وہم

Yasir Pirzadaمیں آج کل وہم کی بیماری میں مبتلا ہوں ۔ کچھ کھانے لگتا ہوں تو وہم آتا ہے کہیں اس کھانے میں زہریلی شے کی ملاوٹ نہ ہو، بال کٹوانے جاتا ہوں تو وہم آتا ہے کہیں نائی کے اوزاروں سے مجھے کوئی بیماری نہ لگ جائے، بازار سے دہی بڑوں کی پلیٹ منگواتا ہوں تو وہم آتا ہے کہیں ہیپاٹائٹس بی نہ ہو جائے ، ہوائی جہاز میں سفر کرتا ہوں تو وہم آتا ہے کہ یقینا یہی وہ جہاز ہوگا جو تکنیکی خرابی یا پائلٹ کی غفلت کی وجہ سے کریش ہو جائے گا ، ڈاکٹر سے کسی معمولی بیماری کی دوا لینے جاتا ہوں تو وہم آتا ہے کہیں ڈاکٹر کسی مہلک بیماری کا مژدہ نہ سنا ڈالے ، اور اگر ایسا نہ بھی ہو تو کہیں اس کا کمپاؤڈر کوئی ایسی غلط دوا نہ بنا دے جو زہر بن کر میرے خون میں شامل ہو جائے،کسی شاہراہ پر گاڑی چلانے لگتا ہوں تو وہم آتا ہے کہیں میری گاڑی کی زد میں کوئی اسکول جاتا ہوا بچہ نہ آجائے ،بجلی کا سوئچ آن کرتا ہوں تو وہم آتا ہے کہیں کرنٹ نہ لگ جائے ،کسی بھرے پرے بازار میں خریداری کرنے جاؤں تو وہم آتا ہے کہیں وہاں بم دھماکہ نہ ہو جائے،جمعہ کی نماز پڑھنے جاؤں تو وہم آتا ہے کہیں مسجد سے نکلتے ہوئے مجھے کوئی مخالف مسلک کا سمجھ کر گولی سے نہ اڑا دے،کبھی سفر پر جاؤں تو وہم آتا ہے کہیں میری نقدی اور پاسپورٹ گم نہ ہو جائیں،گھر میں بیٹھا ہوں تو وہم آتا ہے کہیں ایک دم سے زلزلے کے نتیجے میں چھت میرے سر پر نہ آ گرے،بنک میں روپے جمع کرواؤں تو وہم آتا ہے کہیں یہ بنک ہی نہ ڈوب جائے، خاکی لفافے میں کوئی خط موصول کرتا ہوں تو وہم آتا ہے کہ ہو نہ ہو یہ نوکری سے برخواستگی کا پروانہ ہوگا…اور تو اور جس لیپ ٹاپ پر میں یہ کالم ٹائپ کر رہا ہوں مجھے وہم ہے کہ کالم مکمل کرنے کے بعد کہیں اس لیپ ٹاپ کی ہارڈ ڈسک نہ اڑ جائے اور میرا سارا ڈیٹا اللہ کو پیار ا نہ ہو جائے!
خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میری تمام تر منفی سوچ کے باوجود ان تمام توہمات میں سے آج تک ایک بھی وہم حقیقت میں نہیں ڈھل سکا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو آپ اس وقت میرا کالم پڑھنے کی بجائے مجھ پر لکھے گئے کالم پڑھ رہے ہوتے۔اس سے پہلے کہ آپ مجھے اس بابت کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرنے کا مشورہ دیں میں وہ روداد بھی آپ کے گوش گذار کر دیتا ہوں ۔اس ضمن میں یہ فقیر ایک نہیں بلکہ دو سائیکو لوجسٹ حضرات سے مل چکا ہے۔ پہلے تو انہوں نے میری بات سننے کی بجائے ملک و قوم کا رونا شروع کر دیا اور کہنے لگا کہ یار تم خود اچھے خاصے سمجھدار انسان ہو ، ہماری قوم نفسیاتی مریض بنتی جا رہی ہے ، تم اس بارے میں کچھ لکھتے کیوں نہیں ؟ میں نے جواب میں اس سائیکو لوجسٹ کا ماتھا چوما (بے حد گرم تھا) اور اس سے لکھنے کا وعدہ کر کے واپس چلا آیا۔دوسرا ماہر نفسیات خوش قسمتی سے مجھ سے واقف نہیں تھا ، اس نے میری پریشانی سننے کے بعد مجھے چند خواب آور گولیاں کھانے کے لئے دیں اور ساتھ میں بین الاقوامی قسم کا مشورہ دیا کہ ”آپ ٹینشن نہ لیا کریں “۔میرا دل کیا کہ جواب میں کہوں ، ڈاکٹر صاحب آج میں آپ کو فیس نہیں دوں گا ،آپ بھی اس بات کی ٹینشن نہ لیجئے گا ۔
پچھلے دنوں میں چین میں تھااور وہم کی اس بیماری نے ادھر بھی میرا پیچھا نہیں چھوڑا۔اتفاق سے وہاں مجھے ان کی ایک بہت بڑی عبادت گاہ کی زیارت کا اتفاق ہوا جہاں بھکشو بکثرت موجود تھے۔ہمارے ٹور گائیڈ نے بتایا کہ بھکشو اللہ لوگ ٹائپ ہوتے ہیں اور تصویر بنوانا یا غیرضروری گفتگو کرنا بالکل پسند نہیں کرتے ۔بھکشوؤں کے بارے میں میرا اپنا بھی یہی خیال تھا کہ یہ تارک الدنیا قسم کے بندے ہوتے ہیں جنہیں دنیاوی چکا چوند سے کوئی غرض نہیں ہوتی ۔ اس عبادت گاہ کے ایک کمرے میں میرا ٹاکرا ایک بھکشو سے ہو گیا ، کچھ لوگ اس کے سامنے دوزانو بیٹھے تھے اور بھکشو ان پر کچھ پڑھ کر پھونک رہا تھا، ان لوگوں کی نظریں نیچی تھیں اور ان کے انداز میں بلا کا احترام تھا، تھوڑی دیر بعد یہ سحر انگیز منظر اپنے اختتا م کو پہنچا اور بھکشو نے اپنا ”عمل“ ختم کر کے انہیں چلے جانے کا اشارہ کیا، تمام لوگ الٹے پاؤں واپس ہو لئے۔ اس دوران بھکشو کی نظر مجھ پر پڑی ،میں سر کے اشارے سے اجازت لے کر اندر داخل ہوا ،سوچا اچھا موقع ہے کیوں نہ اس بھکشو سے اپنے وہم کا علاج کرواؤں ، سائنس تو ناکام ہو چکی ممکن ہے یہ نیک صورت بھکشو ہی کوئی دم کر دے ۔ میں نے بھکشو کو اپنا مسئلہ بتایا تو اس نے پاس رکھی ہوئی صراحی میں ہاتھ ڈال کر کچھ پھونکا اور پھر پانی کا چھینٹا میرے منہ پر مارتے ہوئے مجھے جانے کا اشارہ کیا۔میں حیرت سے باہر نکل آیا۔ اچانک مجھے وہم ہوا کہ پوچھوں تو سہی اس صراحی میں سادہ پانی تھا یا کسی محلول کی آمیزش،یہ سوچ کر میں دوبارہ بھکشو کے کمرے کی طرف مڑاتوکیا دیکھتا ہوں کہ بھکشو صاحب آئی فون سے اپنی فوٹو اتارنے میں مشغول ہیں!
سائنس اور روحانیت کی تو آپ نے سن لی ، اب حکمت کی بھی سن لیں ۔حکیم صاحب نے جب میرا مسئلہ سنا تو فرمانے لگے ساری خرابی نظام ہضم کی ہے جس کی وجہ سے مجھے رات کو ڈراؤنے خواب آتے ہیں اور دن میں یہ خواب طرح طرح کے وہم بن کر میرا پیچھا کر تے ہیں۔ بظاہر حکیم صاحب کی یہ بات میرے دل کو لگی چنانچہ ان کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے میں نے ان کے تجویز کردہ خمیرے کھانے شروع کر دیئے ، نتیجہ اس کا یہ نکلاکہ جن بیماریوں کے بارے میں مجھے فقط وہم تھا کہ کہیں وہ مجھے لاحق نہ ہو جائیں ،ان میں سے ایک دو کے اثرات باقاعدہ نمودار ہونا شروع ہو گئے۔آج کل وہ حکیم صاحب ایک اخبار میں کالم لکھتے ہیں۔
سب سے صائب مشورہ مجھے ایک ناکام سیاست دان نے دیا ،میرے توہمات کی فہرست سننے کے بعد اس نے ایک لمبی گہر ی سانس لی اور بولا ”تم خوش نصیب ہو کہ یوں وہم میں مبتلا رہتے ہو،تمہارا یہ وہم تمہیں احتیاط پسند بنادے گا اور یوں تم زندگی میں کامیاب رہو گے… مجھے دیکھو، میں بالکل وہم نہیں کرتا اور شائد اسی لئے ناکام ہوں!“ میں نے حیرت سے اس کی شکل دیکھی اور کہا” ذرا اپنی اس بات کی وضاحت کیجئے۔“ اس پر وہ مرد عاقل یوں گویا ہوا” بات بڑی سادہ ہے ، کیا تم اپنے حکمرانوں کو نہیں دیکھتے ، انہیں کیسے کیسے وہم اور خوف گھیرے رہتے ہیں …طالبان کے خلاف آپریشن کیا تو عوام خلاف ہو جائیں گے، یو ٹیوب پر سے پابندی ہٹائی تو مذہبی طبقہ دھڑن تختہ کر دے گا ،مردم شماری کروائی تو فلاں جماعت حکمران اتحاد سے علیحدہ ہو جائے گی ،فرقہ وارانہ تنظیموں پر کریک ڈاؤن کیا تو وہ ہمیں براہ راست نشانہ بنائیں گے … اپنے اسی خوف اور وہم کی وجہ سے وہ لمبے عرصے تک ہم پر حکومت کرتے ہیں چاہے وہ کچھ ڈیلیور کریں یا نہ کریں …ان حکمرانوں کو یہ وہم ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے عوام کی خواہش کے برعکس فیصلے کئے تو عوام انہیں اگلی مرتبہ منتخب نہیں کریں گے ،یہی وجہ ہے کہ حکمران عوام کے مفاد میں فیصلے کرنے کی بجائے ان کی خواہش کے مطابق فیصلے کرتے ہیں اور نتیجے میں عوام کے مسائل بھی جوں کے توں رہتے ہیں اور حکمرانوں کے چہرے بھی نہیں بدلتے۔جس دن حکمران اپنے وہموں سے پیچھا چھڑوا کر عوام کی خواہش کی بجائے ان کے مفاد میں فیصلے کرنے کی ہمت کریں گے ،اس دن انہیں کسی سائیکو لو جسٹ ،بھکشو یا حکیم کی ضرورت نہیں پڑے گی!“

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *