پرانی یادیں

بھارتی صحافی، امن کے مبلغ اور ایڈیٹر کلدیپ نائر کی وفات نے بہت سی پرانی یادیں تازہ کر دی ہیں ۔ میں ذاتی طور پر ان سے مملا، ان کا انٹرویو لیا، بھارتی سیاست پر ان کی گفتگو  سنی،  اور پاکستان اور بھارت کے بیچ مذاکرات کی ناکامی جیسے اہم معاملات پر ان سے بات چیت ہوئی۔ وہ اردو زبان پر اس قدر مہارت رکھتے تھے کہ بی بی سی اردو کے لیے سب سے بہترین صحافی قرار پائے۔ جب کبھی وہ لندن جاتے تو  بُش ہاوس میں موجود بی بی سی ولڈ سروس کے ہیڈ کوارٹرز کا چکر ضرور لگاتے۔  اپنی زندگی میں وہ کئی بار واہگہ کراس کر کے اپنے ہم منصف صحافیوں سے ملے،  جن میں سب سے اہم عاصمہ جہانگیر تھیں ، وہ یہان امن کی آشا کے نام سے دیا جلاتے  اور 15 اگست کو پاکستان اور بھارت کی یوم آزادی کی خوشی ایک ساتھ مناتے۔

میں نے ایک بار کلدیپ کو بھارتی عوام کو بتاتے سنا کہ ان کا صحافتی کیریر آغاز اخبار کے ساتھ شروع ہوا تھا جو ایک اردو اخبار تھا۔ اس کے بعد انہوں نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں اردو اور انگلش دونوں زبانوں میں اپنا لوہا منوایا۔ وہ اردو سے انگلش صحافت کی طرف مولانا حسرت موہانی کی درخواست پر منتقل ہوئے۔  وہ اپنے ملک کے ایوان بالا میں بھی منتخب ہوئے اور برطانیہ میں بھارت کے ہائی کمشنر کے فرائض بھی سر انجام دینے کا اعزاز رکھتےہیں۔ لیکن میرے لیے ان کے کیریر کے سب سے اہم کارنامے ان کے امن کا پرچار کرنے اور اندرا گاندھی کے زمانہ میں آزاددی اظہار رائے کی خاطر گرفتاررہنے کے ہیں۔ وہ بھارت کے ایک جانے مانے اور شہرت یافتہ رپورٹر تھے۔ ان کی زندگی کا ایک اہم واقعہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خالق ڈاکٹر عبد القدیر کا انٹرویو تھا۔ یہ انٹرویو یکم مارچ 1987 کو شائع ہوا  جس میں پہلی بار ڈاکٹر قدیر نے انکشاف کیا کہ پاکستان ایٹم بم بنا چکا ہے ۔ اس قدر بڑے بیان کے بعد بھارت اور دوسرے مغربی ممالک میں کھلبلی مچ گئی اور کچھ مغربی ممالک  کو روس کی شکست کی خاطر پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا الزام دیا گیا۔

جب پاکستانی  حکومت اور سائنسدان نے اپنی رہائش گاہ پر دئیے گئے 70 منٹ کے اس انٹرویو کی مکمل تردید کی  تو اس پر ملک بھر میں کسی کو حیرانی نہیں ہوئی  لیکن اس خبر نے ایک ایڈیٹر کی نوکری خطرے میں ڈال دی۔ مشاہد حسین اس وقت اسلام آبادد کے ایک بڑے اخبار 'دی مسلم' کے ایڈیٹر تھے  انہوں نے جنوری کے اواخر میں بھارتی صحافی کی ڈاکٹر قدیر  سے ملاقات ان کے گھر پر کروائی ، تب پاک بھارت تعلقات سخت کشیدگی کے دور سے گزر رہے تھے۔ تعلقات کے کشیدہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ بھارتی فوجی پاکستانی سرحدوں کے آس پاس لائیو ہتھیاروں کے ساتھ جنگی مشقیں کر رہے تھے اور پاکستان کو شک تھا کہ کہیں وہ اس دوران پاکستان کی سرحدوں کو جنوبی پنجاب اور سندھ میں پامال نہ کر بیٹھیں۔ سی جی ایس لیفٹینٹ جنرل اسلم بیگ کو ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پلان تیار کرنے کا حکم دیا گیا تھا ۔ ان کا پلان یہ تھا کہ اگر بھارتی فوج جارحیت کرتی ہے تو پاکستانی فوج جواب میں کشمیر پر حملہ آور ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد فوجیوں کو اہم مقامات پر تعینات کرنے کا کام شروع کردیا گیا۔ میں نے تب ایک رپورٹ انڈیا ٹوڈے اخبا ر میں پڑھی  جس کے مطابق دسمبر 1986 سے جنوری 23 1987 تک  دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کی ہاٹ لائن خاموش رہی اور اس دوران سرحد پر سخت کشیدگی کا ماحول رہا کیونکہ پاکستان کو بھارتی فوجیوں کی براسٹیک نامی مشقوں پر سخت تحفظات تھے۔

کلدیپ نائر نے خود کہا کہ وہ ڈاکٹر قدیر کا انٹرویو لینے کے خواہش مند تھے  لیکن جنوری 1987 میں  انہیں مشاہد حسین نے بتایا کہ  پاکستانی ساائنسدان بھی ان کی اس خواہش کو پورا کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ سمجھا جارہا تھا کہ ایسے کشیدہ حالات میں کسی بھارتی صحافی کو سائنسدان تک رسائی دینے میں لازما وائس چیف آ ف آرمی سٹاف جنرل کے ایم عارف کا ہاتھ ہو سکتا ہے  جنہیں نیو کلیر ٹیکنالوجی پروگرام کی حفاظت پر معمور کیا گیا تھا۔ شاید اس رسائی اور انٹرویو کا مقصد  یہ تھا کہ بھارت کو بتایا جائے کہ پاکستان نے ایٹمی ہتھیار بنا لیے ہیں  اور پاکستانی فوج دشمن کی کسی بھی جارحیت سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ ایک ماہ تک یہ انٹرویو شائع نہ ہوا۔ اس دوران  خارجہ سیکرٹری لیول کے مذاکرات ہوئے اور کشیدگی میں کمی واقع ہوئی  کیونکہ دو بڑے ڈپلومیٹ عبد الستار اور الفریڈ گونسلیو نے تمام اختلافی مسائل کا حل ڈھونڈ نکالا تھا۔

جب نیو کلیر سٹوری کھل کر سامنے آئی تو پرائم منسٹر محمد خان جونیجو نے  اس پر خاموش رہنے کا فیصلہ کیا ۔ مجھے یاد ہے کہ وزیر اعظم ہاوس سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ دی مسلم  کو بند کر دیا جائے گا کیونکہ  اس ادارے کے ایڈیٹر کو سکیورٹی بریچ کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا تھا۔ مشاہد حسین نے خود کو روک لیا۔ اس پر اخبار کر جاری رکھنے کی اجازت مل گئی۔ جونیجو کی پریشانی جائز تھی کیونکہ انٹرویو کی ٹائمنگ  ایسی تھی کہ امریکی قانون دانوں نے پاکستان پر پابندیاں لگانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اچھی بات یہ ہوئی کہ بھارت اور پاکستان کے بیچ جنگ شروع نہ ہو سکی  لیکن اس کشیدگی کو اس انٹرویو کے ساتھ بھی نہ جوڑا جا سکا۔ کچھ لوگوں کے مطابق اسلم بیگ کو عہدے سے ہٹانے کی وجہ سے یہ ممکن ہوا تھا  کیونکہ یہ فیصلہ اچانک کیا گیا تھا جس کی کوئی توقع نہیں کی جا رہی تھی۔ یہ ہو بھی سکتا ہے۔  کلدیپ نائر کی روح کو  سکون  ملے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *