حقانی نیٹ ورک کے بانی جلال الدین طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے

کابل: افغانستان پر انتہائی اثر و رسوخ رکھنے والے عسکری گروہ حقانی نیٹ ورک کے بانی جلال الدین حقانی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔

اس بات کی تصدیق ان کے بیٹے سراج الدین حقانی نے اپنے بیان میں، جو افغان طالبان کے نائب امیر بھی ہیں۔

افغانستان کے خبر رساں ادارے طلوع نیوز کے مطابق جلال الدین حقانی گزشتہ کئی سالوں سے علیل تھے، جس کی وجہ سے وہ طویل عرصے سے منظر عام سے غائب تھے۔

انہوں نے رضاکارانہ طور پر اپنے عسکری گروہ کی عملی سربراہی 2001 میں اپنے بیٹے سراج الدین حقانی کے سپرد کردی تھی۔

طالبان کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا گیا کہ جلال الدین اپنے دور کی عظیم جہادی شخصیت تھے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق 80 کی دہائی کے دوران جلال الدین حقانی نے امریکا کی مدد سے افغانستان پر سوویت یونین کے قبضے کے خلاف افغان جنگ کی سربراہی کی تھی۔

امریکی کانگریس کے رکن چارلی ولسن کے دورہ کے دوران اپنی تنظیم اور بہادری کی وجہ سے وہ امریکی ادارے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کی نظروں میں آئے۔

افغان جنگ کے دوران اسامہ بن لادن سمیت عرب ممالک سے آنے مجاہدین سے ان کے گہرے تعلقات تھے اور اس دوران ان کے سعودی اور پاکستانی اداروں کے ساتھ رابطے بھی تھے جبکہ طالبان دورِ حکومت میں وہ وزیر کے عہدے پر بھی فائز رہے۔

تاہم ان کے انتقال کے حوالے سے یہ واضح نہیں ہوسکا کہ وہ کس مرض میں مبتلا تھے جبکہ اس سے قبل 2008 اور 2015 میں بھی ان کے انتقال کی افواہیں پھیلی تھیں۔

حقانی نیٹ ورک

حقانی نیٹ ورک پر افغانستان میں امریکی قبضے کے بعد سے انتہائی مہلک حملے کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے.

اس کے ساتھ افغانستان میں یہ بات بھی زبان زدَ عام ہے کہ کابل میں ہونے والے حالیہ حملوں کے پیچھے بھی حقانی نیٹ ورک ملوث ہے جس کی ذمہ داری داعش سے تعلق رکھنے والے مقامی گروہ نے قبول کی تھی۔

واضح رہے امریکا کی جانب سے دہشت گرد گروہ قرار دیے جانے والے حقانی نیٹ ورک پر بہت زیادہ خود کش حملے کرنے کا بھی الزام عائد کیا جاتا ہے۔

اس کے ساتھ انہیں افغان کے اعلیٰ عہدیداروں کے قتل اور غیر ملکیوں کے اغوا میں بھی ملوث ٹھہرایا جاتا ہے۔

جلال الدین نے حقانی نیٹ ورک کی بنیاد رکھی لیکن وہ طالبان کے بانیوں میں شامل نہیں تھے، انہوں نے کابل پر طالبان کے قبضے سے کچھ عرصہ قبل 2015 میں ان کی بیعت کی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *