عمران خان کی تقریر کے بعد ۔۔۔

عموما تو ہوتا یہ ہے کہ کالم یا افسانہ لکھتے ہوے خال ہی ہوتا ہے کہ مجھے عنوان سوجھ جاے ۔۔بس اک وفور میی لکھ لیا اور بعد میی عنوان سوچا کیے ۔۔
مگر جونہیی اس کالم کا عنوان میی نے اوپر لکھا ۔میرا پاس بیٹھا بیٹا منہ بسو ر کر بولا ۔۔ماما مجھے سمجھ نہیی آتی ، آپ ہمیشہ ہار جانے والے لوگوں کو ووٹ کیوں دیتی ہیی ؟؟ آپکا پچھلا ووٹ عمران خان کو تھا جبکہ آپکو پتہ تھا کہ وہ ہار جاے گا
اب آپکو پتہ تھا کہ ن لیگ ہار جاے گی پھر بھی آپ نے انہیی ووٹ دیا
میی نے اپنے بیٹے کو مسکرا کر کہا بیٹے اسے سیاسی بصیرت کہتے ہیں ۔۔پچھلا ووٹ عمران خان کو تبدیلی اور ملک کی تیسری جماعت بنانے کے لیے دیا تھا ۔۔وقت نے ثابت کیا یہ ضرورت تھی اور آج جو وہ ایوان میی بیٹھا ہے اسمیی ہمارے اس فیصلے کا بھی حصہ ہے
آج ووٹ ن لیگ کو اس لیے دیا کہ سول بالا دستی پہ کوئ سمجھوتا منظور نہیی ۔۔۔اور ایک شتر بے مہار حکومت کو قابو میی رکھنے کے لیے ایک منجھی ہوئ سول بالا دستی کا بیانیہ لیکر اٹھنے والی جماعت کا ساتھ دینا بہت ضروری ہے جبکہ اس ملک کا سابقہ وزیر اعظم اسکی سزا میی جیل میی بیٹھا ہو ۔۔۔
جیتنے کے لیے ووٹ سیاسی نابالغ ڈالتے ہییں ۔
اب مرے سامنے عمران خان کی تقریر تھی اور کالم ۔۔۔
سچ تو یہ ہے کہ یہ تقریر ڈوبتے دل کو ایک امید و آسرا ضرور دے گئ ورنہ عمران خان کے غیر سنجیدہ رویوں نے بہت مایوس کردیا تھا ۔۔یہ سادہ سی جذبوں خوابوں سے اٹی تقریر بہر حال اتنی خوش آیند ضرور تھی کہ ہاتھ میی امید کا کوئ جگنو تھام لیا جاے ۔۔
لیکن یہ بہر حال  تقریر تھی
ضرورت اشد ضرورت عمل کی ہے
ان قول و قال پہ عمل اتنا آسان نہیی ۔۔
عمران خان کا وہ ووٹر جو اس سے ناراض و مایوس ہوا تھا وہ انہی عوامل کے ناپید ہونے کی وجہ سے ہوا تھا کہ دعووں کے برعکس رویے کچھ اور چغلی کھاتے تھے
اب آییے تقریر کی طرف ۔۔
تقریر میی تمام تر الزامات و کردار کشی کے لیے معافی کا اعلان تھا اور سیاسی محاز آرائ سے گریز کا وعدہ تھا ۔۔یہ ایک مستحسن و خوش آیند بات تھی ، یہ رویہ یقینا پی ٹی ائ ورکرز کا ٹمپریچر ضرور نیچے لے آے گی کیونکہ یہ کام انکی صفوں سے سب سے زیادہ کیا جارہا تھا ۔
دوسرا بڑا وعدہ قانون کی بالا دستی کا ہے جو سردست مجھے صرف دعوی ہی معلوم ہوا
وہ جماعت جو مسلم لیگ ن کیساتھ ن دیکھنے کی روادار نہیی کہ یہ ایک نااہل اور صادق و امین نا رہنے والے شخص کے نام کا سایہ ہے وہ جہانگیر ترین کو ہر معاملے میی ہراول دستے میی رکھ رہی ہے ۔۔حتی کہ لیاقت حسین جیسا انتہائ متنازع شخص جسکو ووٹ دینے میی پی ٹی ائ ورکر کی کراہت سامنے تھی ،وہ بھی ہراول دستے میی جگہ پاتا نظر آتا ہے
پھر اسی rule of law یا قانون کی بالا دستی کو جھٹکا اسوقت بھی لگتا ہے جب بہت سے ایسے نااہل اور دوسری جماعتوں کے rejected  اور ٹھکراے لوگ جن کی ساکھ مشکوک ہے اس جماعت میی جگہ پاکر آگے آگئے ہیں ۔۔۔
ایک وعدہ وزیر اعظم ہاوس کو عوامی کرنے یا بنانے کا تھا کہ یہاں یونیورسٹی وغیرہ بنا دی جاے گی ۔۔مگر یہ وعدہ خیبر پختون خواہ میی بھی وعدہ ہی رہا ۔۔۔
سیاسی محاز آرائ و انتقامی سیاست کا وعدہ کیسے و کیونکر ایفا ہوتا ہے یہ آنے والا وقت بتاے گا جبکہ ایک جماعت و شخص کے خلاف محاز آرائ انتہا کو پہنچی اور یہ ہم سب جانتے ہیی کہ نواز شریف بہرحال کرپشن کی وجہ سے جیل میی نہیی ہیی گر ایسا ہوتا تو پھر ہونا یہ چاہیے تھا بقول شاعر ' سونیاں ہو جان گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے " یہاں شاید ہی کوئ باقی رہتا
بہر حال گر عمران خان کرپشن کے خلاف سنجیدہ ہیی اور اس کو واقعی بیماری کی جڑ سمجھتے ہیں تو سویس بینکوں میی رکھا پیسہ وطن واپس لیکر آییی جو ہماری ڈوبتی معیشت کے سارے مسائل حل کردے گا اور اس نوزاییدہ حکومت کو آی ایم ایف کے گھٹنوں میی گرنا نہیی پڑے گا اور گر ایسا ہوجاتا ہے تو یقینا ن اور پی پی پی کا ہر سچا پاکستانی ووٹر آپکا ساتھ دے گا اور اپکو اگلے پانچ تو کیا دس سال حکومت سے کوئ نہیی روک سکتا
عمران خان کی بطور جیتنے والے وزیر اعظم کے وکٹری سپیچ کا ایک اور اہم نکتہ ہمارے پڑوسی ملک ہندوستان سے دوستی پہ تھا
شکر الحمدللہ کہ وزیر اعظم بنتے ہی انکی آنکھیی کھل گییی اور وہ اس بات کی اہمیت کو سمجھ گئے کہ پڑوسیوں سے دوستانہ تعلقات کس قدر ضروری ہیی جبکہ یہ الکشنز میی بطور ایک کالک استعمال کیا گیا جو نوا شریف کے منہ پہ تھوپی جاتی رہی ۔۔۔بدترین منفی پراپیگنڈا کیا گیا جسکا کوئ سر پیر اور ثبوت نہیی تھا اور مودی کا جو یار ہے وہ غدار ہے کا نعرہ گلا پھاڑ پھاڑ کر واشگاف دہرایا گیا مگر اج اپ پاکستان کے نو منتخب وزیر اعظم ہیی تو میی اس بات کو تحسین کی نگاہ سے دیکھوں گی کہ پاکستانی وزیر اعظم کا بیانیہ یہی ہونا چاہیے ۔اپنے پڑوسیوں سے دوستی و تجارت میی اور کشمیر سمیت تمام مدعوں پہ بات میز پہ ہونا حب الوطنی ہے غداری نہیی ۔۔
مسڑ پرائم منسٹر آپکے وعدوں نے ہر پاکستانی کے دل میی امید کی شمع روشن کی ہے مگر آپکو یہ یاد رکھنا چاہیے یہ وعدے آسان نہیی بلکہ لوہے کے چنے ہیی آپکی معیشت تباہی کے دہانے پہ ہے ۔اور آپکی ٹیم میی کوئ مجھا ہوا کھلاڑی نہیی یہ آپکی صلاحیتوں کا امتحان ہے کہ آپ اندرونی بیرونی ان تمام محازوں سے کیسے نپٹتے ہیی ؟!
میی بطور ایک پاکستانی قلم کار اس الیکشن پہ اپنے تمام تر تحفظات کے کہ جسمیی اسٹیبلشمنٹ کی چھتری نے اپکے سر پہ چھاوں کیے رکھی ، الیکشنز میی ہوا کارخ اپکی جانب تھا ، یہ اعتراف ہے ،اور اسے اپکی جانب بنانے میی سر توڑ کوشش کی گئ ، پھر ایسی کیا بے یقینی کہ الیکشنز کو متنازع کردیا گیا ،  جمہوری عمل کے تسلسل کو خوش آیند مبارک شگن مانتی ہوں ، ن لیگ کے اپوزیشن میی بیٹھنے کے فیصلوں کو تحسین سے دیکھتی ہوں ، اور آپکے اس اعلان کو ملک میی جمہوری روایات کے استحکام کا باعث سمجھتی ہوں کہ آپ نے فراخ دلی سے ہر متنازعہ حلقے کو کھولنے کا وعدہ کیا ۔۔امید کہ یہ وعدے پورے کیے جاییی گے ۔
گر آپ ایک کڑوڑ نوکریوں ، پچاس لالھ مکان ، کلبھوشن کی پھانسی ، ڈیمز ، مفت تعلیم و انصاف پٹرول و ڈالر سستا کرنے ، وی ائ پی کلچر کا خاتمہ کرنے جیسے چیلینجز سے نپٹ لیتے ہیی تو یہ قوم واقعی مبارکباد کی مستحق ہے کہ اسے مبارک دی جاے کہ اس نے ایک عظیم لیڈر منتخب کیا ہے ۔۔۔مجھے اپنی شکست کے اعتراف میی یک گونہ خوشی محسوس ہوگی گر یہ وعدے سچ ہوجاییی کیونکہ مقابل مرے ملک کا مفاد ہے ۔۔کیونکہ مائ ڈیر پرائم منسٹر اپ یقین کر لیجیے ہم پاکستانی کسی بھی جماعت کو چنیی ہم گدھے نہیی ہییں
ہم پاکستان پہ آپکی حکومت کا کھلے دل سے استقبال کرتے ہیی اس وعدے کیساتھ کہ جہاں اپ اچھا کرییی گے ہم اپکے ساتھ ہیی اور جہاں آپکا قدم غلط اٹھا اہکو اور آپکے ساتھیوں کو معافی نہیی ملے گی یہی قانون کی بالا دستی اور خود احتسابی ہوا کرتی ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *