حلقۂ دام

محمد طاہرM tahir

حلقہ 246 کے نتائج نے اُس حلقۂ دامِ خیال کو بے نقاب کیا جو کُل پاکستان پر محیط ہے۔انتخابات کی ایک سائنس ہے جسے سوائے ایم کیو ایم کے کوئی نہیں جانتا۔ تمام سیاسی جماعتوں کے انتخابی سیل صرف انتخابات میں بروئے کار آتے ہیں مگر ایم کیو ایم سال کے بارہ مہینے اور مہینے کے تیس دن اس انتخابی سیل کو متحرک رکھتی ہے۔ جو سیاسی جماعت پانچ سال اپنی سرگرمیوں کو انتخابی سیل کے محور سے دیکھتی ہو اُس کے سیاسی دعوے بے وقعت کیسے قرار دیئے جاسکتے ہیں؟ چاہے وہ کتنے ہی بُرے کیوں نہ لگتے ہوں!
ایم کیو ایم کی اس صلاحیت کا متعدد بار اظہار ہو چکا ہے کہ وہ اپنے خلاف ہونے والی ہر سرگرمی کو اپنے لئے مفید بنا لینے پر قادر ہے۔چنانچہ ایم کیو ایم نے کراچی جراحت (آپریشن) کو اپنے لئے سودمند بنایا۔ پھر مخالف امیدواروں کی انتخابی مہم کو اپنے لئے سازگار کیا۔ایک سیاسی جماعت کے طور پر وہ تائید، خوف، کشش اور تعصب کی تمام زیرگردش لہروں کو اپنے حق میں متشکل کرنے کی بے پناہ استعداد رکھتی ہے۔ اس انتخاب میں ایم کیو ایم نے یہ کامیابی سے کر دکھایا۔اس کے برعکس دیگر جماعتیں صرف ایم کیو ایم بیزاری کی رو کو متشکل کرنے میں ناکام رہی۔ یہاں تک کہ وہ ایم کیو ایم بیزار لوگوں کو یہ تک باور کرانے میں ناکام رہیں کہ یہ بیزاری کسی نتیجہ خیز روپ میں ڈھل سکتی ہے۔ دیگر جماعتوں کی اپنی ناکامی سے بڑھ کر خطرناک بات یہ ہے کہ یہ بیزار طبقہ اس سے مایوس ہو جائے کہ وہ کوئی نتیجہ خیز قوت بن سکتے ہیں ۔ اس کا فائدہ صرف ومحض ایم کیوایم کو ہوگااور نقصان دیگر جماعتوں سے کہیں زیادہ خود کراچی کو ہوگا۔ یہ حادثہ ہو چکا ہے۔
ایم کیو ایم مروجہ سیاست کے تمام ہنر نہ صرف جانتی ہے بلکہ اِسے کامیابی سے آزماتی ہے۔ ایم کیو ایم دراصل عملی سیاست کا نتیجہ خیز چہرہ ہے۔ایم کیو ایم نے اس انتخاب میں ناراض لوگوں سے معافیاں مانگیں۔ اپنے پُرانے رابطے بحال کئے۔ اور تعلقات کی کچھ نئی مساواتیں استوار کی۔تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان اس پر یہ فرماتے ہیں کہ ایم کیوا یم نے پہلی بار انتخاب لڑا ہے۔ ایم کیو ایم نے ہر بار انتخاب لڑا ہے اور جب جیسے کامیابی مل سکتی ہے حاصل کی ہے۔یہ کسی سیاسی جماعت کی کامیابی ہے کہ وہ اپنی حکمتِ عملی کو ہر قسم کے حالات سے ہم آہنگ رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ یہ طعنے اور ہار کے جواز کا نہیں۔ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ہے۔ مگر عمران خان ایک اور طرح کی مخلوق واقع ہوئے ہیں۔ ایم کیو ایم کی سب سے کامیاب انتخابی مہم عمران خان نے چلائی۔ اور ایم کیو ایم کی کامیابی کو سب سے زیادہ چمک دار اُنہوں نے بنایا۔
تحریکِ انصاف کی انتخابی مہم نہایت بے ہنگم تھی۔ اور کراچی کی نفسیات سے مکمل ناواقفیت کی آئینہ دار تھی۔ بدقسمتی سے اُن کے پاس بھی کراچی کی قیادت کے لئے متوسط درجے کے لوگ نہیں۔ بلکہ طبقۂ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں۔جو متوسط درجے کے لوگوں کی نفسیات کو قطعی طور پر نہیں جانتے۔ عمران اسماعیل اور فیصل واڈا کی گفتگو میں مخالف کے لئے گفتگو میں جو تحقیر اور تذلیل ہے وہ اُنہیں کسی کی بھی نظر سے گرانے کے لئے کافی سے بھی زیادہ ہے۔ عمران خان نے نائن زیرو اور جناح گراونڈ کو جیسے سومنات کا مندر بنا کر پیش کیا اور اپنے تئیں خود اس کے محمود غزنوی بن گئے۔ الطاف حسین کے سامعین کو زندہ لاشیں کہا۔ کرا چی میں اپنی تقریر میں الطاف حسین کی تقریر کے انداز کی بھد اڑائی۔ اُنہیں یہ معلوم ہی نہیں کہ اس سب کا مطلب کراچی میں کیا ہے اور پھر عزیز آباد کے حلقے میں اس کی تشریح کیا ہو رہی ہے۔ایسے ایک سے زیادہ لوگ اس خاکسار کو اسی حلقے سے ملے جو یہ کہتے پائے گئے کہ ہم الطاف حسین کی تقریر سن کر تو کبھی اُن کو ووٹ نہ دیتے ،مگر عمران خان کی تقریر سن کر ضرور ایم کیو ایم کو ووٹ دیں گے۔ پی ٹی آئی نے جس انداز میں ایم کیو ایم کو چھیڑا ، اُس نے مہاجر عصبیت کو بیدار کر دیا۔ الیکشن کے دن راقم نے اس حلقے میں جتنابھی وقت گزارا، خود کو 1988 کے ماحول میں پایا۔عام شہریوں نے عمران خان اور کراچی جراحت کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ پایا اور یہ سمجھا کہ فوج اور تحریکِ انصاف اُن کو ایک ساتھ شکار کرنے نکلے ہیں۔ ایم کیو ایم نے اس تصور کو نہایت عمدگی سے عام ذہنوں میں راسخ کیا۔رینجرز اور عمران خان نے مل کر1988 کے مردہ ’’ مہاجر کارڈ‘‘کو پھر سے زندہ کر دیا۔
عمران خان اور اُن کی جماعت یہ کیوں کہہ رہی ہے کہ اُنہوں نے جماعتِ اسلامی سے زیادہ ووٹ لئے۔ وہ یہ کیوں نہیں کہہ رہے کہ اُنہوں نے ایم کیو ایم سے دراصل واضح شکست کھائی اور یہ پچھلے انتخابات سے زیادہ خطرناک تھی۔ گزشتہ عام انتخابات میں تحریک انصاف نے یہاں سے 32048 ووٹ لئے تھے۔ صرف اتنا ہی نہیں تھا بلکہ کراچی کے کسی بھی انتخابی حلقے سے زیادہ یہاں تحریکِ انصاف کے ووٹ مسترد کر دیئے گئے تھے۔ حلقہ 253 میں بھی بلّے کے ساتھ یہی ہوا تھا مگر حلقہ 246 میں سب سے زیادہ بارہ ہزار سے زائد ووٹ مسترد ہوئے تھے۔تحریک انصاف نے ضمنی انتخاب میں اب 24821 ووٹ لئے ہیں۔ یہ درست بات نہیں کہ تحریکِ انصاف کے صرف 7227 ووٹر نہیں نکلے ۔ یہ اس سے زیادہ کی بات ہے۔اگر پچھلے انتخابات میں مسترد ہونے والوں ووٹوں کو شامل کر لیا جائے تو اس دفعہ تحریکِ انصاف کے لئے باہر نکلنے والوں کی تعداد میں انیس ہزار سے زائد کی کمی آئی ہے۔ظاہر ہے کہ یہ کوئی معمولی فرق نہیں ہے۔ عمران خان اس کاجواب دینے کے بجائے قوم کو اُلٹی خوراک کھلا رہے ہیں کہ پہلی دفعہ ایم کیو ایم نے انتخابات لڑا ہے۔ یہ تو ایم کیو ایم کی خوبی ہوئی کہ وہ دھاندلی سے ہی نہیں’’ شفاف ‘‘ انتخابات سے بھی اپنے حریفوں کو ہرانے کی بے پناہ صلاحیت رکھتی ہے۔دراصل تحریکِ انصاف اپنے ووٹروں کو تو باہرنکال نہیں پائی مگر اُس نے ایم کیو ایم کے ووٹر کو متعصبانہ بنیادوں پر کھڑا کرنے میں ایم کیو ایم کی پوری مدد کی۔عمران خان کے الطاف حسین کے لئے ’’سائیکو‘‘ قسم کے الفاظ نے دراصل اُلٹا اثر کیا۔کسی نے غور نہیں کیا کہ ایم کیو ایم نے انتخاب کے دن کسی اور کو نہیں صرف تحریکِ انصاف کے لوگوں کو کیوں نشانا بنایا؟یہ بات جتنی جلدی احاطۂ ادراک میں آجائے تو بہتر ہے کہ عمران خان قومی مسائل کا حل نہیں بلکہ خود ایک بڑا مسئلہ ہیں۔اس تجزیئے کے دوپہلو ابھی تک تشنہ تحریر ہے کہ جماعتِ اسلامی کسی نوع کی کارکردگی کیوں نہیں دکھا سکی اور کراچی میں عسکری ذہن کا حل کتنا نتیجہ خیز ثابت ہو سکا ہے؟اسے آئندہ پر اُٹھا رکھتے ہیں۔
یہاں اس ضمنی انتخاب کا ایک ضمنی پہلو یہ پیشِ نظر رہے کہ انتخابات کی سائنس ایم کیو ایم نے پوری طرح قابو کر لی ہے۔ ایم کیو ایم 1992 کے بعد وقفوں وقفوں سے مشکلات سے دوچار رہیں۔ جسے وہ ریاستی جراحت(آپریشن) سے تعبیر کرتے رہے۔ اس عرصے میں اُنہیں جس راز سے پوری طرح آگاہی ہوئی وہ انتخابات پر گرفت سے متعلق تھا۔ کسی سیاسی جماعت کا ایک انتخابی قوت ہونا کیا معنی رکھتا ہے اس کا پوری طرح اندازا ہونے کے بعد ایم کیو ایم نے ہر انتخاب کو اپنے لئے پہلے سے بہتر بنایا ہے۔ ذرا غور کیجئے!ایم کیو ایم نے2002 کے انتخابات میں یہاں سے 53134 ووٹ لئے تھے۔اس کے بعد ایم کیو ایم کو مشرف کا ایک ہموار دور میسر آیا۔جس میں اُنہوں نے انتخابات کی تمام حرکیات کو اپنے حق میں ہموار کر لیا۔چنانچہ 2008 کے اگلے انتخابات میں ایم کیو ایم نے یہاں سے 186933 ووٹ بٹورے تھے۔ایم کیوایم 2013 کے انتخابات میں بھی 139386 ووٹوں پر کھڑی تھی۔اور اب نبیل گبول کی طرف سے پراسرار طور پر نشست چھوڑنے کے بعد ہونے والے ضمنی انتخاب میں بھی ایم کیو ایم نے 95644 ووٹ سمیٹے ہیں۔ یہ ہندسے ازخود بہت سی وضاحتیں کرتے ہیں۔ اور ایم کیو ایم کی اُس عملی ذہانت کا اظہار کرتے ہیں جو الیکشن کے اسرارورموز کو سمجھنے میں اُنہوں نے اب تک ظاہر کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے دوپہر تین بجے عین انتخابات کے دوران اپنی تقریر میں کارکنان کو مبارک باد دے دی تھی۔ وہ تب ہی اپنی فتح کے واضح اعدادوشمار کا پوری طرح جائزہ لے کر کارکنان سے با ت کر رہے تھے۔ جب تک ایم کیو ایم کی حکمت عملی کی حرکیات کا پوری طرح اندازا نہیں کیا جاتا اور عملی طور پر کراچی میں ایک مسلسل ریاضت نہیں کی جاتی ایم کیو ایم کے خلاف جذبات کو نتیجہ خیز طور پر متشکل نہیں کیاجاسکتا۔نعرے بازی ایک اور طرح کی چیز ہے۔ جو دوسروں سے زیادہ خود کو دھوکا دیتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *