جیل میں لکھے گئے تاثرات

زاہدہ حنا

15اگست 2018کے چند غیر ملکی اخباروں میں برازیل کے سابق صدرکے تاثرات شایع ہوئے ۔ یہ انھوں نے جیل سے لکھ بھیجے تھے ۔ ہمارے ہاں نواز شریف کے لیے یا اس سے پہلے ذوالفقارعلی بھٹوکے لیے ممکن نہ تھا کہ وہ جیل سے کچھ لکھ بھیجیں اور ان کے تاثرات قومی اخبارات میں شایع ہو جائیں۔

میری نظر جب ان تاثرات پر پڑی تو میں نے انھیں دلچسپی سے پڑھا اور اب آپ کی خدمت میں پیش کر رہی ہوں۔ آپ بھی اسے نظرسے گزاریں اور یہ ضرور سوچیں کہ ترقی پذیر ملکوں میں سیاست اور سیاستدان کن مرحلوں سے گزرتے ہیں ۔

برازیل کے سابق صدرکی تحریر پیش کرنے سے پہلے لازم ہے کہ تھوڑی سی گفتگو جنوبی امریکا کے ملک برازیل کے بارے میں بھی ہوجائے جو دنیا بھر میں کافی کی پیداوار کے لیے مشہور ہے ۔فنانشل ٹائمز ورلڈ  ڈیسک ریفرنس ہمیں بتاتا ہے کہ یہ ایک آزاد ملک تھا لیکن یورپی ملکوں میں آس پاس یا دور دراز کے فوجی اعتبار سے کمزور ملکوں پر قبضے اور انھیں اپنی نو آبادی بنانے کی جو لہر آئی وہ برازیل پر بھی اثر انداز ہوئی ۔

پرتگال نے 1580میں اس پر قبضہ کیا اور اس وسیع و عریض ملک میں ہونے والے گنے کی کاشت سے سونا کاٹنا شروع کیا یہ کام اس قدر زیادہ تھا اور افرادی قوت اس حساب سے کم تھی، چنانچہ پرتگالیوں نے افریقی غلام درآمد کرنے شروع کیے اور ان سیاہ فام جوانوں کا زور بازو سفید شکرکی فصلوں کی کاشت میں استعمال ہونے لگا۔ برازیل سونے کی کان ثابت ہورہا تھا، اسی لیے دوسرے مغربی ملکوں نے بھی اس کا رخ کیا، ان میں ولندیزی اور فرانسیسی تاجر بھی شامل تھے ۔ یہ اسی طرح کا منظر نامہ تھا جو سولہویں، سترہویں اور اٹھارہویں صدی کے ہندوستان میں نظر آرہا تھا۔

ہندوستان پر بھی پرتگزیوں، ولندیزیوں اور فرانسییوں کی نگاہ کرم رہی ، آہستہ آہستہ پرتگزیوں نے اپنی حکومت مستحکم کرلی لیکن پھر 1807میں فرانسیسیوں نے پرتگال پر قبضہ کرلیا ۔ اس کے بعد برازیل میں اقتدارکی لڑائیاں ہوتی رہیں ۔ یہ ملک پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی خونی کشا کش سے بھی گزرا ۔ ملک میں فوج اور سیاستدانوں کے درمیان کشمکش رہی‘ کبھی یہاں کے عوام مطلق العنان حکمرانوںکے ظلم واستبداد کا ذائقہ چکھتے رہے اورکبھی جمہوریت پسند حکمران عوام کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش میں مصروف رہے ۔ برازیل پر یہ ستم بھی ہوا کہ 1985میں سویلین سینیٹر ٹاؤن کریڈو نیوی نے صدارتی انتخاب جیتا لیکن حلف اٹھانے سے پہلے دل کا شدید دورہ پڑنے سے ہلاک ہوگئے ۔

ان ہی دنوںاس ملک میں ناخواندہ لوگوں کو بھی ووٹ کا حق ملا ۔ 2 برس بعد اچانک برازیل کے ایک صوبے میں سونا نکل آیا جس کی وجہ سے سونا نکالنے والوں کی دوڑ لگ گئی ۔90 کی دہائی میں برازیل نے پہلی ارضیاتی سربراہ کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں دنیا کے تمام اہم ملکوں نے شرکت کی۔اس ماحولیاتی کانفرنس کی بنیاد پر برازیل کی عالمی ساکھ اور وقار میں بہت اضافہ ہوا لیکن سیاسی پارٹیوں کے درمیان کٹا چھنی چلتی رہی جس کے سبب ملک میں دائیں اور بائیں بازو کا تنازعہ بھی عروج پر رہا ۔

چند دنوں پہلے دنیا کے اخباروں میں برازیل کے سابق صدر لوئیز لولاڈا کا جو خط شایع ہو اہے،اس کا عنوان ہے ’’ میں جمہوریت چاہتا ہوں‘‘ انھوں نے لکھا ہے کہ اب سے 16برس پہلے برازیل سنگین بحران میں مبتلا تھا ، اس کا مستقبل غیر یقینی تھا ۔ہم نے خواب دیکھا تھا کہ برازیل دنیا کا ایک دولت مند اور ترقی یافتہ ملک ہوگا ۔ ہمارے لوگوں کا معیار زندگی یورپ کے دوسرے ملکوں کی طرح بلند ہوگا اور وہ بھی ایک پر آسائش زندگی گزاریں گے۔

20 برس کی آمریت کے خاتمے پر بہت سے زخم بھرے نہیں تھے۔ ہماری لیبر پارٹی نے ان ہی وعدوں پر انتخابات میں بھاری کامیابی حاصل کی اور میں بھاری ووٹوں کی اکثریت سے برازیل کا پہلا لیبر صدر منتخب ہوا ۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے8 برسوں میں ہماری جماعت نے غربت میں 50 فیصد کمی کا شاندارکارنامہ انجام دیا۔ وہ دو مرتبہ صدارتی عہدے پر فائز رہے ۔ اسی دوران کارکنوں کی اجرت میں 50 فیصد اضافہ ہوا ، بچوں کی تعلیم اتنی معیاری تھی کہ دوسرے ملکوں نے بھی اس کا اعتراف کیا ۔

برازیل نے ثابت کیا کہ غربت سے جنگ ہی ایک مناسب اور معقول پالیسی ہے جس کے ذریعے اقتصادی ترقی ممکن ہوسکتی ہے ۔ ترقی کے اس راستے میں روڑے اٹکائے گئے اور صدر ڈلماروزف کو غلط طور سے مقدمہ چلا کر عہدے سے ہٹا دیا گیا ۔ ان کے متعدد مخالفین نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ جن بنیادوں پر ان کے خلاف معزولی کا مقدمہ چلایا گیا وہ درست نہ تھا ۔ اس کے بعد لوئیز لولاڈا کو جیل میں ڈال دیا گیا ۔ واسلوا کا کہنا ہے کہ یہ برازیل میں سست روی سے ہونے والی وہ تبدیلی تھی جس کا مقصد ملک کی ترقی پسند طاقتوں کو حاشیے پر دھکیلنا اور ان کی جگہ رجعت پرست قوتوں کو اقتدار میں لانا تھا ۔ چند مہینوں بعد اکتوبر میں جو انتخابات ہونے والے ہیں، اس میں دائیں بازو والے اپنی اجتماعی طاقت سے لوئیز لولاڈاسلو کی شمولیت کو روکنے کے لیے کوشاں ہیں ۔

ان پر چلنے والے مقدمے کا فیصلہ صرف ایک گواہ کی شہادت پر ہوا جس کی قید کی مدت میں اس شرط پر کمی کی گئی کہ وہ سابق صدر کے خلاف بیان دے گا ۔ یوں اس گواہ نے اپنے مفاد میں ایک ایسی شہادت دی جس کی قانون اور انصاف کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں ۔ اقتدار پر قبضہ کرتے ہی دائیں بازو کے لوگوں نے آئین میں ایسی ترامیم کی ہیں جس کا براہ راست اثر محنت کش طبقات پر پڑے گا اور وہ آیندہ اپنے حقوق کی جنگ لڑنے میں کمزور ہوجائیں گے۔ برازیل کے سابق صدر پر بد عنوانی کے متعدد مقدمات بنائے گئے ہیں اور انھیں ہر قیمت پر ایک طویل عرصے کے لیے جیل میں رکھنے کے انتظامات کیے جارہے ہیں ۔

سابق صدر لوئیز لولاڈسلوا کے حوصلے اس کے باوجود پست نہیں ہیں۔ وہ جیل میں ہیں اور وہاں سے اکتوبر کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے پر عزم ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ میرے لوگ جانتے ہیں کہ میں ایک بدعنوان شخص اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کی بناء پر جیل میں نہیں ہوں۔ مجھے میرے سیاسی خیالات کی وجہ سے جیل میں دھکیل دیا گیا ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ جیل کی کوٹھری اور اس کی سلاخوں سے خوفزدہ نہیں ۔اس سے پہلے بھی فوجی آمریتوں کے دنوں میں وہ قیدوبند کی صعوبتیں جھیل چکے ہیں۔ وہ اس سے پہلے بھی اس لیے پس دیوار زنداں گئے تھے کہ وہ محنت کشوں، کسانوں اور غریب لوگوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں اپنی نہیں جمہوریت کی آزادی کے لیے لڑ رہا ہوں اور لڑتا رہوں گا ۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے عوا م پر انصاف اور انتخابی عمل پر مکمل ایمان ہے ۔اسی لیے میں جیل کی کوٹھری میں مطمئن ہوں ۔ آج نہیں توکل مجھے انصاف ملے گا ۔ سچ تو یہ ہے کہ انصاف آخرکار سر بلند ہوتا ہے ۔

برازیل کے سابق صدرکی کتھا کہانی پڑھ کر مجھے اپنا ایک زندانی یاد آتا ہے ۔ اس پر بھی بد عنوانی اور منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں ۔ وہ برطانیہ میں تھا لیکن یہ جانتے ہوئے بھی کہ اپنی اگلی پیشی پر وہ اپنی بیٹی کے ساتھ پاکستان واپس آیا تو ملک کی آزاد فضائیں اس پر حرام رہیں گی ۔ وہ اور اس کی بیٹی جیل میں ڈال دیے جائیں گے ۔ تین مرتبہ منتخب وزیراعظم رہنے کے باوجود اس پر جوگزر رہی ہے اس سے ہم سب واقف ہیں ۔ انصاف کس طرح سرنگوں ہے وہ بھی اگر سب کو نہیں توکچھ کو نظر تو آرہا ہے ۔ کل کیا ہوگا ہم نہیں جانتے ، برازیل اور ا س سے ہزاروں میل دور پاکستان کے ایک شہر میں کیا ہو رہا ہے؟کیا ہوگا ؟ ہم کچھ نہیں جانتے لیکن اس بات سے ضرور آگاہ ہیںکہ ایک غالباً اپنی تنہائی کو غالب کے اشعار سے پھیلا رہا ہے ۔ زیر لب دہرا رہا ہے ۔

احباب چارہ سازی وحشت نہ کرسکے

زندان میں بھی خیال ‘ بیاباں نورد تھا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *