چینی لیزر سیٹلائٹ جو آبدوزوں کیلئے بھی ’موت کا پروانہ‘ بن سکتا ہے

بیجنگ: چینی ماہرین ایک ایسے سیٹلائٹ پر کام کررہے ہیں جو لیزر استعمال کرتے ہوئے سمندری سطح کے نیچے چھپی دشمن کی آبدوزوں کا سراغ لگا سکتا ہے۔

اس منصوبے کو پروجیکٹ گوان لین کا نام دیا گیا ہے۔ چینی خبررساں اداروں کے مطابق مجوزہ سیٹلائٹ طاقتور لیزر سے مسلح ہوگا اور اسے خصوصاً پانی سے 500 میٹر گہرائی میں آبدوزوں کی شناخت کےلیے تیار کیا گیا ہے۔ دوسری جانب سیٹلائٹ کو سمندری تحقیق کےلیے بھی استعمال کیا جاسکے گا۔

لفظ گوان لین کا مطلب ’بڑی لہروں پر نظر رکھنے والا‘ کے ہیں۔ اس ضمن میں ایک تجربہ گاہ بھی قائم کی گئی ہے۔ تاہم ویب سائٹ کے مطابق، منصوبے کا مقصد چینی سمندروں کی نگرانی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ سیٹلائٹ کی تیاری میں 20 سے زائد ادارے دن رات مصروف ہیں۔

ایک سائنسداں ’سونگ ژیاقوانگ‘ کے مطابق سیٹلائٹ سے سمندروں کو ذیادہ شفافیت سے دیکھا جاسکے گا اور اس طرح ہر شے تبدیلی سے دوچار ہوگی۔ اگرچہ عام روشنی سمندر کی 200 میٹر گہرائی تک پہنچتی ہے لیکن لیزر کی طاقت اس کے بہت اندر تک دیکھ سکتی ہے۔

لیزر آبدوز سے ٹکرائے گی اور واپس سیٹلائٹ تک آئے گی ۔ اس کے بعد ڈیٹا کو آبدوز کی تھری ڈی شکل، جسامت، رفتار اور دیگر معلومات کو افشا کرنے کےلیے استعمال کیا جاسکے گا۔ اس ضمن میں روس اور امریکہ نے بھی بہت کام کیا ہے۔ امریکی ادارے ڈارپا نے اس ضمن میں ایک آلہ بنایا تھا جو سمندری پانی کی 200 میٹر گہرائی تک دیکھ سکتا تھا۔

امریکی اور خود چینی ماہرین کا بھی خیال ہے کہ لیزر کے ذریعے 500 میٹر گہرائی تک کسی آبدوز کو دیکھنا ممکن نہیں لیکن بعض چینی ماہرین نے کہا ہے کہ اس کےلیے ایک بالکل نئی ٹیکنالوجی وضع کی گئی ہے جس کی کوئی خاص تفصیل جاری نہیں کی گئی۔

خیال ہے کہ سیٹلائٹ پر مختلف رنگوں اور شدت کی لیزر ہوگی اور ایک مائیکروویو ریڈار بھی نصب ہوگا۔ یہ سب مل کر اس ٹیکنالوجی کو قابلِ اعتبار بنائیں گے اور سمندری ٹارگٹ کا بہتر اندازہ لگانا ممکن ہوسکے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *