یہ بھی پاکستان ہے !

یاسر پیرزادہYasir Pirzada

 آج کل ہمارا ہر ٹاک شو، تجزیہ اور کالم پاکستان کے خلاف ایک قسم کی ایف آئی آر ہوتا ہے’’اس ملک میں قانون نہیں ہے، یہاں کرپشن کا راج ہے، یہاں میرٹ کا فقدان ہے، یہاں با اثر لوگوں کو ہر کام کی کھلی چھوٹ ہے، کبھی کسی کو جرم کی سزا نہیں ملتی‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ سو کیوں نہ آج منہ کا ذائقہ بدلا جائے! آج پاکستان کو گالی دینے یا اس ملک کی ہر بات میں کیڑے نکالنے کی بجائے تصویر کا دوسرا رُخ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، گو کہ یہ تصویر قدرے دھندلی ہے مگر کام چل جائے گا:
1۔15اگست 2010ء کو سیالکوٹ میں دو نوجوان بھائیوں کو بھرے مجمع میں ڈنڈوں سے مار مار کر ہلاک کر دیا گیا، ان لڑکوں کی عمریں اٹھارہ اور پندرہ سال تھیں، ان پر الزام تھا (جو بعد میں ثابت نہیں ہو سکا) کہ انہوں نے علاقے میں راہزنی کے دوران لوگوں سے موبائل اور نقدی وغیرہ چھینی تھی، ان دنوں گوجرانوالہ ڈویژن میں چونکہ ’’نتھو گورایا سٹائل انصاف کا نظام‘‘ رائج تھا جس کے تحت پولیس کسی عدالتی جھنجھٹ میں الجھے بغیر موقع پر ہی ملزم کو پکڑ کر سزا دیتی تھی لہٰذا سیالکوٹ کے لوگوں نے بھی یہی کیا۔ ان دونوں لڑکوں کو ریسکیو 1122کے دفتر کے سامنے زمین پر لٹایا اور اس وقت تک ان کے جسموں پر ڈنڈے برساتے رہے جب تک دونوں کی جان نہیں نکل گئی، اس کے بعد ان کی لاشوں کو وہیں الٹا لٹکا دیا گیا، موقع پر موجود کسی شخص نے اس واقعے کی ویڈیو بنائی اور اسے میڈیا کو جاری کر دیا، اس ویڈیو نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا، سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا، وزیر اعلیٰ نے نوٹس لیا اور چند ہی دنوں میں اس واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس ماہ عدالت نے اس واقعے میں ملوث سات مجرمان کے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دئیے۔
2۔اسی پاکستان میں ایک بینک کا صدر قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک کاروباری گروپ کو 9ارب روپے کے قرضے جاری کرتا ہے، حکومت اس وقت ’’یاروں‘‘ کی تھی لہٰذا کسی کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی، مگر وقت گزرتا ہے، نئی حکومت آتی ہے، پرانی عدلیہ بحال ہوتی ہے، قانون حرکت میں آتا ہے اور بینک کے صدر کی گردن شکنجے میں لانے کے لئے اس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا جاتا ہے، مگر ملزم کسی نہ کسی طرح فرار ہوکر امریکہ پہنچ جاتا ہے، عدالت عظمیٰ حکومت کو حکم جاری کرتی ہے کہ ملزم کو امریکہ سے واپس لایا جائے، امریکی حکومت سے رابطہ کیا جاتا ہے، وہاں کا محکمہ انصاف 11دسمبر2009ء کو ہمیش خان کو واشنگٹن سے گرفتار کرکے پاکستان کے حوالے کر دیتا ہے، اور پھر اگلے پانچ سال چار ماہ تک ہمیش خان کو جیل میں رہنا پڑتا ہے تاوقتیکہ اس کی ضمانت منظور نہیں ہوجاتی۔ دریں اثناء 9ارب کے غیر قانونی قرضوں میں سے بینک 7ارب کے قرضے بازیاب کروانے میں کامیاب ہو جاتا ہے ۔
3۔نومبر 2014کو پاکستان کے ایک چھوٹے سے شہر کوٹ رادھا کشن میں ایک مسیحی جوڑے کو بھٹے میں پھینک کر زندہ جلا دیا جاتا ہے، زندہ جلانے سے پہلے گائوں کے لوگ اس جوڑے پر تشدد کرتے ہیں اور اس کے بعد انہیں بھٹے میں پھینک دیا جاتا ہے جس میں بھسم ہو کر ان کی لاشیں کوئلہ ہو جاتی ہیں‘‘ اس خبر سے پورے ملک میں بھونچال آ جاتاہے، غیر ملکی میڈیا پر اس کی بھرپور تشہیر ہوتی ہے، پوری دنیا میں پاکستان کا نام بدنام ہوتا ہے، زندہ جلائی جانے والی عورت تین بچوں کی ماں تھی اور اس وقت حاملہ تھی، پولیس گائوں کے 660افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرتی ہے جن میں سے 60افراد کو نامزد کیا جاتا ہے اور بعد ازاں انہیں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کر دیا جاتا ہے، تاحال یہ تمام ملزمان گرفتار ہیں، مرنے والے جوڑے کے بچوں کو حکومت نے پچاس لاکھ روپے اور دس ایکڑ زمین معاوضے کے طور پردئیے ہیں ۔4۔یکم اپریل 2015کو سابق وفاقی وزیر کے بیٹھے مصطفیٰ کانجو لاہور کے علاقے کیولری گرائونڈ میں نشے کی حالت میں اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ گاڑی میں جا رہے تھے کہ ان کی گاڑی دوسری گاڑی سے ٹکرا گئی، اس بات پر جھگڑا ہو گیا، نتیجے میں موصوف نے فائرنگ کر دی جس سے ایک راہ چلتا نویں جماعت کا یتیم بچہ زین ہلاک ہو گیا جبکہ ایک اور لڑکا حسنین زخمی ہوگیا، پولیس نے مقدمہ درج کرکے مصطفیٰ کانجو کے گھر سے سیکورٹی گارڈ کو حراست میں لیا، خیال کیا جا رہا تھا کہ شاید اصل ملزم بااثر ہونے کی وجہ سے (کیونکہ بھائی حکومتی جماعت کا رکن اسمبلی ہے) بچ جائے گا، لیکن اگلے ہی روز مصطفیٰ کانجو کو خوشاب سے گرفتار کر لیا گیا جہاں موصوف فرار ہو چکے تھے۔5۔اپریل 2015کے ہی اخبارات میں ایک تصویر شائع ہوئی، تصویر سابق منیجنگ ڈائریکٹر پی ٹی ڈی سی شاہ جہان کھیتران کی تھی جس میں انہیں ہتھکڑیاں لگا کر نیب عدالت میں پیشی کے لئے لے جایا جا رہا تھا، ایم ڈی صاحب پر الزام ہے کہ اپنے دور میں انہوں نے 714افراد کی غیرقانونی بھرتی کی۔
جبکہ ادارے کی زمین کو مارکیٹ سے کم قیمت پرلیز پر دے دیا‘ انہی الزامات کی بنا پر موجودہ حکومت نے یکم دسمبر 2013کو ایم ڈی صاحب کو عہدے سے ہٹا دیا تھا اور عدالت عظمیٰ نے بھی اسی بنا پر موصوف کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے، کیس اب نیب عدالت میں زیر سماعت ہے ۔
6۔مارچ 2015کو لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں چرچ پر خود کش حملہ ہوا، اس حملے میں 19افراد ہلاک اور تقریباً 80زخمی ہوئے‘ دھماکے کے فوراً بعد مشتعل ہجوم نے موقع پر دو افراد کو مشتبہ سمجھ کر مارا پیٹا اور پھر زندہ جلا دیا، اس واقعے نے بھی پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا، چرچ میں جاں بحق ہونے والوں کا غم اور ساتھ دو معصوم افراد کے ساتھ زندہ جلانے کی بربریت۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں پولیس نے تقریباً ان تمام افراد کو گرفتار کر لیا جنہوں نے ان بے گناہ افراد کو تیل چھڑک کر آگ لگائی تھی۔
یہ صرف ان خبروں کی جھلکیاں ہیں جو پچھلے ایک ماہ میں میری نظروں سے گزری ہیں، یقیناً اس ملک میں دل دہلا دینے والے واقعات ہوتے ہیں مگر کیا ہی اچھا ہو اگر ان واقعات کا تعاقب کرنے کی زحمت بھی گوارا کر لی جائے تاکہ تصویر مکمل تو ہو سکے۔ پاکستان کے معاملے میں ہم بے حد سنگ دل واقع ہوئے ہیں، اس ملک کی کوئی کوتاہی ہم برداشت نہیں کرتے، کسی قسم کے رعایتی نمبر ہم اپنے ملک کو دینے کے لئے تیار نہیں، جتنا کڑا معیار ہم نے اپنے ملک کے لئے رکھا ہے اس معیار پر خود کو پرکھنے کی ہمت نہیں کرتے، ملک کے لئے گالیاں اور اپنے لئے واہ واہ، گویا ہمارا کتا، کتا اور تمہارا کتا، ٹامی…واہ صاحب!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *