگر وہ بار بار وقت کی پابندی توڑنے کا مرتکب ہو تو آزادی ختم اور جیل میں جانا پڑتا ہے۔ کوئی ملزم جب بھی گرفتار ہوتا ہے، خواہ وہ کسی غلط فہمی میں گرفتار ہوا ہو اور اگلے دن چھوٹ جائے، لیکن پولیس، یا ایف بی آئی ، حوالات، جیل غرض ہر جگہ اس کی تصویر اور فنگر پرنٹ لینا ضروری عمل ہے۔ اس کے بغیر چارہ نہیں۔ اب تو جیلوں میں ہر قیدی کا ڈی این اے بھی لازمی ہوگیا ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ ہمارے ہاں ابھی تک ٹیلی فون کی ریکارڈنگ، ٹیلی فون کالز، ٹیپ ریکارڈنگ، ویڈیو، فنگر پرنٹ، ڈی این اے، خون کا گروپ وغیرہ بطور شہادت قبول کیا جاتا ہے یا نہیں۔ یہاں کسی لڑائی جھگڑے یا حادثے کے موقع پر پہنچنے والی گاڑیوں میں ویڈیو کیمرہ نصب ہوتا ہے، جو پولیس کی گاڑی موقع واردات پر پہنچنے سے لے کر معاملے کو ختم کرنے یا گرفتاری وغیرہ تک تمام مراحل کی ویڈیو گرافی کرتا رہتا ہے اور یہ ویڈیو پولیس کو اپنا کیس بنانے میں بہت مدد دیتی ہے۔ میں نے ایک فلم میں دیکھا تھا کہ ایک جج کہتا ہے: ”جج کو پہلے روز سے پتہ چل جاتا ہے کہ کون مجرم ہے، لیکن جج شہادتوں کا انتظار کرتا رہتا ہے، شہادتیں آتی نہیں اور ملزم چھوٹ جاتا ہے“....اگر ہمارے ہاں یہ شکایت ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ شکایت حقیقت پر مبنی ہے تو پھر قانون کے محافظوں کو قانون میں موجود رخنے بند کرنا ہوں گے۔

( اشرف قریشی لاہور کے متعدد اخبارات سے وابستہ رہے ہیں۔ ہفت روزہ ”تکبیر کراچی“ کے نمائندے بھی رہے۔ اس وقت نیویارک میں مقیم ہیں اور ہفت روزہ ”ایشیا ٹربیون“ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں۔)  ٭

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *