مخدو م صاحب ہی پورا سچ بیان کردیں

ٹرمپ انتظامیہ کی رعونت کو میں معمول کے طورپر لیتا ہوں۔ اس کے باوجود واشنگٹن کے چند فیصلے اپنی ٹائمنگ کی وجہ سے مجھے حیران کردیتے ہیں۔ ہفتے کے دن لیا وہ فیصلہ بھی کچھ ایسا ہی ہے جس کے ذریعے پاکستان کے لئے مختص ہوئے 300ملین ڈالر ادا نہ کرنے کا اعلان ہوا۔ اس فیصلے کے ساتھ دو پاکستانی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے کی خبر بھی تھی۔ یہ کمپنیاں پاکستان کے میزائل پروگرام کےلئے کچھ سامان فراہم کرنے پر معتوب ہوئیں۔ یہ بات عیاں ہے کہ مشتبہ ٹھہرایا میزائل پروگرام کسی نہ کسی طرح پاکستان کے اس عزم کی تکمیل میں مصروف ہے جس کے ذریعے ہم اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو جدید تر بنانا چاہ رہے ہیں۔
مذکورہ فیصلوں کی ٹائمنگ نے حیران اس لئے کیا کیونکہ 5ستمبر2018کے روز امریکی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد متوقع ہے۔ امریکی افواج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے سربراہ بھی موصوف کے ہمراہ ہوں گے۔ پاکستان آمد سے چند روز قبل امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کے نومنتخب وزیر اعظم کو ٹیلی فون بھی کیا تھا۔
ہماری حکومت کا دعویٰ ہے کہ مائیک پومپیو کے فون کا اصل مقصد عمران خان صاحب کو وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے پر مبارک باد دینا تھا۔روایتی مبارک بادی کے بعد دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو خوش گوار اور دوستانہ بنانے کی خواہش کا اظہار بھی ہوا۔
امریکی وزارتِ خارجہ نے لیکن اس گفتگو کے بعد جو پریس ریلیز جاری کی اس کے اختتامی پیرے میں اطلاع یہ بھی دی گئی کہ پاکستانی وزیر اعظم سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے ہمارے ملک میں مبینہ طورپر موجود دہشت گردوں کے خلاف Decisive(فیصلہ کن)اقدامات اٹھانے کا مطالبہ بھی دہرایا۔ مذکورہ دعوے کی پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے فوری طورپر سفارتی طورپر سخت محسوس ہوتے ہوئے الفاظ میں تردید کردی۔ جوابِ آں صحافیوں کو اپنے دفتر میں بریفنگ دیتے ہوئے امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان اپنے دعوے پر ڈٹی رہی۔ معاملہ اگر دو ترجمانوں کے مابین ایک دوسرے کی تردید تک محدود رہتا تو بالآخر رات گئی بات گئی ہوجاتا۔
ہمارے وزیر خارجہ مگر ایک قدم آگے بڑھ گئے۔پاکستان کے ایوانِ بالا میں کھڑے ہوئے اور بہت شدت سے یہ بات دہراتے رہے کہ ان کے ہم منصب نے پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ Do Moreوالی بات سرے سے کی ہی نہیں۔ ”وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا“والا مصرعہ بھی پڑھا۔ میں نے ان کی بات پر اعتبار کیا۔ امریکی وزارتِ خارجہ کو جھوٹا شمار کیا۔ یہ سوچتے ہوئے مجھے بش انتظامیہ کے وہ دعوے بھی یاد آتے رہے جن کے ذریعے صدام حسین کے عراق کو Weapons of Mass Destructionتیار کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ وہ صفائیاںدیتا رہا مگر امریکہ نے مبینہ ہتھیاروں کو تباہ کرنے کے بہانے اس کے ملک پر چڑھائی کردی۔ وہاں سے امریکی قبضے کے بعد ہتھیار تو برآمد نہ ہوئے۔مشرقِ وسطیٰ کا تیل سے مالا مال اور قدیم ترین تہذیبوں کا وارث ملک مگر تباہ وبرباد ہوگیا۔عمران خان صاحب کی حکومت قائم ہوئے ویسے بھی ابھی ایک مہینہ بھی نہیں گزرا۔ اس کے دعوﺅں کو لہذا کھلے ذہن کے ساتھ لینے پر مجبور ہوں۔ خاص طورپر اس صورت جب ان کا تعلق حساس قومی مفادات سے ہو۔
پاکستانی وزیر خارجہ کے دھواں دھار بیان کے بعد واشنگٹن میں خاموشی چھاگئی۔میں نے اس خاموشی کو اعترافِ گناہ کا مظہر جانا۔ دل میں اگرچہ یہ خدشہ کھٹکتا رہا کہ 5ستمبر کو پاکستان آنے کے بعد امریکی وزیر خارجہ اسلام آباد میں ہوئی ملاقاتوں کے دوران Do Moreکا تقاضہ کرتا رہے گا۔ اس کی آمد سے تین روز قبل ہی مگر ہماری رقم روکنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ اصولی طورپر اس مالی سال میں اسلام آباد کو واشنگٹن سے دفاعی اور سلامتی امور کے حوالے سے ہماری مدد کے لئے قرض یا امداد کے نام پر ایک ڈالر بھی نہیں ملے گا۔ یہ سب کرنے کے بعد فوری سوال ذہن میں یہ آتا ہے کہ ہماری ہر طرح کی امدادروکنے کے بعد کیا امریکہ اپنے وزیر خارجہ کو اسلام آباد پنجابی محاورے والے ”امب کھانے“ بھیج رہا ہے۔ یہاں ہوئی ملاقاتوں کے دوران اب یقینا ”سبق سکھانے والی“ باتیں ہوں گی۔
ایسی باتوں کے امکان کے بارے میں دکھ اس لئے مزید محسوس ہورہا ہے کہ اسلام آباد میں اپنی مصروفیات سے فارغ ہونے کے بعد مائیک پومپیو نے فوراََ بھارت روانہ ہوجانا ہے۔ ہمارے ازلی دشمن ٹھہرائے ملک میں وہ ا پنے وزیر دفاع کے ساتھ مل کر بھارتی وزیر دفاع اور وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کرے گا۔ ان ملاقاتوں کو "2+2"کا عنوان دیا گیا ہے۔ مقصد ان کا امریکہ اور بھارت کے مابین دفاعی تعلقات کو توانا تر بنانا ہے۔
300ملین ڈالر کی جس رقم کی ادائیگی منسوخ ہوئی وہ اپنے حجم کے اعتبار سے اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے۔ اس رقم کی لیکن علامتی اہمیت سنگین مضمرات کی حامل ہے۔ پاکستان کو اس وقت شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔ بنیادی وجہ اس کی ہماری برآمدات سے ہوئی آمدنی اور درآمدات پر ہوئے خرچ کے مابین خوفناک دکھتا فرق ہے۔ عمران خان صاحب کے لگائے وزیر خزانہ فرماتے ہیں کہ پاکستان کو کاروبارِ گلشن چلانے کے لئے 9ارب ڈالر درکار ہیں۔غیر جانبدار معاشی ماہرین اگرچہ یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ 14ارب ڈالر کا بندوبست کرنا ہوگا۔ اتنی خطیر رقم فقط IMFہی فراہم کرسکتا ہے۔ امریکہ کا اس ادارے میں اثر حتمی ہے اور اس کے وزیر خارجہ نے اعلان کررکھا ہے کہ وہ امریکی ڈالر کو پاکستان کی جانب سے چین کی طرف سے ملے قرضوں کی ادائیگی کے لئے استعمال نہیں ہونے دے گا۔سادہ ترین لفظوں میں امریکہ پاکستان کو یہ بتارہا ہے کہ IMFسے رقم چاہیے تو CPECکو بھول جاﺅ۔
امریکہ ہی کی شکایت پر ہمیں FATFکی گرے لسٹ پر ڈال دیا گیا ہے۔ ”دہشت گردوں“ کا اس ضمن میں بھی کافی ذکر ہوا اور اب مبینہ طورپر دہشت گردوں کی پاکستان میں محفوظ پناہ گاہوں کے بارے میں Decisive Actionلینے کا کہا جارہا ہے۔
امریکی وزارتِ خارجہ کا منصب سنبھالنے سے قبل پومپیو سی آئی ا ے کا سربراہ تھا۔ گزشتہ برس دسمبر میں اس نے مذکورہ ا دارے کے سربراہ کی حیثیت میں یہ دھمکی دی تھی کہ اگر پاکستان نے Do Moreوغیرہ نہ کیا تو امریکہ ازخود کارروائیوں کے لئے تیار ہے۔ 5ستمبر کو اسلام آباد آنے کے بعد شاید وہ ممکنہ کارروائیوں کا تذکرہ بھی کرے۔ مجھے قوی امید ہے کہ اگر ایسی دھمکی آمیز گفتگو ہوئی تو اس کی اطلاع ہمیں امریکی وزارتِ خارجہ کی پریس ریلیز کے ذریعے نہیں ملے گی۔مخدوم شاہ محمود قریشی صاحب ہی پورا سچ بیان کردیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *