پاکستان کے کرپٹ وزرائے اعظم اور پاکستان کے مسیحا

پاکستان کے پہلے وزیر اعظم اور پاکستان کے معمار لیاقت علی خان کو قتل کروانے والا مسیحا نامعلوم تھا۔
پاکستان کے دوسرے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کو ملک غلام محمد نامی مسیحا نے برطرف کیا ۔
چیف جسٹس منیر احمد نام کے ایک مسیحا نے اسی دور میں اسمبلیاں برطرف کرنے پر نظریہ ضرورت کا تصور پیش کیا۔
پاکستان کے تیسرے وزیراعظم محمد علی بوگرہ اسکندر مرزا نامی مسیحا کے ہاتھوں مارے گئے۔
پاکستان کے چوتھے وزیراعظم چوھدری محمد علی کو بھی یہی اسکندر مرزا نامی مسیحا کھا گیا۔
پاکستان کے پانچویں وزیراعظم حسین شہید سہروردی بھی اسکندر مرزا کے جلال کا شکار ھوے۔
پاکستان کے چھٹے وزیراعظم آئی آئی چندریگر کو بھی اسکندر مرزا نے کھیت کیا۔
پاکستان کے ساتویں وزیراعظم فیروز خان نون کو اسی مسیحا اسکندر مرزا نے برطرف کر کے اوپر تلے پانچ وزراء اعظم کھانے کا ریکارڈ قائم کیا۔ یاد رھے اسکندر مرزا کے پردادا میر جعفر نامی مسیحا نے سراج الدولہ کو کھایا تھا۔
پاکستان کے نویں وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو کو ضیاءالحق نامی مسیحا نے کھایا۔ اور مسیحاوں کے اس گروپ میں چیف جسٹس انوارالحق نامی ایک عدالتی مسیحا بھی شامل تھا۔
پاکستان کے دسویں وزیراعظم محمد خان جونیجو کو بھی ضیاءالحق نامی مسیحا نے ملیا میٹ کر دیا۔
بے نظیر بھٹو کو پہلے اسحاق خان اور پھر فاروق لغاری نے مسیحائ مخلوق کی سہولت کاری سے کھایا اور پھر مشرف کے دور میں نامعلوم مسیحا بے نظیر بھٹو کو نگل گیا۔
وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کو مشرف نامی مسیحا نے فارغ کیا۔
یوسف رضا گیلانی وزیراعظم کو مسیحائ مخلوق کے تعاون سے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ڈکار گیا۔
وزیر اعظم نواز شریف کو پہلے کاکڑ ، پھر مشرف اور تیسری مرتبہ باجوہ صاحب ہضم کر گئے۔ اس میں کچھ نامی گرامی عدالتی مسیحا بھی شامل ھیں۔
جنرل ایوب ، جنرل یحیی، جنرل ضیاءالحق، جنرل مشرف اور جنرل کیانی جیسے مسیحاوں سے ھوتے ھم جنرل باجوہ، جبکہ چیف جسٹس منیر احمد، چیف جسٹس انوارالحق، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ھوتے ھم چیف جسٹس ثاقب نثار تک پہنچ چکے ہیں ۔ کہانی ابھی جاری ھے۔
نوٹ ۔ یونانی دیو مالائ داستان میں یونانی خدا کرپٹ لوگوں کو زندہ کھا کر یا انہیں رسوا کرکے آپریشن کلین اپ کرتے تھے۔ تاکہ دنیا کرپشن سے فری رھے۔ مقام شکر ھے۔ ھم ستر سال سے یونانی دیو مالائ خداوں کے عہد میں زندہ تھے۔ اور باالآخر ایک صاف شفاف دور میں داخل ھو گئے ھیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *