علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مسلم شناخت ختم ہوسکتی ہے

شکیل اختر

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی یعنی اے ایم یو گذشتہ ایک صدی سے ایک سرکردہ تعلیمی ادارہ اور مسلمانوں کی ثقافت، تہذیب اور شناخت کا ایک اہم مرکز رہی ہے۔ لیکن انڈیا کی مرکزی حکومت اب اس ادارے کی مسلم شناخت ختم کرنا چاہتی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ مذہبی اقلیتی ادارہ نہیں ہے۔ دلتوں کے سرکاری قومی کمیشن نے یونیورسٹی سے کہا ہے کہ وہ دوسری یونیورسٹیز کی طرح دلت اور قبائلی ہندو طلبہ کویونیورسٹی کے داخلے میں ریزرویشن دے ورنہ اس کی فنڈنگ بند کی جائے۔

دلتوں کے قومی کمیشن کے سربراہ رام شنکر کٹھیریا کا کہنا ہے کہ آزادی کے بعد ملک کے آئین کے تحت تمام تعلیم اداروں میں دلتوں اور قبائلی طلبہ کے لیے داخلوں میں ریزرویشن دیا گیا لیکن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اس کا اطلاق نہیں ہوا۔ کٹھیریا کہتے ہیں 'یں نے وزارت تعلیم سے پو چھا، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن سے پوچھا، اقلیتی کمیشن سےپوچھا۔ سبھی کا کہنا ہے کہ اے ایم یو اقلیتی ادارہ نہیں ہے۔ اے ایم یو کے پاس بھی کوئی قانونی دستاویز نہیں ہے۔'

آئین کی رو سے مذہبی اقلیتوں کو اپنے مذہبی ثقافتی اور تعلیمی ادارے قائم کرنے کا خصوصی اختیار دیا گیا ہے ۔آئین کی دفعہ 31 کے تحت ان اداروں کے انتظام اور ضوابط میں حکومت دخل نہیں دیتی۔

کٹھیریا کاکہنا ہے کہ 'حکومت سوا سو کروڑ روپے علی گڑھ یونیورسٹی پر صرف کرتی ہے ’تیس ہزار بچے پڑھتے ہیں اس میں چھ ہزار دلت اور قبائلی اور آٹھ ہزار پسماندہ ذات کے بچے ہونے چاہیئں۔ اے ایم میں چودہ ہزار ہندو طلبہ کو ریزرویشن ملنا چاہیے۔'

یونیورسٹی کے ترجمان ڈاکٹر شافع قدوائی کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی ابتدا سے مسلمانوں کا ایک اقلیتی ادارہ ہے۔ لیکن یہاں کسی کے لیے ریزرویشن نہیں ہے۔ داخلوں میں پچاس فی صد جگہیں ان طلبہ کے لیے مخصوص ہیں جنہوں نے علی گڑھ سکول سے 12ہویں کا کوالیفائنگ امتحان پاس کیا ہے۔ چاہے وہ کسی بھی مذہب یا طبقے کا ہو۔ باقی پچاس فیصد سیٹیں باہر کے طلبہ کے لیے کھلی ہوئی ہیں۔

سر سید احمد خاں کے اینگلو محمڈن اوریئنٹل کالج کو جب 1920 میں ایک باضابطہ یونیورسٹی میں تبدیل کیا گیا اس وقت مسلمانوں نے اس کے لیے 35 لاکھ روپے جمع کیے تھے۔ 1981 میں پارلیمنٹ میں ایک ایکٹ منظور ہوا تھا جس کی کئی شقوں کی بنیاد پر یہ تشریح کی گئی تھی کہ اے ایم یو کو آئینی طور اقلیتی ادارے کا درجہ مل گیا۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
سر سید احمد خاں کے اینگلو محمڈن اوریئنٹل کالج کو جب 1920 میں ایک باضابطہ یونیورسٹی میں تبدیل کیا گیا اس وقت مسلمانوں نے اس کے لیے 35 لاکھ روپے جمع کیے تھے

2004 میں منموہن سنگھ کی حکومت کی طرف سے ایک خط میں کہا گیا کہ یہ اقلیتی ادارہ ہے اس لیے وہ اپنی داخلہ پالیسی میں تبدیلی کر سکتے ہیں لیکن حکومت کے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا گیا اور عدالت نے اقلیتی حیثیت کو غیرآئینی قرار دیا۔ یہ معاملہ اب سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے عدالت عظمی میں ایک بیان حلفی داخل کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ مسلم یونیورسٹی کو اقلیتی ادارہ نہیں مانتی۔

یونیورسٹی کے ترجمان شافع قدوائی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ہمارے پاس سارے دستاویز ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ عدلیہ ہمارے کیس کو سمجھے گی اور اسے ایک اقلیتی ادارہ تسلیم کرے گی۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ آپ اپنی پرانی ایڈمیشن پالیسی پر عمل پیرا رہیں۔ جب تک فیصلہ نہیں ہو جاتا تب تک یہ پالیسی جاری رہے گی۔ نہ تو ہم کسی کو کوٹہ دے سکتے ہیں اور نہ ہی کسی کا ختم کر سکتے ہیں۔'

اگست کے اوائل میں دلی میں دلت کمیشن نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور وزارت تعلیم کے اعلی اہلکاروں کے ساتھ ایک میٹنگ کی تھی۔ کمیشن نے کہا ہے کہ اگر یونیورسٹی نے ہندوؤوں کو کوٹہ دینے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کیا تو وہ اس مہینے کے اواخر تک سپریم کورٹ میں جائے گا۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایک تعلیمی ادارہ ہی نہیں مسلمانوں کی ثقافت اور شناخت کی ایک اہم علامت ہے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شناخت صرف مسلمانوں کی نہیں ہے ۔ سیکولر اقدار اور لبرلزم کو فروغ دینے میں اس کا اہم کردار رہا ہے ۔ پروفسیر شافع کہتے ہیں 'یہ ہندوستان کے مسلمانوں کی آرزرومندیوں کا مرکز ہے ۔ '

لیکن آرزوؤں اور تمناؤں کا یہ مرکز اس وقت شدید دباؤ میں ہے ۔ شعبہ انگریزی کے پروفیسرڈاکٹر محمد عاصم صدیقی کہتے ہیں 'اے ایم یوکو دیکھیں، اس کا کردار دیکھیں۔ یہاں جو سٹوڈنٹ پڑھ رہے ہیں ان کا کمپوزیشن دیکھیں۔ ان کی بیک گراؤنڈ دیکھیں۔ تو یہاں ہر ذات، ہر مزہب، ہر طبقے، ہر علاقے، ہر صوبے کے طلبہ پڑھتے ہیں اور ہم آہنگی کے ساتھ رہتے ہیں۔ یہ طلبہ ملک کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔'

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
دلتوں کے قومی کمیشن کے سربراہ رام شنکر کٹھیریا کا کہنا ہے کہ آزادی کے بعد ملک کے آئین کے تحت تمام تعلیم اداروں میں دلتوں اور قبائلی طلبہ کے لیے داخلوں میں ریزرویشن دیا گیا لیکن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اس کا اطلاق نہیں ہوا

شعبہ سیاسیات کی پرفیسر نگار زبیری کا خیال ہے کہ جب عوام کی توجہ کسی اہم مسئلے سے ہٹانی ہوتی ہے تو اقلیتی کردار جیسے سوال کو اچھال دیا جاتا ہے۔ 'بار بار اس طرح کے سوالوں کو اچھال کر اصل مسائل کو پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے ۔ اس سے اوپر اٹھنے کی ضرورت ہے '

قومی اقلیتی کمیشن کے سابق سربراہ اور سابق رکن پارلیمان شاہد صدیقی کا خیال ہے کہ علی گڑھ کے اقلیتی کردار پر سیاست کانگریس نے بھی کی ہے اور بی جے پی نے بھی۔ وہ کہتے ہیں ' مودی حکومت اے ایم یو کا اقلیتی کردار ختم کر کے ہندوؤوں کو یہ بتانے کی کوشش کرے گی کہ کانگریس نے جو مسلمانوں کے اپیزمنٹ کی پالیسی اختیار کر رکھی تھی وہ اس نے ختم کر دی ہے ۔ یہ دراصل ہندتوا کی پالیسی کا حصہ ہے ۔ یہ بالکل گئو رکشا اور لو جہاد جیسی تحریک ہے ۔'

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
پرفیسر نگار زبیری کا خیال ہے کہ جب عوام کی توجہ کسی اہم مسئلے سے ہٹانی ہوتی ہے تو اقلیتی کردار جیسے سوال کو اچھال دیا جاتا ہے

شاہد صدیقی کہتے ہیں کہ اگر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار ختم کر دیا گیا تو اس کامسلمانوں پر زبردست تعلیمی اور نفسیاتی اثر مرتب ہو گا۔

‏'علی گڑھ اور جامع ملیہ دو ایسے ادارے ہیں جو مسلمانوں کے لیے تعلیم کی کھڑکی کا کام کر رہے ہیں۔ معیشت، تعلیم اور کمپٹیشن میں مسلمان سب سے پیچھے ہیں۔ اگر اے ایم یو بھی لے لی گئی تو تعلیمی اعتبار سے مسلمانوں کو زبر دست نقصان پہنچے گا۔ یہ بہت بڑا دھچکا ہوگا۔ لیکن اس سے فائدہ بھی ہو سکتا ہے۔ مسلمانوں کو یہ احساس ہو گا کہ انہیں تعلیم اور کمپٹیشن میں رہنے کے لیے نوے فی صد کی محنت کرنی ہوگی۔'

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایک تعلیمی ادارہ ہی نہیں مسلمانوں کی ثقافت اور شناخت کی ایک اہم علامت ہے۔ اپنے وجود کے سو برس میں یہ اکثر سیاست کی زد میں رہی ہے۔ ماضی کی حکومتیں اسے ایک اقلیتی تعلیمی ادارہ تسلیم کرتی آئی ہیں۔ آزادی کے بعد مودی حکومت پہلی مرکزی حکومت ہے جس نے مسلم یونیورسٹی کو مسلمانوں کا اقلیتی ادارہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں مسلم یونیورسٹی کی مسلم شناخت بھی شاید اس کے بانی کی طرح تاریخ کے صفحات میں کہیں گم ہو جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *