انصاف پر مبنی نظامِ محصولات

ڈاکٹر اکرام الحقikram

محصولات کی وصولی کا موجودہ نظام ناانصافی پر مبنی ہے کیونکہ ایک طرف تو یہ د ولت مندوں کا تحفظ کرتا ہے تو دوسری طرف غریبو ں پر بھاری ٹیکس عائد کرتا ہے۔ ٹیکس کا یہ ظالمانہ نظام عام آدمی کا خون نچوڑتے ہوئے سیاست دانوں، سول اور ملٹری افسران پر مشتمل گروہ کو پر تعیش زندگی کا موقع اور وسائل فراہم کرتا ہے۔ معاشرے کے طاقتور دھڑے نہ صرف ٹیکس ادا کرنے سے گریزاں ہیں بلکہ یہ نظام انہیں دولت میں بے پناہ اضافہ کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ طبقہ ریاست کی زمین تقریباً کوڑیوں کے مول یا مفت میں ہی حاصل کرلیتا ہے۔ افسوس ناک بات یہ کہ ایک ایسے ملک میں جہاں ہرروز رئیل اسٹیٹ اور شیئرز کی خریدوفروخت اربوں روپوں میں ہووہاں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح انتہائی کم ، صرف 9.6 فیصد، ہے۔ تاہم حکومت غیر دستاویزی معیشت اور کسی دوسرے شخص کے نام سے کیے گئے لین دین پر ٹیکس لگانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ طاقتور دھڑوں کا آلہ کار بن کر ایف بی آر بھی انہیں سہولت فراہم کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھتا۔ دس اپریل 2015کو شائع ہونے والی ٹیکس ڈائرکٹری 2014سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ پورے پاکستان میں صرف 52,349 افراد یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اُن کی قابلِ ٹیکس آمدن پانچ لاکھ سے زائد ہے۔ دراصل کسی بھی منصفانہ ٹیکس سسٹم میں کسی فرد کی ٹیکس ادائیگی کا تعین کرنا اہم مسلۂ ہوتا ہے۔ یہ اصول متحرک نرخوں پر ذاتی انکم ٹیکس ، پراپرٹی ٹیکس اور کچھ ریاست کی طرف سے عائد کردہ ڈیوٹی پر دنیا میں مستعمل ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد غیر منقولہ جائیداد پر ڈیوٹی اور ویلتھ ٹیکس وصول کرنے کا حق صوبوں کو تقویض کیا گیا ، لیکن کسی بھی صوبے نے 2010سے لے کر اب تک ان واجبات کو نافذ نہیں کیا۔
آج پاکستان کی شدید ضرورت ہے کہ وی آئی پی کلچر، اشرافیہ اور بڑے بڑے پلاٹ اور منافع بخش کاروبار رکھنے والے افراد کی اجارہ داری کو توڑتے ہوئے گورننس، محصولات کی شرح اور پیداوار کو بڑھایا جائے۔اس کے ساتھ ساتھ وسائل کا بے جا اسراف کرنے والی بدعنوان افسرشاہی سے سخت باز پرس کی جائے اور غیر پیداواری اخراجات اور عوامی نمائندوں کی طرف سے ٹیکس دہندگان کی رقم پر عیاشی کرنے کی روایت کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ دراصل ہمیں اتنی بھاری بھرکم کابینہ اور ریاستی مشینری کی ضرورت نہیں۔ اس کی بجائے ہمیں اپنے وسائل بڑھانے ، صنعت کاری کو فروغ دینے ، کھیتوں او ر کارخانوں کی پیداوارمیں اضافہ کرنے ، زراعت میں سرمایہ کاری کرنے اوردولت کی از سرِ نو تقسیم کی پالیسی بناتے ہوئے قومی دولت کو بڑھانے کی طرف توجہ دینی چاہیے کیونکہ اسی طرح ہم خود انحصاری کی منرل حاصل کر سکتے ہیں۔ عقل حیران ہے کہ حکومت کا اس کے سوا اور کیا مقصد ہوتا ہے؟ اگر یہ سب کچھ نہیں اور محض عوام سے جیسے تیسے ووٹ لے کر پانچ سال تک ان کی رقوم پر عیاشی کرنی ہے تو اسے جمہوریت نہیں کچھ اور قرار دیا جانا چاہیے۔
یہ درست ہے کہ ہمیں بہت سے مسائل کا سامنا ہے لیکن میرے نزدیک سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ملک میں ٹیکسز کی بھرمار ہے لیکن محصولات کے فوائد غریب عوام تک نہیں پہنچ پارہے۔دنیا بھر کی ریاستی تاریخ کا مطالعہ کرلیں اور بتائیں کہ کیا کسی ریاست کے قیام کی کوئی اور بھی غرض وغایت ہوتی ہے؟بلکہ ہمارے ہاں یہ معاملہ مہذب دنیا کے برعکس ہے ۔ تمام دنیا میں دولت مند افراد سے ٹیکس وصول کرکے غریبوں کو سہولیات فراہم کی جاتی ہیں لیکن یہاں غریب عوام سے جبری ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جبکہ پہلے سے ہی دولت مند اُس رقم پر پلتے ہیں۔ ہمارے حکمران ٹیکس کے نظام میں اصلاحات لانے میں یکسر ناکام ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی بنک اور دیگر مالیاتی اداروں سے بھاری قرضے حاصل کرنے کے باجوود ہماری معیشت جمود کا شکار ہے۔ ٹیکس ریفارمز بہت مشکل مرحلہ نہیں لیکن اس کے لیے طاقت ور دھڑوں کی مخالفت مول لینا پڑے گی۔ اگرہمیں کسی انقلابی رہنما کی ضرورت ہے تو وہ یہی میدان ہے... ایک ایسابے خوف رہنما جو ٹیکس کا منصفانہ نظام بنائے اور ٹیکس وصول کرکے دکھائے ۔ اس کے یہ رقم منصفانہ طور پر غریب عوام پر خرچ ہو۔ بس یہی ہے کہ ایک فلاحی ریاست کا تصور۔ اس کے سوا باقی سب سیاست ہے۔
ٹیکس اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے۔ پاکستانی قوم کا شمار اُن اقوام میں ہوتا ہے جن پر بہت سے ٹیکس عائد ہیں۔ اگر مقامی ، صوبائی اور وفاقی محصولات کی کل تعداد کو جمع کیا جائے تو مجموعہ پچاس کے قریب بنتا ہے۔ اس سے بھی تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ٹیکس کا موجودہ نظام تکلیف دہ حد تک پیچیدہ ہے۔ اس میں ایماندار افراد کو سزا ملتی ہے کیونکہ وہ اپنی بچت اور سرمایہ کاری سے محروم ہوتے جاتے ہیں جبکہ کائیاں افراد ٹیکس بچانے کی بہت سی راہیں تلاش کرلیتے ہیں۔ ٹیکس افسران کا رویہ ایماندار شہریوں کے ساتھ دشمنوں جیسا جبکہ ٹیکس چوروں کے ساتھ دوستانہ ہے۔
کسی بھی ملک میں ٹیکس کا نظام سماجی اورمعاشی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کی روحِ رواں ہے۔ اس کے بغیر جتنے بھی منصوبے بنالیں، سب اکارت جائیں گے، یا پھر آپ کو ان کے لیے بیرونی ذرائع سے قرض لینا پڑے گا۔ اس قرض کو بوجھ آخر کار پھر اسی غریب آدمی پر پڑے گا جس کو فائدہ پہنچانے کے لیے یہ منصوبہ بنایا جانا تھا۔ چنانچہ ضروری ہے کہ قومی سطح پر ایک قابلِ عمل ٹیکس پالیسی بنائی جائے۔ ایسا کرتے ہوئے اپنے معروضی حالات ، نہ کہ قرض فراہم کرنے والوں کی شرائط، کو مدِ نظر رکھا جائے۔دیکھنے میں آیا ہے کہ قرض دینے والے ادارے ایسی پالیسی بنانے پر زور دیتے ہیں جواُن کے مفاد کا تحفظ کرے۔ یادرہے کہ معاشی پالیسیاں ساکت وجامد نہیں بلکہ متحرک ہوتی ہیں۔ ان پر نظر ثانی کرتے رہتے اور ان میں نت نئی اصلاحات لانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہمارے لیے ضروری ہے کہ آنے والے بجٹ 2015-16کو ایک ٹول کی استعمال کرتے ہوئے ٹیکس کے نظام میں اصلاحات لائیں۔ اس ضمن میں پوری سیاسی طاقت استعمال کی جائے۔ درحقیقت اگر سیاسی جماعتوں کوکسی بات پر ہنگامی بنیادوں پر اکٹھا ہوکر قومی اتفاقِ رائے کا مظاہرہ کرنا ہے تو وہ یہی ہے۔ تاہم اس وقت ہماری قومی ترجیحات ایسی ہیں کہ سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے۔ حکومت یا اپوزیشن جماعتیں، کوئی بھی ٹیکس کے نظام کی اہمیت کو نہیں سمجھتی ، اس کے باوجود سبھی جمہوریت کے چمپئن کہلاتے ہیں۔ پتہ نہیں یہ جماعتیں جمہوریت کا کیا مطلب سمجھتی ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ عوام اپنے ووٹ سے نمائندوں کو حق اور طاقت دیتے ہیں کہ وہ ایسا نظام وضع کرے جو دولت مند افراد سے محصولات لے کر کم وسائل رکھنے والوں پر خرچ کرے۔ اس میدان کے ایک ماہر ، رائے گبن (Roy Gobin) کے مطابق...’’
محصولات کے لیے پیمانہ وضع کرنے کے لیے اچھی طرح سوچ بچار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ترقی پذٰر ممالک کی حکومتیں اس بات سے آگاہ ہوچکی ہیں کہ وہ بجٹ سے کیا کچھ حاصل کرسکتی ہیں۔ وہ بجٹ کے ذریعے ملکی پیداوار میں اضافے کی بجائے اپنی سیاسی طاقت بڑھانے کی طرف دیکھتی ہیں۔ ‘‘پاکستان میں یکے بعددیگرے مختلف حکومتیں، چاہے وہ فوجی تھیں یا سول، نے ٹیکس کے نظام میں اصلاح کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ کیا اب بھی ، جبکہ ہم ایشیائی ٹائیگر بننے کا خواب دیکھنے لگے ہیں، اس کا وقت نہیں آیا؟ کیا ہم ٹیکس کے نظام میں اصلاح کیے بغیر بھی ترقی کرسکتے ہیں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *