جنوبی و شمالی کوریا کے درمیان’جوہری ہتھیار تلف کرنے کے معاہدے‘ پر دستخط

پیانگ یانگ:  بین الاقوامی مبصرین کی موجودگی میں شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے سربراہان نے جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے پر اتفاق کر لیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق پیانگ یانگ میں جنوبی کوریا کے سربراہ مون جے اِن اور شمالی کوریا کے چیئرمین کم جونگ اُن کے درمیان اہم ملاقات میں خطے کو جوہری توانائی سے پاک کرنے پر اتفاق کرلیا گیا ہے۔ معاہدے پر بین الاقوامی مبصرین کی موجودگی میں دستخط کیے گئے۔

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن امريکا کی جانب سے چند اقدامات اور يقين دہانيوں کی صورت ميں غيرملکی مبصرين و معائنہ کاروں کی نگرانی ميں ميزائلوں کی تياری اور جوہری توانائی کی تنصيبات کو مستقل طور پر بند کرنے پر راضی ہو گئے ہیں۔

دونوں ممالک نے جاپان میں ہونے والے ’سمر اولمپکس 2020 ‘ میں تعاون کرنے پر اتفاق کیا ہے جب کہ 2032 کے سمر اولمپکس کی مشترکہ میزبانی کے لیے بھی دونوں ممالک نے موثر لائحہ عمل اختیار کرنے پر اتفاق کیا۔

علاوہ ازیں دونوں ممالک کے درمیان ریل وے سروس کے قیام، صحت کے شعبے میں تعاون اور کوریا جنگ کے باعث منقسم خاندانوں کو ملانے سے متعلق معاہدوں پر بھی دستخط ہوئے۔

ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے حریف ممالک کے درمیان ’ملٹری معاہدے‘ کو خطے میں جاری کشیدگی میں کمی اور قیامِ امن کے لیے اہم دستاویز قرار دیتے ہوئے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔

جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن نے ملاقات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے طویل جنگ کے خاتمے کا آغاز ہوگیا ہے جس کے لیے شمالی کوریا اپنا نیوکلیئر کمپلیکس ‘ہونگ بیون’ بھی بند کر دے گا۔

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے جنوبی کوریا کے صدر کی  آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی رواں برس جنوبی کوریا کا دورہ کریں گے اور دونوں ممالک جزیرہ نما کوریا میں امن اور استحکام کے لیے مشترکہ کاوشیں کرتے رہیں گے۔

اس معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی طائفے کے تبادلے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ جس کے تحت شمالی کوریا کا ’آرٹ ٹروپ‘ اگلے ماہ جنوبی کوریا میں پر فارم کرے گا۔

واضح رہے کہ جنوبی کو ریا کے سربراہ مون جے اِن گزشتہ روز تین روزہ دورے پر اپنی اہلیہ کے ہمراہ شمالی کوریا پہنچے اور کم جونگ اُن سے ملاقات کی۔ دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان آج بھی ملاقات طے ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *