قائد کو بس ایک نظر دیکھنا ہے

"ذوالقرنین طاہر"

جاتی عمرہ کی طرف جانے والے سڑک تا حد  نظر گاڑیون سے بھری پڑی تھی۔ ہر قسم اور سائز کی گاڑیاں وہاں موجود تھیں۔ سیاستدانون کی شاندار رنگین گاڑیاں، ان کے سکیورٹی گارڈز کی گاڑیاں،  عام استعمال کی گاڑیاں ، بڑی بڑی کوسٹرز  جن میں پارٹی ورکرز سوار تھے جن میں سے نے 400 کلومیٹر سفر کر کے اپنے لیڈر  کے دیدار کا خواب سجا رکھا تھا سب اس سڑک پر اپنی منزل کے قریب پہنچ رہے تھے۔ چشتیاں کے ایک مسافر نے  جو  شریف خاندان کی خواتین کے ساتھ اظہار تعزیت کر رہا تھا نے کہا: میں نے پورا دن سفر کیا ہے تا کہ یہاں  اپنے لیڈر کی اہلیہ کی آخری رسوم میں حصہ  لے سکوں۔  خواتین کے ہال میں  بہت زیادہ لوگ موجود تھے۔ ہال کے دورازے سے اندر اور باہر جانا بہت مشکل تھا  اور  لوگوں کو ایک قدم آگے بڑھانے میں بھی دھکم پیل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ خاندان کی خواتین  ہال کے بیچ میں ایک صوفہ پر موجودد تھیں اور مہمانوں سے تعزیتی پیغامات وصول کر رہی تھیں۔ سابقہ وزیر سائرہ افضل تارڑ، ایم این اے مریم اورنگزیب، اور ایم پی اے حنا بٹ  فیملی ممبران کے ارد گرد حصار بنائے ہوئے تھیں تا کہ لوگوں کوہجوم  بے  قابو نہ ہو جائے جو  خاص طور پر مریم نواز کو دیکھنے کے لیے بے تاب تھے۔

ن لیگ کی خواتین سپورٹرز جن کا تعلق زندگی کے مختلف شعبوں سے تھا  بے صبری سے لائن میں لگ کر انتظار کر رہی تھیں ۔ ایک خاتون نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا: یہ تو دھاگے کی طرح پتلی اور کمزور ہو چکی ہیں۔ ایک دوسری خاتون کا کہنا تھا: ہم انہیں واپس جیل نہیں جانے دیں گے۔

یہ ایک جادوئی ماحول تھا۔ ایک خاتون کہہ رہی تھیں: میں ڈیرہ اسماعیل خان سے آئی ہوں تا کہ قریب سے نہ سہی تھوڑی دور سے ہی مریم بی بی کو ددیکھ سکوں۔ ایک اور خاتون نے اپنا موبائل نکال کر کیمرہ آن کر لیا  باوجود اس بات کے کہ پارٹی قیادت نے مریم نواز کی  تصاویر کی سختی سے ممانعت کی تھی۔ اس خاتون نے کیمرہ کا فلیش آف کیا اور جب مریم کی اس پر نظر پڑی تو انہوں نے اپنے محافظوں کو خبر دار کیا ۔ انہوں نے اس خاتون سے موبائل لے لیا اور تصاویر ڈیلیٹ کر  کے واپس کر دیا۔ سائرہ تارڑ نے خاتون سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: یہ کوئی موقع ہے تصاویر لینے  کا؟ آپ اس سے کیا حاصل کرنا چاہتی ہیں؟ برائے مہربانی اس خاندان کی پریشانی میں اضافہ مت کیجئے۔

چونکہ ایک عوامی شخصیت کی اپنی ایک گلیمرس لائف ہوتی ہے اس لیے یہ دیکھنا آسان تھا کہ اگرچہ  مریم نواز کے لیے یہ بہت دکھ کا لمحہ تھا کہ انہوں نے اپنی ماں کو کھویا تھا اور آخری لمحے اپنی ماں سے مل بھی نہیں پائی تھیں، لیکن اس کے باوجود انہیں اس غم کو محسوس کرنے کا بہت کم موقع  مل سکا۔ یہ سوچنا بھی مشککل تھا کہ وہ اس حالت میں کیا سوچ رہی ہوں گی۔ کیونکہ عوام کی ایک بڑی تعداد ان سے ملنے، ہاتھ ملانے یا ان کے سر پر ہاتھ پھیرنے کی خواہش مند تھی تا کہ اپنے جذبات کے اظہار کر سکیں۔ زیادہ تر وقت مریم نواز خاموش رہیں اور جب کوئی رشتہ دار آتا تو وہ رو پڑتی تھیں۔

مردوں کی سیکشن میں  بھی بہت زیادہ رش تھا۔ ہزاروں افراد اکھٹے ہو چکے تھے اور سابقہ وزیر اعظم کے دیدار کے لیے دھکم پیل کے عمل سے گزر رہے تھے ۔وہ سزا یافتہ قیدی  اور اپنے پسندیدہ لیڈر نواز کو دیکھنا چاہتے تھے جو نیب کی طرف سے دی گئی سزا کاٹ رہے ہیں۔ جب نواز شریف اس ہال میں داخل ہوئے ورکرز ان کی طرف تیزی سے بڑھے  تا کہ ان کی ایک جھلک دیکھ سکیں۔ اچانک اتنی بڑی حرکت سے  نواز شریف نیچے گر گئے  اور ان کے گارڈز نے انہیں گھیر لیا۔ سابقہ وزیر احسن اقبال نے ورکرز کو درخواست کی کہ  وہ پیچھے ہو جائیں لیکن کسی نے نہ سنا اور سب لوگ آگے بڑھنے کے لیے زور لگاتے رہے ۔ ہر طرف سے میاں صاحب، آئی لو یو کے نعرے گھونجنے لگے۔ کچھ لوگ نواز شریف کے بہت قریب پہنچنے میں بھی کامیاب ہو گئے  اور ان کے قریب سے سیلفی بھی لینے لگے۔

وسیم احمد نامی ایک شخص جو ایک پرائیویٹ کالج میں  کمپیوٹر آپریٹر ہیں اور دور دراز گاوں سے تشریف لائے تھے نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: میں شاد باغ سے رات ساڑھے 11 بجے میاں صاحب کو دیکھنے آیا ہوں۔ کئی گھنٹے انتطار کرنے کے بعد میاں صاحب باہر آئے لیکن پھر بھی میں ان کے قریب جا  کر سلام نہیں کر پایا۔  میں نے پورا زور لگایا لیکن ناکام رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے دفتر سے چھٹی لے کر جاتی عمرہ آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا: دوسرے پاکستانیوں کی طرح میں بھی نواز شریف کی حالت دیکھ کر جذباتی ہو گیا۔ ان کی صحت ٹھیک نہیں ہے۔ ہمیں امید ہے وہ بہت جلد رہا ہوں گے۔اس سے قبل پنجاب حکومت نے نواز، مریم اور صفدر کی پیرول کے بارے میں تین الگ الگ آرڈر جاری کیے اور انہیں 5 دن کی مہلت دی تا کہ وہ بیگم کلثوم نواز کی آخری رسومات میں شرکت کر سکیں۔

حکومت کی طرف سے  تینوں قیدیوں کی رہائی کے دوورانیہ میں 12 ستمبر سے 17 ستمبر شام چار بجے تک  توسیع کر دی گئی۔ احکامات میں واضح طور پر ذکر کیا گیا کہ قیدی  اس ددووران  مقررہ جگہ سے  دوسری جگہ پر منتقل نہیں ہو سکتے۔یہ بھی لکھا ہے کہ پولیس افسران  قیدیوں کی حفاظت اور سکیورٹی کے ذمہ دار ہوں گے  اور اس وقت تک ان کے ساتھ رہیں گے جب تک وہ واپس راولپنڈی جیل میں منتقل نہیں ہو جاتے۔  یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پیرول دورانیہ میں واپسی کے سفر کا وقت شامل نہیں ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *