احساسِ زیاں

کلثوم نواز شریف اس جہانِ فانی کو چھوڑ کر اپنے اللہ کے ہاں حاضر ہو گئیں۔ رب العزت ان کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے۔ مرحومہ ایک بہادر اور دلیر خاتون تھیں۔ مجھے یقین ہے کہ میاں نواز شریف نے اس بار والی بہادری ان سے مستعار لی ہے اور مریم نواز شریف نے دلیری اپنی ماں سے ورثے میں پائی ہے۔
مرحومہ ایک خالص گھریلو اور غیر سیاسی خاتون تھیں لیکن نہایت مجبوری کے عالم میں بہت تھوڑے عرصے کے لیے میدان سیاست میں آئیں اور بلا مبالغہ ایک ڈکٹیٹر کی ''بس‘‘ کروا دی۔ مجھے گمان ہے کہ اگر میاں نواز شریف کی جدہ روانگی کے باعث بیگم صاحبہ کو بھی ان کے ہمراہ جدہ نہ جانا ہوتا تو وہ پرویز مشرف کو ناکوں چنے چبوا دیتیں۔ اس مختصر سے عرصے میں انہوں نے اپنی ثابت قدمی اور بہادری کا وہ نقش چھوڑا کہ پاکستانی سیاست میں مزاحمتی حوالے سے یہ ہمیشہ یادگار رہے گا۔ انہوں نے مسلم لیگ ن کی صدارت‘ جو اس وقت کانٹوں کا ہار تھی‘ اپنے گلے میں ڈالی اور ایسی دلیری دکھائی جو اس وقت شاید کسی مرد سے بھی ممکن نہیں تھی۔
ایک دو لکھنے والوں نے بیگم صاحبہ کی اس بہادری اور جدوجہد میں ثابت قدمی کو ''مردانہ وار‘‘ بہادری سے تشبیہہ دی ہے۔ میرے خیال میں ان کی اس دلیری کو ''مردانہ وار‘‘ کہنا دراصل ان کی دلیری کو کمتر کرنے کی کوشش ہے کہ تب مسلم لیگ کے بہت سے بلکہ اکثر ''مرد‘‘ اس مردانہ واری والے معاملے میں زیرو ثابت ہوئے تھے۔ ان کی بہادری، دلیری اور ثابت قدمی کو کسی سے نہیں بلکہ ان کی اپنی ذات سے ہی تشبیہہ دی جانی چاہئے۔
جونہی معاملات کسی نہج پر پہنچے وہ واپس اپنی اسی دنیا میں چلی گئیں جہاں سے نکل کر انہوں نے مسلم لیگ ن کی قیادت سنبھالی تھی‘ اور پھر دوبارہ پلٹ کر بھی سیاست کی طرف نظر نہ کی ۔ یہ آخر میں حلقہ این اے 120 کا الیکشن بھی انہوں نے کب لڑنا چاہا ہو گا اور لڑا بھی کب؟ یہ تو ان کے نام جڑ دیا گیا اور بد قسمتی سے وہ جیتنے کے بعد بھی اپنی صحت کے حوالے سے اس قابل نہ تھیں کہ حلف ہی اٹھا سکتیں۔ سو یہ کہانی بھی کہیں درمیان میں ہی رہ گئی‘ لیکن ان کی بیماری نے بہت سی کہانیوں کو جنم دیا اور ہماری سیاسی نا پختگی اور عدم برداشت اپنی بد ترین شکل میں کھل کر سامنے آ گئے۔
ہمارے ہاں سیاست کس حد تک نیچے جا سکتی ہے اس کا مظاہرہ بیگم کلثوم نواز شریف کی اس جان لیوا بیماری کے دوران ہوا اور بہت سے معقول اور مہذب نظر آنے والے لوگ بھی اخلاقی سطح پر بڑے چھوٹے ثابت ہوئے۔ ہر کسی نے اپنی استطاعت کے مطابق کہانیاں گھڑیں۔ حتیٰ کہ بعض ظالموں نے تو یہ تک مشہور کر دیاکہ وہ وفات پا چکی ہیں‘ ان کی موت کی خبر کو چھپایا جا رہا ہے اور ''مناسب وقت پر‘‘ آئوٹ کیا جائے گا۔ حیرت ہوتی ہے کہ کوئی سیاسی مخالفت میں کس حد تک گر سکتا ہے؟ بھلا موت کی خبر چھپا کر اسے کس طرح کے ''مناسب وقت‘‘ پر آئوٹ کیا جا سکتا ہے؟ کبھی وینٹی لیٹر کے لطیفے بنائے گئے۔ کبھی ہسپتال کے وجود سے انکار کیا گیا۔ کبھی اسے میاں نواز شریف کے ملک سے باہر جانے کے لیے بہانہ قرار دیا گیا۔ کسی نے واپس نہ آنے کا جواز بتایا۔ کبھی افواہ اڑی کہ میاں صاحب واپسی کا سفر شروع کریں گے اور جونہی وہ دوبئی ایئر پورٹ پر اتریں گے‘ اس موت کی خبر کو آئوٹ کیا جائے گا اور پھر میاں صاحب اس کو جواز بنا کر واپس انگلینڈ روانہ ہو جائیں گے۔ یعنی واپسی کا تاثر بھی دیں گیا ور واپس آئیں گے بھی نہیں۔ لیکن کچھ بھی نہ ہوا اور بیگم صاحبہ بیماری کی حالت میں، بلکہ زندگی اور موت کی کشمکش میں لندن رہ گئیں اور میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف نے اڈیالہ کی راہ لے لی۔ کہنے کو بڑی آسان بات ہے مگر اپنی شریک حیات کو اس حالت میں چھوڑ کر آنے کے لیے کس ہمت اور دل گردے کی ضرورت تھی‘ یہ عاجز اس سے بخوبی آگاہ ہے کہ اسے بھی ایسے حالات سے پالا پڑ چکا ہے؛ تاہم ایسے بے رحم فیصلے تک پہنچنے کی نوبت نہ آئی۔
مخالف سیاستدانوں، لکھاریوں، اینکروں اور سیاسی ورکروں کی ایک فوج ظفر موج تھی جو اس بیماری پر نمبر سکور کر رہی تھی۔ ایک دو معقول دوست اس ساری صورتحال پر بڑے ملول تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی افسوسناک صورتحال میں اس قسم کی گرد نہیں اڑانی چاہئے۔ ان کا مؤقف تھا کہ نواز شریف فیملی کو بھی اس معاملے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنی چاہئے کہ ان کی طرف سے بھی، خواہ حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں اس معاملے کو سیاست سے بالکل علیحدہ رکھنا چاہئے لیکن ان کے مخالفین کو تو اور بھی زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کہ پہلے سے مشکل کا شکار شریف خاندان پر طنز اور لطیفہ سازی جیسے تیر چلانا کسی طور پر ایسا نہیں کہ اسے پہلے سے برباد شدہ سیاسی اخلاقیات میں نئی انٹری دی جائے۔
ہماری سیاست آہستہ آہستہ عدم برداشت کی ساری حدیں عبور کرتی جا رہی ہے۔ ہم اپنے مخالف کو زندہ رہنے کا حق دینے سے بھی آہستہ آہستہ ہاتھ کھینچنے پر آ گئے ہیں۔ ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے اور گالی گلوچ کی سیاست تو اب پرانا قصہ ہے۔ اب تو معاملات اس سے بھی آگے نکل چکے ہیں۔ ٹی وی کے پروگراموں میں بظاہر مہذب نظر آنے والے کئی سیاستدانوں نے اپنی تہذیب اور تربیت کا مظاہرہ پوری قوم کو کئی بار دکھایا ہے۔ ایسی ایسی شرمناک گفتگو اور ایسے ایسے لغو الزامات کہ خدا کی پناہ۔ دوسروں پر لکھوائی جانے والی کتابوں میں ایسے ایسے موضوعات اور ایسی ایسی باتیں کہ کسی عزت دار جگہ پر اس بارے گفتگو نہیں ہو سکتی لیکن زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا کسی شخص کے بارے میں تو سخت دل سے سخت دل بھی کئی بار سوچتا ہے اور بات کرتا ہے تاہم اس بار تو حد ہی ہو گئی۔ 
اب لوگ شرمندہ ہیں۔ بیگم صاحبہ کی دنیا سے رخصتی کے بعد شرمسار ہیں۔ لیکن کیا یہ شرمساری اس دکھ کا مداوا بن سکتی ہے، جس کا سامنا فیملی والوں نے کیا؟ لیکن حیرانی تو یہ ہے کہ کئی لوگ اب بھی شرمندگی محسوس نہیں کر رہے۔ اور اگر کر رہے ہیں تو اس کا اظہار کرنے میں شرم محسوس کر رہے ہیں۔ اگر انہیں تب شرم نہیں آئی تھی تو انہیں اب بھی نہیں آنی چاہئے‘ کہ شرم یا آتی ہے اور یا پھر بالکل ہی نہیں آتی۔ ٹھیک ہے عدل و انصاف کا دل نہیں ہوتا مگر وہ پتھر دل بھی نہیں ہوتا کہ جب دل ہی نہیں تو پھر پتھر کا بھی کیسے ہو سکتا ہے؟
مورخہ گیارہ ستمبر کو بیگم کلثوم نواز شریف اس تکلیف سے آزاد ہو گئیں‘ جس میں وہ گزشتہ ایک سال سے مبتلا تھیں۔ انہوں نے ہارلے سٹریٹ کلینک میں آخری سانسیں ایسی حالت میں لیں کہ ان کا ہاتھ اس ہاتھ کی گرفت میں نہیں تھا‘ جس کے بارے میں ہمارے ہاں روایت ہے کہ اس گھر میں دلہن بن کر جا رہی ہو‘ اب وہاں سے تمہارا جنازہ اٹھنا چاہئے۔ نہ ہاتھ اس ہاتھ میں تھا اور نہ گھر وہ گھر تھا۔
بیگم صاحبہ کی رخصتی میں ہمارے لیے ایک سبق ہے کہ سیاسی مخالفت اور اخلاقی اقدار بالکل دو مختلف چیزیں ہیں‘ ان کے درمیان حدِ فاصل رہنی چاہئے۔ بیگم کلثوم نواز شریف نے صرف ہمیں پیغام نہیں دیا بلکہ رو بہ انحطاط اقدار کے منہ پر تھپڑ مارا ہے۔ لندن کے ہارلے سٹریٹ کلینک سے ایک زوردار تھپڑ۔ اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ تھپڑ اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد مارا ہے۔ خدا جانے کسی کو محسوس ہوا ہے یا نہیں کہ ایسی باتیں بھی احساس کی مرہونِ منت ہیں اور اسی چیز کا تو سارا رونا ہے۔ کم از کم احساسِ زیاں تو باقی رہنا چاہئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *