سندیپ کور، مسکراہٹ کے ہتھیار سے ڈکیتی کرنے والی مجرم

kaurمغربی کیلیفورنیا کے ایک بینک پر جب کیشیئر نے ایک غیرمسلح بینک ڈکیت سے چٹ وصول کی، تو اس پر تحریر تھا ’’ٹک ٹاک، میرے پاس ایک بم ہے۔‘‘
اس کیشیئر نے دیکھا کہ اس ڈکیت کے پاس کوئی غیرمعمولی چیز نہیں تھی، لیکن جب اس کو معلوم ہوا کہ یہ ڈکیٹ ایک پچیس برس کی سکھ نرس ہے، تو اس کو شدید حیرت ہوئی۔یہ سندیپ کور تھیں، جنہوں نے چھ جولائی 2014ء کو اپنا مشن پورا کرنے کے لیے مشین گن کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ انہوں نے ماسک بھی نہیں پہنا، بلکہ محض اپنی مسکراہٹ سے یہ کام مکمل کیا۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سندیپ کور کو امریکا میں چار بینکوں میں ڈکیتی کی مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں 66 مہینے قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
سات برس کی عمر میں وہ ہندوستانی پنجاب سے کیلی فورنیا آئی تھیں، اور 19 برس کی عمر میں انہیں نرس کا لائسنس ملا، پھر وہ ہر مہینے چھ ہزار ڈالر سے زیادہ کمانے لگیں۔ لیکن گڑبڑ اس وقت سے شروع ہوئی، جب وہ اکیس برس کی عمر میں لاس ویگاس جاپہنچی اور جوئے کی لت کا شکار ہوگئیں۔
اس کے فوراً بعد ہی انہوں نے نرس کا پیشہ ترک کردیا ۔ سندیپ کور کا کہنا ہے کہ ’’میں نے اپنا کام چھوڑ دیا۔ میں اپنے کام پر توجہ مرکوز کرنے سے قاصر تھی۔‘‘
لیکن مارچ 2012ء میں ان کی جمع پونجی ختم ہوگئی اور وہ مقروض ہوگئیں۔ اس کے بعد انہوں نے سود پر رقم حاصل کی اور اپنے نقصان کی تلافی کرنے کی کوشش کی۔
سندیپ کور لاس ویگاس سے فرار ہونا پڑا، اور قرض دینے والوں سے بچنے میں کامیاب رہیں، تاہم انہوں نے مئی 2014ء میں انہیں پکڑ لیا۔بالآخر انہیں بینک ڈکیتی کی راہ دکھائی دی، اور انہوں نے ہتھیار کے بغیر ڈکیتی کا پلان تیار کیا، وہ اپنے پہلے اقدام میں 21 ہزار دو سو ڈالرز کے ساتھ فرار ہونے میں کامیاب رہیں۔لیکن قرض کی ادائیگی کے لیے یہ رقم کافی نہیں تھی، چنانچہ انہیں مزید ڈکیتیوں پر مجبور ہونا پڑا۔
ایک امریکی بینک کے مینیجر نے جب حکام کو خبردار کیا تو ان کی ڈکیتیوں کا یہ سلسلہ اکتیس جولائی 2014ء کو ختم ہوگیا۔پولیس اہلکاروں نے ان کی تلاش میں تقریباً 26 میل کا سفر کیا، تین ریاستوں اور تین ٹائم زونز کو پار کیا اور 130 میل فی گھنٹے کی رفتار کے ساتھ ان تک پہنچ گئے اور وہ پکڑی گئیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *